Monday, August 21, 2017

پاکستان کے اصل دشمن امریکہ، اسرائیل اور بھارت


سورۃا لمائدہ میں ارشاد ہے اے ایمان والو یہود و نصا ری کو دوست نہ بناؤ ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے۔ یہو و ہنود ازل سے مسلمانوں کے دشمن چلے آ رہے ہیں ۔ ہم امریکہ ، بھارت اور مغربی ممالک سے دوستی اور امن کی آشا کی باتیں کرتے ہیں،

مگر وہ مختلف طریقوں سے مسلمانوں اور پاکستان کی جڑوں کو کوکھلا کرنے کے لئے لگے ہوئے ہیں ۔ پاکستان دشمنی میں ،اسر ائیل کی خفیہ ایجنسی مو ساد، بھا رت کی را اور امریکہ کی سی آئی اے اور انگریزوں کا لگا یاہوا بو ٹاقادیانی پیش پیش ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ممالک اور انکی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے مخالف کیوں ہیں ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی یہ کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مُستحکم کر کے ان سے فا ٹا، کے پی کے اور بلو چستان کو علیحدہ اور اٹیم بم چھینا جائے، کیونکہ یہود و ہنود کسی مسلمان ملک کے ہاتھوں نیو کلیر ہتھیار اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ علا وہ ازیں پاکستان اور دنیا کے مختلف خطوں میں قا دیانی جو یہو دیوں اور ہندوں کے ہر اول دستے کے آلہ کار ہیںاور جو پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ اُنکی بھی کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کر کے تو ڑا جائے اور ان سے اٹیم بم چھین کر بین الاقوامی ایجنسی کے زیر اثر لایاجا ئے اور اسی طرح یہود و ہنو د کو کھلی چُھٹی دی جائے تاکہ وہ غریب اور جدید دور کی سائنس اور ٹیکنالوجی سے محروم اسلامی ممالک کو زور اور طاقت کے بل بو تے پر زیر اثر بناکر انکے قدرتی وسائل پر قبضہ جمائیں   یہ لو گ پاکستان کے گوا در چین کے حوالے کرنے سے  انتہائی پریشان ہیں۔ مسلم اُمہ میں پاکستان وا حد اور اکلوتا جو ہری طاقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پاکستان سے بڑا خو ف اور ڈر محسوس کرتے ہیں۔ یہ تمام ایسے عوامل ہیں جنکی وجہ سے امریکہ، بھارت اور اسرائیل پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔بد قسمتی سے نیٹو کے 28 ممالک نے چند لاکھ فو جیوں کی مدد سے پوری دنیا پر قبضہ جمایا ہوا ہے اور بد قسمتی سے او آئی سی کے 57 اسلامی ممالک میں کوئی اتحاد اور اتفاق نہیں ،نتیجتاً مسلمان خواہ وہ عراق ، لیبیا، شام ، فلسطین ، کشمیر جہاں بھی ہیں ان پر زور اور ظلم کیا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ اور اتحادی افواج نے افغانستان میں 5ملین، عراق میں 2ملین ، بھارت نے کشمیر میں ایک لاکھ اور پاکستان میں امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ کی وجہ سے 40 ہزار سویلین اور 7 ہزار قانون نافذ کرنے والے ادروں کے اہل کا ر اور ڈرون حملوں میں 4ہزار بے گناہ پختون شہید ہوگئے ہیں ۔ جبکہ پاکستانی معیشت کو دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور پاکستان بننے سے اب تک امریکہ کی طر ف سے وطن عزیز کو 42 ارب ڈالر ملے ہیں۔ بھارت جن کو تجارت کے لحا ظ سے تر جیحی ملک کا درجہ دیا ہے، انکی پو ری کو شش ہے کہ پاکستان کو توڑا جائے ۔ ایک مشہو ر اخبا ر ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ بھارت کی اندرا گاندھی نے جو نہی بھارت کی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھا لا تو ا نہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ بنائیں تاکہ پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹا یا جاسکے۔ جس نے یہ منصوبہ بندی کی تھی اُنکا نام رامیش ور ناتھ کاؤ تھااور اس منصوبے کو اُسی کے نام کاؤ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلائی جائے گی ۔ اور انکو ایک خود مختار ریاست بنایا جائے گا اور بد قسمتی سے را کے قیام کے 30 مہینے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ “کاؤ “منصوبے کے تحت بلوچستان کو اور خیبر پختون خوا کو ایک علیحدہ خو د مختار ریاست بنانے کی منصوبہ بندی ہے ۔  بلو چستان ، فا ٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جو افرا تفری اور غیر یقینی صورت حال تہے  ، ان میں بھارت ، امریکہ، اسرائیل اور پاکستانی قادیانی ملو ث تہے ۔”کاؤ منصوبے “کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رامیش ور ناتھ کاؤ نے اس منصوبے کو بنا یا ۔” اندرا گاندھی نے منظور کیا”،” مرار جی ڈیسائی نے اس کو اگنو ر کیا” ، “راجیو گا ندھی نے اسکو ریفیوز کیا” اور سونیا گاندھی نے اپنے مو جودہ دور میں اسکو شروع کرنے کا حکم دیا۔ ریسر چ میں کہا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور امریکی سی آئی اے کے درمیان روابط بڑھ گئے۔ اور اس طر ح بھارت اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے بلو چستان کو پاکستان سے جدا کرنے کے لئے منفی کا روائیاں شروع کیں اور ابھی بلو چستان، فا ٹا اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں جو کچھ تخریبی کا روا ئیاں ہو رہی ہیں اُس میں دوسرے عوامل کے علاوہ امریکہ کی” سی آئی اے”، بھارت کی “را “اور اسرائیل کی “مو ساد “، وطن عزیز کے کچھ شر پسند عنا صر اور قادیانی کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ قادیانی بھی کسی صو ر ت بھارت کی “را”، امریکہ کی” سی آئی” اے اور اسرائیل کی” مو ساد” سے کم نہیں۔بلو چستان کی علیحدگی کے لئے کا ؤ منصوبہ 2004-5 میں شروع ہو ا اور پو رے صوبے میں تخریبی کا روائیوں نے کا فی زور پکڑا ”

No comments:

Post a Comment