Wednesday, September 20, 2017
نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی شہید پارٹ ۔ تھری
12 ستمبر 1965ء کی تاریخی صبح تھی۔ میجرعزیز بھٹی نے فجرکی نماز ادا کی۔ شیو بنائی،بالوں میں کنگھی کی تیارہوئے توایک جوان چائے لے آیا۔چائے سے فارغ ہوئے تووردی لانے کاحکم دیاتوپتہ چلاکہ ان کی وردی تیارنہیںاورجوان کسی اورکی تیاروردی لے آیاہے۔ میجرعزیز بھٹی نے وہ وردی لینے سے انکارکردیااوراس موقع پرایک تاریخی فقرہ کہا۔”جوان وردی اورکفن اپناہی اچھالگتاہے۔
------------------------
اس تاریخی فقرے سے میجرعزیزبھٹی کی وطن سے محبت اوروطنِ عزیزکی طرف سے دی گئی امانت وردی سے محبت ظاہرہوتی ہے۔یہ آج کے بے ایمانوں،بددیانتوں،ضمیرفروشوںکیلئے ایک بہترین پیغام ہے جوملک کی طرف سے دئیے گئے عہدوں کا ناجائزفائدہ اٹھاتے ہیں جن کی پوری زندگی کرپشن سے بھری پڑی ہے۔جوملک کی طرف سے دی گئی امانتوںیعنی کہ عہدوں میں خیانت کرتے ہیں۔جوکسی کرسی پربیٹھنے سے پہلے توایمانداری کے حلف لیتے ہیں مگربعد میں ایمانداری ان سے کوسوںدورہوجاتی ہے۔وطن سے محبت کاحق اس وقت ہی اداہوتاہے جب انسان وطن کی طرف سے دئیے گئے کسی عہدے کا ایمانداری سے استعمال کرے۔وہ یہ ناسمجھے کہ وہ جس عہدے پرفائزہے وہ اس کے باپ داداکی جائدادہے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ وطنِ عزیزکی طرف سے اس پراعتماد کیا گیا ہے۔
---------------------
یہ ملک کی طرف سے اسے امانت سونپی گئی ہے ۔جسے وہ ایمانداری اورنیک نیتی سے نبھانے کی کوشش کرے۔جس میں خیانت کرنے کی بجائے دیانتداری سے چار چاندلگادے۔وہ جہاں بھی جائے اپنی نیک نیتی اورخلوصِ نیت سے اداروںکی ترقی کاباعث بنے ۔اگرایک ایک فرداپنے آپ کودرست کرنے پرلگ جائے توقطرہ قطرہ دریابن جاتاہے اورآہستہ آہستہ پاکستان کاہرشہری فرض شناس بن جائے گا۔
میںدوبارہ اپنے اصل ٹاپک کی طرف آتاہوں۔میجرعزیزبھٹی کی پلاٹون بی ۔آر۔بی کے کنارے مورچہ زن تھی۔آپ مورچہ میں بیٹھ کراپنے تویچی کوٹارگٹ پوائنٹ بتارہے تھے۔مگرگردوغبارکی وجہ سے صاف دکھائی نہیں دے رہاتھالہذاآپ مورچہ سے باہرنکل آئے۔
------------
ساتھی جوان نے بہت کہا،سر!باہربہت خطرہ ہے۔دشمن بھاری تعداد میں ہے اورٹینک آگ اُگل رہے ہیںمگرمیجرراجہ عزیزبھٹی نے کہاکہ اگرمیری جان دشمن کوشکست دیتے ہوئے ملک پرقربان ہوجائے توکوئی غم نہیں۔اسی اثناء میںٹارگٹ بتاتے ہوئے دشمن کے ٹینک کاایک گولہ میجرعزیزبھٹی کے شانے پرلگا۔میجرصاحب اُچھلے اور لڑکھڑا کر گرپڑے اورپھر پاکستان کایہ بہادر،جراء ت مند، دلیر اور دشمن کی ناک میںدم کرنے والاسپاہی اللہ کی راہ میںاپنے فرض کی ادئیگی کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا۔
----------------------------
سچ، اخلاق، اخلاص، ایمانداری اور وطن سے محبت دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں ہیں۔ میجر عزیز بھٹی کی زندگی سے ہمیں یہ پتہ چلتاہے جوانسان ان تمام طاقتوںسے مالامال ہوتاہے دنیاکی کوئی بھی طاقت اسے شکست نہیںدے سکتی۔حقیقت تویہ ہے کہ یہ تمام خصلتیں انسان کوناصرف دنیا میں عزت وتوقیرعطاکرتی ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کاذریعہ بنتی ہیں۔ان ساری خصلتوںکے راستے میں کچھ دشواریوں کا آنا یقینی ہے اوران کے حصول میں بسااوقات بھاری قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔
----------------------------------
لیکن انسان کوصرف یہ سوچ کرہمت نہیں ہارنی چاہئے کہ ہرگلاب کو کانٹوں سے گھیراگیاہے اوروہ کانٹوں میں رہ کربھی خوشبودیتاہے۔جب یہ سوچ دل میں آجائے گی تو اسے ایسی عقیدت اورمحبت ملے گی جورہتی دنیاتک زندہ رہے گی۔کیونکہ انسان کے بہترکردارکوکبھی زوال نہیں آتااورانسان کاکرداراس کی کھال بھی ہوتاہے اورڈھال بھی۔
میجرعزیزبھٹی اس دنیاسے توچلے گئے مگروہ اپنے کردار،جراء ت مندی اوربہادری کی وجہ سے لوگوںکے دلوںمیںآج تک زندہ ہیں۔انہوںنے اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کیااور انصاف کایہ جذبہ اُن کے اندراس لئے آیاکہ وہ وطن کے ساتھ بے لوث محبت کرتے تھے ۔وطن کی کیلئے اپناتن من دھن نچھاورکرناچاہتے تھے
-------------
وہ موت سے ڈرنے کی بجائے شہادت کوچومناچاہتے تھے۔ شہادت کاجذبہ اُن کے ارادوںکومضبوط کرتاتھاان کوقوت عطا کرتا تھا اور مردانگی کوتقویت بخشتاتھاجس وجہ سے وہ دشمن کے سامنے ڈٹ گئے اورمردانہ وارلڑتے ہوئے شہیدہوگئے۔
*************
#PakSoldier HAFEEZ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment