Monday, August 21, 2017

مشرقی پاکستان سے فاٹا تک


کہتے ہیں: ’’عقلمند لوگ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں لیکن بے وقوف اپنی غلطیوں سے ‘‘ لیکن میرے خیال میں یہ محاورہ نا مکمل ہے کیونکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے بھی نہیں سیکھتے اور وہ ہیں ہم پاکستانی۔ہم پہلے ہی اسی قسم کی ایک جنگ سے گزر چکے ہیں جو ہمیں اب لڑنی پڑ رہی ہے ۔ موجودہ دور میں اتنا بڑا صدمہ شاید ہی کسی قوم نے برداشت کیا ہو جتنا ہم نے1971میں کیا لیکن آج قوم کے کسی بھی نوجوان سے پوچھ لیں کہ جنگ مشرقی پاکستان کی وجوہات کیا تھیں اور ہم یہ جنگ کیوں ہارے ۔ شاید ہی کوئی اسکا جواب دے پائے۔ آج اس جنگ کو 43 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ سوال آج بھی تشنہ ہے۔ہماری نئی نسل اس پورے واقعے سے لا تعلق نظر آتی ہے کیونکہ اُسوقت ہم نے اپنی ناکامی کی وجوہات ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیں اور یوں ہماری تاریخ کا سب سے اہم واقعہ مسخ ہو گیا جس وجہ سے نوجوان نسل تک اصل واقعات منتقل ہی نہ ہو سکے جبکہ ہمارے مقابلے میں بنگلہ دیش نے اس جنگ کو نہ صرف مستقل طور پر محفوظ کیا بلکہ اسے اپنی نئی نسل تک مستقل طور پر منتقل کرنے کا بھی بندوبست کیا۔بنگلہ دیشیوں نے اس ساری جنگ کو آزادی کے نام سے میوزیم قائم کر کے اس میں محفوظ کر لیا۔اس میوزیم میں اُس دور کے تمام ہولناک مناظر اس انداز میں سجائے گئے کہ انہیں دیکھ کر ہی نوجوان بنگالی نسل کا خون کھول اٹھے۔پاکستان آرمی سے چھینے گئے ہتھیار اور جدوجہد آزادی کے مناظر سجائے گئے۔ جنگ اور جدوجہد آزادی پر 15 ضخیم کتب لکھی گئیں جن کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔اس سے کم از کم یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ نوجوان بنگالی نسل کس حد تک پاکستان سے متنفرہو گی۔
------------------------------------------
پھر بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی ۔جنگ آزادی اور جدوجہد آزادی کا مضمون کلاس اول سے ایم اے تک نصا ب میں شامل ہے۔اس مضمون پر ایم اے اور ڈاکٹریٹ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق جنگ آزادی کا مضمون بنگلہ دیش ملٹری اکیڈمی میں بھی پڑھایا جاتا ہے اور سٹاف کالج میں بھی خصوصاً ’’ہلی کی جنگ‘‘ جس میں میجر محمد اکرم نشانِ حیدر شہید ہوا تھا ۔2006میں بنگلہ دیش لیفٹیننٹ مطیع الرحمن کی لاش بھی پاکستان سے لے گیا ۔اُسے ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز سے نوازا اور راجشاہی ائیر بیس اس آفیسر کے نام منسوب کی گئی ۔ یہ وہ آفیسر تھا جس نے فلائیٹ پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کا طیارہ اغواہ کیا تھا۔ اسوقت تک بنگلہ دیش کا وجود نہیں تھا۔یہ پاکستان ائیر فورس کا آفیسر تھا اور اس لحاظ سے وہ پاکستان کا غدار تھا ۔موجودہ حالات پر نظر ڈالیں بنگلہ دیش ہر وہ یادگار مٹا رہا ہے جس کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ اپنے مقصد کیلئے کسی قسم کے خطرات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ جماعت اسلامی کے بزرگ راہنماوٗں کو پھانسی دیدی گئی اور اب وہ پاکستان آرمی کے آفیسرز پر جنگی مقدمہ چلانے کی تیاری کر رہا ہے
-------------------------------------
اب آئیں ذرا اپنے رو یّے کی طرف۔ جنگ میں شہید ہونے والے مغربی پاکستانی جوان اور افسران کے نہ جنازے پڑھائے گئے نہ انہیں کفن نصیب ہوئے اور نہ قبریں۔آج اُنکا نام و نشان تک نہیں ہے ۔ اُن میں سے کسی کے جسد خاکی کو پاکستان نہ لایا جا سکا ،نہ کوئی یادگار تعمیر ہوئی اور نہ ہی انکے لئے کوئی ڈے منایا جاتا ہے حالانکہ یہ پاکستان کے بیٹے تھے جو اپنے ملک کی سلامتی پر قربان ہوئے۔اسے قومی بے حسی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اپنے شہداء اور اپنے ہیروز کو یوں بے توقیر نہیں کرتی ۔ اس سے فوج کی کارکردگی پر بہت ہی منفی اثر پڑتا ہے ۔  
