Monday, August 21, 2017

اے وطن تیرا بیٹا حاضر ہے!


کسی مسلمان جرنیل نے کہا تھا:” مسلمان سولجر تو پیدا ہی شہادت کے لئے ہوتا ہے “۔ مجھے یہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی حالات جیسے بھی رہے ہوں لیکن افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوانوں نے ہر لمحہ اور ہر موقع پر وطن کی حفاظت پرپر وانہ وار قربانیاں دیں۔ 1947 سے لیکر آج تک افواج پاکستان دفاع وطن کے لئے سینہ سپر ہیں اور انشا ءاللہ رہیں گی۔ ویسے تو ہر محاذ پر بے دریغ قربانیاں دیں لیکن سب سے زیادہ قربانیاں سیاچن کے محاذ پر مسلسل دے رہے ہیں۔ لہٰذا آج ایک ایسے ہی نوجوان آفیسر کا ذکر کرنا مقصود ہے جو وطن کے دفاع کا جذبہ لیکر پروان چڑھا اور پھر پہلا ہی موقع ملنے پر وطن کی سا لمیت پر قربان ہو گیا۔-
------------------------------------------
یہ نوجوان آفیسر کیپٹن معظم علی بلوچ تھا۔ معظم علی بلوچ 13اکتوبر 1972نو بجے شب اردن کے شہر الکرک میں میجر یوسف اختر کے ہاں پیدا ہوا۔ میجر صاحب کا تعلق پاکستان آرمی کے شعبہ میڈیکل کور سے تھا جو اُن دنوں پاکستان آرمی کے میڈ یکل مشن کے ساتھ اردن میں تعینات تھے۔ ظاہر ہے بچے کی پیدائش پر حسب توفیق خوشی منائی گئی لیکن میجر صاحب اور انکی فیملی کا سب سے بڑا شوق بیٹے کو اہم زیارات پر لے جانا تھا ۔وہ اپنی پہلی فرصت میں شام کے شہر دمشق پہنچے۔ وہاں مسجد اموی میں مقام حضرت یحییٰ علیہ ا لسلام اور حضرت حسین راضی اللہ سر مبارک کی زیارت سے فارغ ہو کر مسجد کے گیٹ کے سامنے سلطان صلاح الدین ایوبی کے مرقد پر جا کھڑے ہوئے۔ شہادت حسین ؓ کا جذبہ اور صلاح الدین ایوبی جیسے نامور جرنیل کی قبر مبارک کے سامنے کھڑے ہو کر ماں کے منہ سے بے ساختہ نکلا:” اے میرے پروردگار میرے لعل کو بھی ایسی ہی نامور زندگی عطا کر “ دو سال بعد میجر صاحب اپنا عرصہ ملازمت پورا کر کے وطن واپس آگئے اور اُن کی پوسٹنگ نو شہرہ چھاﺅنی ہو گئی۔ بچے نے جونہی شعور کی منزلیں طے کرنی شروع کیں اُسے ہر طرف فوجیوں کے بچے ،فوجی جوان اور فوجی ماحول نظر آئے اور اس ماحول میں فوجی بننے کی سوچ کے علاوہ اور کوئی سوچ ممکن ہی نہ تھی۔ اسی سوچ اور اسی عزم کے ساتھ پاکستان کا یہ بیٹا زندگی کے ماہ و سال پورے کرنے لگا۔--
-------------------------------------
معظم علی1990میں اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان ملٹری اکیڈیمی پہنچ گیا۔ اب یہاں اُسکی جذباتی تربیت کو عملی رنگ ملنا شروع ہوا۔ دو سال کی جان لیوا تربیت کے بعد کیڈٹ معظم علی حب الوطنی اور ملکی سلامتی کے جذبے سے بھر پور عزم کے ساتھ 17اکتوبر 1992کو پاس آﺅٹ ہو کر پاکستان آرمی کی عملی زندگی میں شامل ہوا۔ اُسے پاک و ہند کی قدیم ترین انفنٹری گروپ” پنجاب رجمنٹ“ میں کمیشن ملا۔ یونٹ کی ابتدائی زندگی ایک نوجوان آفیسر کے لئے کافی مشکل ہوتی ہے کیونکہ اُسے بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے جس کےلئے یکے بعد دیگرے بہت سے مشکل کورسز مکمل کرنے ہوتے ہیںجو معظم علی نے بہت اچھی گریڈنگ سے کئے اور اب وہ اتنے سالوں سے حاصل کی جانیوالی فوجی تربیت کا مقصد پورا کرنے کےلئے تیار ہو چکا تھا۔اس کےلئے اُسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا اور وہ دنیا کے مشکل ترین محاذ جنگ یعنی سیاچن پہنچ گیا جہاں اُسے عشق و جنوں کے عملی امتحان سے گزرنا تھا۔
--------------------------------
سیاچن کی جنگ عام آدمی کے بس کی بات نہیں کیونکہ بلندی پر جہاں ہماری پوسٹیں ہیں وہاں ٹمپریچر منفی60ڈگری سنٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ سانس باہر نکالتے ہیں تو برف کے ٹکڑوں میں بدل جاتا ہے ۔ چائے کا کپ بنانے میں بھی کم از کم چالیس منٹ لگ جاتے ہیں اور کھانا پکانا گھنٹوں کا کام ہے ۔آکسیجن کی کمی اس حد تک ہے کہ چند قدم چلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے ۔ اچانک برف کی چمک پڑنے سے انسان اندھا ہو جاتا ہے یا فراسٹ بائیٹ سے لوگ معذور ہو جاتے ہیں ۔وہاں بھارتی دشمن تو ہیں ہی سہی لیکن سب سے بڑا دشمن موسم ہے ۔ اس لئے وہاں بلند یوں پر قائم کی گئی تمام پوسٹیں بہت مشکل اور خطرناک ہیں جن میں سرور پوسٹ اور تابش پوسٹ سب سے زیادہ خطرناک ہیں اور معظم علی ان دونوں پوسٹوں پر وا لنٹئیرہو کر تعینات رہا۔ مئی 1995 میں وہ تابش پوسٹ پر تھا جو 20ہزار فٹ بلند ہے اور دونوں طرف سے دشمن کی ”اکبر اور بانا“ پوسٹ کی نظروں میں رہتی ہے۔ دشمن کی طرف سے جب بھی گولہ باری ہوتی تو معظم علی دوڑ کر اپنی گن پوزیشن سے جواب دیتا۔اکثر اسے دوست اور ساتھی غیر ضروری جواب سے منع کرتے تو وہ بس ایک ہی جواب دیتا :” دشمن کو جواب نہ دینا وطن اور بلوچ خون سے غداری ہے جو معظم علی نہیں کرے گا“ 15 مئی 1995کو دن 11بجے اچانک گولہ باری شروع ہوئی تو شہید اپنی گن پوسٹ کی طرف دوڑا۔ وہاں پہنچ کر فائر کا نشانہ لیا۔اتنی دیر میں بائیں طرف سے ایک راکٹ گولہ آگرا۔ چند ساعتوں کےلئے برف کی گرد اڑی۔ساتھی دوڑ کر پوسٹ پر پہنچے تو بائیاں بازو اڑ چکا تھا۔پیٹ اور چھاتی سے خون بہہ رہا تھا اور قوم کا یہ بیٹا سر زمین وطن پر سجدہ ریز پڑا تھا۔ روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ماں کی حضرت امام حسینؑ اور صلاح الدین ایوبی کے مزار ات پر مانگی گئی دعا پوری ہو چکی تھی۔ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ جہلم میں اسکی تدفین کی گئی۔ وطن کے پیارے بیٹے ہم سب کی طرف سے سلام تشکر قبول ہو۔''HEROES ALWAYS DIE YOUNG"٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠ #PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment