اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھیں آپ کو پتا چلے گا کہ ہندوستان پر ہندؤں کی موجودہ حکومت سے پہلے مسلمانوں نے ایک ہزار سال ان پر حکومت کی تھی۔ محمد بن قاسم سے لیکر مغل بادشاہوں تک مسلمانوں نے 1000 سال تک ہندؤں پر حکومت کی ہے۔ ان مسلمان بادشاہوں میں بابر بھی تھا، غزنوی بھی تھا، ابدالی بھی تھا تو ٹیپو سلطان بھی تھا اور آپ کو یہ جان کر انتہایی خوشی ہوگی کہ پاک فوج کے میزائلوں کے نام بھی انہیں عظیم بادشاہوں / سپہ سالاروں کے نام پر ہیں۔
ہمارے پاس کو بھی ہتھیار ہیں یا میزائل ہیں ان تمام کے نام کسی نہ کسی اسلامی لیڈر، سپہ سالار یا کسی اہم شخصیات سے منصوب ہیں جو ایک طرح کا اشارہ ہے۔ خاص طور پر ہندؤ مشرک ہمارے میزائل کا نام سن کر ہی اپنی اورپر ہزار سال سے حکومت کرنے والے مسلمان بادشاہوں کو یاد کرکے ڈر جاتے ہوں گے، ہم نے ایک میزائل چھوڑ دیا تو پھر ہندوستان دوبارہ 1000 سال ہمارے قبضے میں آجائے گا۔
بابیل ایک پرندے کا نام ہے، قرآن پاک میں "سورہ فیل" میں اس کا ذکر ہے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ جن دنوں کعبۃ اللہ کی نگرانی ہمارے پیارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کے دادا یعنی حضرت عبدالمطب کے پاس تھی اس زمانے میں یمن میں ایک عیسائی بادشاہ "ابرہنہ" رہتا تھا جس کو پتا چلا کہ مسلمان پوری دنیا سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے آتے ہیں اور اس طواف کعبہ کی وجہ سے مکہ تجارت کا گڑھ بن جاتا ہے تو ابرہنہ نے اس تجارت کو اپنی ایک چرچ کی برف موڑنے کا پلان بنایا، اس نے سوچا کہ خانہ کعبہ کو نعوذ بااللہ اپنے ہاتھیوں سے گرا دوں گا اور اس کو مسمار کرکے مسلمانوں کے قافلوں کو اپنی چرچ کی زیارت کرنے اور وہاں عبادت کرنے پر مجبور کردوں گا، اس طرح وہ لالچ میں پڑگیا اور اپنے افواج لیکر مکہ کی طرف روانا ھوگیا۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امی جان "بی بی آمنہ" کے بطن مین چند مہینوں کے تھے۔
جب ابرہنہ خانہ کعبہ کے سامنے پہنچ گیا تو اس حضرت عبدالمطلب جو اس وقت مکہ کے سرداروں کے سردار تھے اور خانہ کعبہ کے نگران بھی، انہوں نے ابرہنہ کو پیار سے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ گھر کوئی معمولی گھر نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کا گھر ہے اور اس کو خبردار کیا کہ آج تک جتنے بھی لشکروں نے خدا کے گھر کو تباہ کرنی کی کوشش کی وہ خود کسی نہ کسی طرح ہلاک ہوگئے لہٰذہ آپ اس گھر کو کچھ مت کریں اور اس کے بدلے اگر آپ کو سونا چاندی وغیرہ چاہیے یا مکہ شہر کو تباہ کرنا چاہیں تو کردیجیے لیکن خانہ کعبہ کو مسمار مت کیجیے۔ لیکن ابرہنہ جو اپنی طاقت پر مغرور تھا اس نے ہر صورت خانہ کعبہ کو گرانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ اس نے اپنی افواج کو حکم دیا جاؤ ہاتھیوں کو لیکر اس خانہ کعبہ کو دھکا دیکر گرادو۔ ہاتھی جیسے ہی خانہ کعبی پر پہنچا تو چپ کرکے کھڑا ہوگیا جس پر ابرہنہ کو غصہ آنے لگا کہ یہ کچھ کر کیوں نہیں رہا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور آرڈر دیتا، اللہ نے اس مغرور انسان کی ہلاکت کا سامان کچھ یوں کیا کہ اپنے پرندوں میں سے "ابابیل" نام کے پرندوں کو حکم دا کہ جاؤ اور ابرہنہ کے لشکر پر پتھر برساؤ۔