-----------------------------
 یہ تفصیل دینے کا واحد مقصد قوم کو بتانا ہے کہ مثبت قومی رویّے کے بغیر قومیں نہ تو ترقی کر سکتی ہیں اور نہ ہی جنگیں جیت سکتی ہیں۔ آج ایکدفعہ پھر ایک خطرناک جنگ کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے خدا کرے کہ اسکی نوبت نہ آئے لیکن ٹلتی ہوئی نظر نہیں آرہی ۔کہتے ہیں جنگ میدان جنگ میں نہیں بلکہ لیڈروں اور سولجرز کے ذہنوں میں لڑی جاتی ہیں اور اسکا فیصلہ اکثر جنگ شروع ہونے سے بھی پہلے ہو جاتا ہے۔دوسرا ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ صرف فوج نہیں بلکہ قوم لڑتی ہے۔ایک سپاہی جب سیاچن جیسے منجمد کرنیوالے برف کے صحرا میں کھڑا ہو کر ڈیوٹی دیتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ اسکے پیچھے پوری قوم ہے ۔وہ تنہا نہیں ہے لیکن اگر اسے یہ پتہ ہو کہ اس کے پیچھے کوئی نہیں تو وہ کیوں کھڑا ہوگا اور کیوں لڑے گا؟ جنگ مشرقی پاکستان میں ہم نے یہی کچھ کیا۔ فوج نے قربانیاں بھی دیں اور موردِ الزام بھی ٹھہری۔نہ ہم نے کوئی روایت قائم کی نہ اُس سے کچھ سیکھا حالانکہ فخر کرنے اور روایات قائم کرنے کیلئے بہت سے واقعات ہیں۔
-------------------------------------
قومیں ہمیشہ روایات سے بنتی ہیں اور اُن پرپر فخر کرتی ہیں۔ انہی روایات پر قومیں اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ اگر ہم نے جنگ مشرقی پاکستان سے کچھ سیکھا ہوتا جو کہ زندہ قوموں کا شیوہ ہے تو ہم آج اس متوقع جنگ کو ایسے حالات تک پہنچنے ہی نہ دیتے ۔آگ شروع ہونے سے پہلے ہی اُسکا تدارک کر لیا جاتا۔مشرقی پاکستان کی جنگ بھی ہم نے اپنی نا اہلی اور بے عملی کی وجہ سے اپنے سر لے لی حالانکہ اس کے بہتر حل ممکن تھے اور اب یہی غلطی  دوہرا رہے ہیں ۔ہم اسوقت بھی اپنے خلاف لڑنے اور لڑانے والوں کی نفسیات اور چالیں نہ سمجھ سکے اور اب بھی معاملہ کچھ ایسے ہی ہے ۔دشمن کو آسان سمجھ کر بغیر مناسب تیاری اور مناسب حکمت عملی کے جنگ شروع کرنا شاید ہماری تاریخ کی سب سے بڑی غلطی بن جائے۔
------------------------------------------
 فاٹا نہ مشرقی پاکستان ہے اور نہ طالبان بنگالی ہیں ۔ یہ جنگ کئی لحاظ سے بہت خطرناک ہے ۔ یہ جنگ صرف فوج کو ہی نہیں بلکہ پوری قوم کو لڑنا ہوگی جسکے لئے قومی اتحاد اور قومی یگانگت بہت ضروری ہیں۔ پوری قوم کی سوچ اور عمل کو ایک نکتے پر مرتکز ہونا ضروری ہے اور یہ کام ہمیشہ لیڈر کرتے ہیں۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم اتحادی افواج نے نہیں بلکہ چرچل جیسے عظیم لیڈروں نے جتوائی۔اسوقت قوم سخت انتشار کا شکار ہے اور قوم کو متحد کرنے والی عظیم لیڈر شپ کہیں نظر نہیں آرہی ۔ہمارے کچھ سکہ بند قسم کے مذہبی راہنماوٗں کے بیانات خصوصاً اس جنگ کے مذہبی پہلو کے لحاظ سے قومی انتشار میں مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔حکومت کا مذاکرات کا فیصلہ بہت خوش آئندہ ہے بشرطیکہ یہ صرف وقتی طور پر پریشرہٹانے کے لئے نہ ہو ۔بہرحال دعا ہے اللہ تعالیٰ کامیابی عطا کرے .#PakSoldier HAFEEZ

2 comments:

  1. yahi to roona hy, ki doost aor dushman ki tameez nahi...hamaray bahadur jawaanon ka koi monument nahi. kuch saal pehlay "ghareeb" deserving ladkiyoon ko MBA ki degree ky liye Bangladesh ki koi Asian University scholarships offer kiye. aor ala taleem ki khawahishmand ladkiyoon nay, jin may kafi tadaad Hunza sy thy , Bangladesh bohot ala taleem ky liye gayeen...suna hy, ki un may sy ek ladki nay ek Indian Hindu ladkay Aditya sy shadi ki tayari ki thi...sooch leejiye un ladkiyoon sy koi bhi kaam liya jasakta hy. Pakistan kion aankheen ban kar ky apany ladkiyoon ko taaleem ky naam par choodta hy ? Kia eaisi ladkiyoon ko Pakistan MBA ky liye scholarship nahi desakta tha ?

    ReplyDelete