Friday, August 18, 2017

پاکستان کے پاس ہارپون میزائل

پاکستان نیوی کے پاس ویسے تو کئی طرح کے اینٹی شپ میزائیل ہیں پر ہارپوں بلوک-1 اور بلوک-2 میزائیل ایک طرح سے خطرناک مکا ہے دشمن کے لیے ۔
پاکستان نیوی تین طرح کے ہارپون میزائیل استمال کرتی ہے
AGM-84:1جو کہ جہازوں کے پلیٹ فارم سے استمال کیا جاتا ہے
RGM-84:2جو کہ بحری جہازوں سے استمال کیا جاتا ہے



UGM-84:3جو کہ ہماری سب میریینز سے استمال کیا جاتا ہے

. اسی کی دھائی میں پاکستان نیوی نے کم و بیش 180 ہارپون بلوک-1 میزائل خریدے تھے
دو ہزار پانچ میں پاکستان نیوی نے 180 ملین ڈالر کا ایک سودا کیا جس میں 40 عدد اے جی ایم -84 ایل اور 20 عدد آر جی ایم -84 ایل بلوک-2 ہارپون میزائیل خریدے
مکڈونلڈز ڈگلس کمپنی کا بنایا یہ میزائیل پاکستان نیوی نےدوبارہ 2006 بلوک-2 میزائیلوں کا سودا کیا ۔ 370 ملین ڈالر کی اس ڈیل میں پاکستان نے 130 میزائیل جو کہ 50 عدد یو جی ایم اور 50 عدد آر جی ایم اور 30 عدد اے جی ایم ہارپوں خریدے۔ ساتھ میں اس میزائیل کے 5 کمانڈ سینٹرز اور 115 میزائیل کنتینرز اور ٹریننگ-سپورٹ اور سپئیر پارٹس بھی اس ڈیل میں شامل تھے –
سمندر کی سطح کے بالکل قریب اڑنے والے اس میزائیل کو ایک طرح کا جہاز کہا جا سکتا ہے اس کی کی رینج 125 کلم ہے اور یہ 550 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نیچی پرواز کرتے ہوئے دشمن کے جہازوں کو خآموشی سے جا لیتا ہے ۔پاکستان نیوی اپنے جہازوں پی -3 سی ٹائیپ-21 بحری جہازوں اور آگوسٹا سب میریینز سے اسے استمال کرتا ہے ۔سمندر کی سطح کے بالکل قریب اڑنے والے اس میزائیل کو ایک طرح کا جہاز کہا جا سکتا ہے اس کی کی رینج 125 کلم ہے اور یہ 550 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نیچی پرواز کرتے ہوئے دشمن کے جہازوں کو خآموشی سے جا لیتا ہے ۔پاکستان نیوی اپنے جہازوں پی -3 سی ٹائیپ-21 بحری جہازوں اور آگوسٹا سب میریینز سے اسے استمال کرتا ہے ۔

No comments:

Post a Comment