کہتے ہیں ہزاروں ابابیل پرندے آئے اور ہر پرندے کے پاس تین پتھر تھے دو دونوں پاؤں میں اور ایک چونچ میں اور یہ سب پتھر ابرپنہ کے لشکر پر ایسے گرے جیسے کوئی میزائل گرتا ہے یا جیسے آسمان سے شہاب صاقب شیاطین پر گرتا ہے۔ اتنے پتھر برسے کہ ابرہنہ کے لشکر میں کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچ پایا۔
الحمداللہ آج ہم نے جو نیا میزائل بنایا ہے اس کا نام اسی قرآن میں ذکر کیے گئے پرندے ابابیل پر رکھا گیا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ابابیل ہی نام کیوں رکھا تو بتادیتا ہوں، ابابیل ایک ایسا پرندہ تھا جو ایک وقت میں تین پتھر برسا گیا اور ہمارا ابابیل میزائل بھی ایک ایسا جدید ترین میزائیل ہے جو ایک وقت میں 8 سے 12 اہداف پر نشانا مار سکتا ہے۔ یعنی ہم ایک ابابیل میزائیل چھوڑ دیں اس میں موجود مختلف وارہیڈ (ایٹم بموں) میں سے ایک دہلی پر گرے گا، ایک راجستان پر گرے گا، ایک اترپرسیش میں تو ایک گجرات میں۔ الحمداللہ اسی خصوصیت کی وجہ سے اس میزائل کا نام اس ابابیل پرندے پر رکھا گیا جس نے ایک ہی وقت میں تین پتھر پھینک کر تین تین بندوں کو ہلاک کیا۔
الحمداللہ، ثم الحمداللہ، ابابیل ایک ایسا میزائیل ہے جو بھارت تو کیا کئی ترقی یافتہ ممالک کے پاس بھی نہیں، دنیا اچھی طرح جانتی ہے ہم میزائیل ٹیکنالوجی میں اسرائیل سے بھی آگے ہیں، جرمنی سے بھی آگے تو آسٹریلیا فرانس سے بھی آگے۔ پاکستانیوں اگر آج ہماری سرحدیں محفوظ ہیں تو ان ہی میزائلوں کی وجہ سے ورنہ ایٹم بم تو ہمارے دشمنوں کے پاس بھی ہیں۔ لیکن ہم میزائل ٹیکنالوجی میں اتنا آگے ہیں کہ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے اور ایٹم بم کے معاملے میں بھی ہم اتنے جدید ہیں کہ انڈیا ہم پر حملہ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا کیونکہ ہمارے پاس اتنے چھوٹۓ ایٹم بم بھی ہیں کہ جو کسی عام سے بریف کیس میں ڈال کر بھی پھینکے جاسکتے ہیں۔ اگر انڈین فوج اپنی عددی برتری کی وجہ سے ہم پر اچانک حملہ کرے گی تو ہم چھوٹے ٹیکٹیکل بم یعنی بریف کیس والے ایٹم بم استعمال کریں گے۔ اور ایسا ایک بریف کیس انڈیا کی پوری بٹالین کو جہنم واصل کرنے کے لیے کافی ہوگا اور دوسری بات یہ چھوٹے ایٹمی ہتھیار زیادہ نقصان بھی نہیں کرتے، تابکاری ذرات بھی نہیں پھیلتے۔ الحمداللہ پاکستان ناقابل تسخیر بن چکا ہے۔۔
میری یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد نعرہ تکبیر اللہ اکبر ضرور کمنٹس کریں ۔۔ شکریہ
نعرہ تکبیر ..... اللہ اکبر

No comments:
Post a Comment