اس میزائل فیملی کے بہت سے نام ہیں پر سام 2 گائید لائن کی چائنا کی بنی ایڈوانسڈ کاپی جو کہ پرانے اصل میزائل کے مقابلے میں بہت ہی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کا حامل ہے ۔سام 2 کی کامیابی کا جھنڈا تب گاڑھا گیا تھا جب اس نے امریکہ کے سب سے زیادہ بلندی پر جانے والے ایک جاسوس جہاز یو ٹو کو مار گرایا تھا ۔ امریکی یو ٹو طیارے کو پاکستان سے سی آئی اے کے لیے آپریٹ کرتے تھے جو نہایت بلندی پر جا کر سوویت یونین کی جاسوسی کرتے تھے ۔
1960 میں یہ میزائل ابھی نیا نیا ہی تھا کہ امریکی جو جاسوسی کے لیے یو ٹو استعمال کر رہے تھے انہیں بھی اس کی صلاحیت کا اندازہ نہیں تھا ۔سوویت یونین کو پتا تھا کہ امریکہ 70 ہزار فٹ کی بلندی پر لوکھیڈ یو ٹو جہازوں سے اس کی جاسوسی کر رہا ہے ۔ اس سوچ کو دماغ میں رکھ کر ایک ایسا میزائل بنایا جائے جو آسمانوں سے تارے توڑ لائے ۔
سام 2 گائیڈ لائن کو آپریشنل کرتے ہی فیلڈ کمانڈر جنرل یاوگینی نے آڈر دیے تھے کہ اب جب یو ٹو آئے تو بچ کر نا جائے ۔ کیونکہ اس وقت کے مگ اور سخوئی اتنی بلندی پرنہیں جا سکتے تھے اس لئے ائیر ڈیفنس یونٹس کو ریڈ الرٹ رکھا گیا اور بالآخر ا مئی 1960 کی صبح کو میخائیل ویرینوف نے راڈار پر ئو ٹو کے نظر آتے ہی 3 میزائیل فائرکر دیے جہاز اسوقت سوویت یونین کے اندر 250 کلو میٹر تھا سوویت یونین نے پاکستان اور امریکہ کو خؤب لتاڑا۔ امریکہ نے حسب سابق جھوٹ کے پل باندھے کہ جہاز ترکی پر گم ہو گیا تھا پر کوئی فائدہ نا ہوا۔
اس کامیابی پر چین کے کان کھڑے ہوئے اور انہوں نے 70 کی دھائی میں یہ میزائل خریدے اور اس کی کاپی ایچ کیو-1 کے نام سے بنائی جو بالکل ویسی تھی اور اسی طرح کام کرتی تھی۔ادھر امریکہ نے کاؤنٹر میسرز نکالے اور جہازوں پر لگائے ادھر چین نے ایچ کیو 2 پروجیکٹ چلا دیا جو ان کاؤنٹر میسزر کو مار کے بھی جہازوں کو تباہ کر سکتا تھا۔ اسے نیا میزائل کہا جا سکتا ہے ۔
90 کی دھائی کے شروع میں یہ میزائل چینی افواج کو ملے ۔ یہ لانگ رینگ سام کہا جاتا ہے ایچ کیو 2 کی رینج 115 کلو میٹر ہے اور یہ نیا میزائل 77 ہزار فٹ کی بلندی تک ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے ۔اس کا اپنا راڈار سسٹم جو ٹارگٹ کو لوکیٹ کرتا ہے اور پھر میزائل کو راستہ دکھاتا ہے ۔جسے ایس جے202 کہا جاتا ہے یہ فیز ارے راڈار ہے جو جتنے ملٹیپل ٹارگٹس پر نظر رکھتا ہے ۔چاہے وہ 70 ہزار فٹ پر کیوں نا ہوں ۔ ایچ کیو ٹو اس طرح سے چائنا کی ائیر ڈینفس کا فرنٹ لائن میزائل رہا ہے اور ہے ۔ یہ ٹو سٹیج صلاحیت کا حامل میزائل ہے اور اس کو ری لوڈ کرنے میں صرف 12 منٹ درکار ہوتے ہیں ۔
پابندیوں کے بعد پاکستان کو بھی میزائلوں کی فراہمی میں مشکلات ہوئی کروٹیل کافی نا تھے اس لئے پاکستان نے چائنا سے ایچ کیو ٹو کی 12 بیٹریاں خریدی ہر بیٹری میں 6 راڈار 6 میزائل لانچر تھے ۔اور انہوں نے اب تک ہماری اہم تنصیابت اور تمام بڑے شہروں کو ایفیکٹیو ائیر ڈیفنس کور دی ہوئی ہے ۔

No comments:
Post a Comment