Monday, August 21, 2017

پاکستانی ایٹمی اثاثے، آئی ایس آئی اور تازہ امریکی پروپیگنڈہ


گذشتہ کچھ  عشروں سے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف امریکا، مغربی ممالک اور بھارت مسلسل پروپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں۔ یہ مخالفت اور دشمنی اسی روز شروع ہوگئی تھی جب پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کے پہلے جوہری دھماکوں کے بعد پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان ظالمانہ پابندیوں کے باوجود نوازشریف کی قیادت میں باقاعدہ ایٹمی طاقت بن گیا۔ کانٹے سے کہوٹہ تک کی یہ کامیاب داستان اپنے دامن میں کئی نشیب و فراز لیے ہوئے ہے۔ اس میں بھٹو کے عزم، غلام اسحاق خان کی رازداری، ضیاء الحق کے استقلال، بے نظیر بھٹو کی سفارتکاری اور نوازشریف کے مستحکم فیصلے نے، اپنی اپنی جگہ، اپنے اپنے دور میں،  کردار ادا کیا ہے۔ مخالف قوتوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بننے کی راہ میں بے شمار اور لاتعداد رکاوٹیں ڈالیں مغربی و امریکی مصنفین نے کتابیں بھی لکھیں لیکن یہ سب پاکستان کو ایٹمی اثاثوں کے حصول میں ناکام کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ الحمد للّہ۔
---------------------------------
پاکستان ایٹمی طاقت تو بن چکا لیکن بھارتی و امریکی میڈیا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ، ان کی سیکیورٹی اور اس کے حساس کمان اینڈ کنٹرول سسٹم کے بارے میں  روز درفنطنیاں چھوڑتا رہتا ہے ۔باطنی طور پر سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے جملہ ایٹمی اثاثے نہایت محفوظ ہیں لیکن پاکستان اور پاکستان کے متعلقہ اداروں کو پریشانی میں مبتلا رکھنے کے لیے امریکی میڈیا اپنی مفسدانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ابھی چند روز قبل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل  نے  ایس ڈی پی (اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن) کا دورہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام ملکی دفاع میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ پاکستان آرمی کی سربراہی سنبھالنے کے   بعد جنرل  کا یہ پہلا دورہ تھا جہاں انھیں ایس ڈی پی کے جنرل (ر) خالد قدوائی صاحب نے تفصیلی بریفنگ دی۔ جنرل راحیل نے اسی بریفنگ کے بعد ہی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی سیفٹی اور سیکیورٹی کے بارے میں اپنے گہرے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
----------------------------------
جنرل  صاحب کے ’’ایس پی ڈی‘‘ کے مذکورہ پہلے دورے سے چند روز قبل ایک عالمی ادارے ’’این ٹی آئی‘‘ (Nuclear Threat Initiative)نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ اور ان کی سیکیورٹی و سیفٹی کے بارے میں اطمینان کا اظہا کیا تھا اور یہ کہتے ہوئے تعریف و تحسین بھی کی تھی کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے بھارت کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں اور یہ کہ پاکستان نے گذشتہ برسوں کے مقابل مزید احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔ ’’این ٹی آئی‘‘ نے اس سلسلے میں پاکستان کو 22ویں نمبر اور بھارت کو 23ویں درجے پر رکھا ہے جب کہ چین کا درجہ 20واں ہے۔ اور اس نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے دنیا بھر کی ایٹمی طاقتوں میں ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے سب زیادہ امپروومنٹ کی ہے۔
---------------------------------
لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کے مقابل پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی سیکیورٹی و سیفٹی کی زیادہ تعریف امریکا میں موجود بھارتی لابی کو برداشت نہیں ہوسکی؛ چنانچہ امریکا کے ایک ممتاز تھنک ٹینک اور اس کے تحت شایع ہونے والے ایک مشہور جریدے نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ اس جریدے کا نام ’’دی نیشنل انٹرسٹ‘‘ (The National Interest) ہے جس کے اعزازی چیئرمین ایسے یہودی دانشور اور عالمی شہرت یافتہ سفارتکار ہیں۔ مذکورہ جریدے، جس کی اشاعتی عمر تقریباً تیس سال ہے، نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں، جنرل (ر) خالد قدوائی صاحب اور ایس پی ڈی کے نئے سربراہ جنرل زبیر حیات کے بارے میں خواہ مخواہ تحفظات کا اظہار کرکے بے جا شکوک و شبہات کو جنم دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی اقرار و اعتراف کیا ہے کہ جنرل (ر) خالد قدوائی اور جنرل زبیر حیات، ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرنے کے حوالے سے، یکساں اہلیت و قابلیت کے حامل ہیں۔ امریکی جریدے کو نہ جانے اس بات میں زیادہ تکلیف کیوں ہوئی ہے کہ جنرل (ر) خالد قدوائی کو بار بار ایکسٹینشن کیوں دی جاتی رہی؟ یہ دراصل پاکستان کے حساس معاملات میں کسی امریکی ادارے کی براہ راست مداخلت ہے ۔
----------------------------------
پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف بین السطور انداز میں ’’دی نیشنل انٹرسٹ‘‘ نے جس شرانگیزی کا مظاہرہ کیا ہے، بھارت اس سے خاصا خوش ہوا ہے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی یہ خوشی بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ میں پوری طرح جھلک اور چھلک رہی ہے۔ ’’دی ہندو‘‘ نے مینا مینن کا مفصل آرٹیکل شایع کرکے ’’را‘‘ اور بھارتی حکمرانوں کی نیت کو آشکار کردیا ہے۔ امریکی میڈیا جب مفسدانہ لہجے میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ’’رسک‘‘ قرار دے گا تو ظاہر ہے اس سے سب سے زیادہ خوشی اور اطمینان بھارت ہی کو محسوس ہوگا۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب اسی امریکی جریدے نے یہ شوشہ بھی چھوڑا تھا کہ پاکستان خفیہ طور پر سعودی عرب کو بنے بنائے ایٹمی میزائل دے رہا ہے۔ پاکستان نے بروقت اور فوراً اس کی تردید کی اور سعودی عرب نے بھی۔ لیکن حیرت خیز بات ہے کہ امریکی میڈیا نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں جو نئی پروپیگنڈہ مہم شروع کی ہے، امریکی میڈیا نے گمراہ کن انداز    #PakSoldier HAFEEZ
میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا آغاز کر دیا

No comments:

Post a Comment