Friday, September 15, 2017

پاکستانی لڑاکا طیاروں پر نصب آمریکی ساخت بی۔وی۔آر۔ میزائل

امریکی ساختہ اس بی وی آر Beyond Visual Range میزائل کو امرام کہا جاتا ہے ۔ یہ میزائل امریکی اور اتحادیوں کی ائیر فورسز کا سب سے اہم فضآسے فضآ میں مار کرنے والا میزائل ہے جو ہر امریکی ساختہ جنگی جہاز پر نصب ہوتا ہے۔اس کا اپنا راڈرا ہوتا ہے جس سے یہ ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے ۔اس سے پہلے کے اے آئی ایم-7 سپیرو اور اے آئی ایم 9 سائیڈ وائنڈر میزائلز تب فائر کیے جاتے تھے جب دشمن کا جہاز نظر آ رہا ہو یعنی کہ Visual Range میں ہو اور اسے لاک کیا گیا ہو پر امرام ٹارگٹ کے دیکھے بغیر یعینی Beyond Visual Range میزائل ہے ۔جو جہاز کے راڈار کی مدد سے نشانہ لگاتا ہے اور میزائل کوڈیٹا ٹرانسفر کر دیتا ہے پہلے پہل امرام جہاز کے میزائل کی گائڈننس پر چلتا ہے لیکن جب ٹارگٹ امرام کے اپنے راڈار کی رینج میں آتا ہے تو امرام آزاد ہو جاتا ہے ۔اس کے مختلف ماڈلز بنائے گئے ہیں۔
امرام اے اور بی کی رینج 75 کلو میٹر تک ہے
امرام سی سریز کی 105 کلو میٹر
امرام ڈی اور آخری سی-8 کی رینج 180 کلو میٹر ہے۔12 فٹ لمبا امرام میزائل 4900 کلو میٹر کی سپیڈ سے جہاز کو سیکنڈوں میں جا پکڑتا ہے ۔اس کے اندر جاممنگ اور اینٹی جامنگ کی صلاحیت بھی ہے اور امرام کا ایک ماڈل ایسا بھی بنایا گیا ہے جو زمین سے فضا میں فائر کیا جاتا ہے جسے سلامرام کہا جاتا ہے ۔امرام امریکی کمپنی ریتھیون کا بنا ہوا ہے اور 152 کلو اسکا وزن ہے۔ یہ دشمن کے جہازوں کو آزادانہ ٹارگٹ کر کے اپنی فضآئی حدود سے دور کھنے میں مدد گار ہوتا ہے ۔اسے فائر اینڈ فارگٹ کیٹیگری مین رکھا گیا ہے کہ دشمن پر فائر کر کے اسے بھول جاؤ پر اب روس کے بنے نئے جہازوں میں اس کو کاونٹر کرنے کی صلاحیت والے جامرز لگائے گئے ہیں جس سے یہ مکمل فائر اینڈ فارگٹ نہیں ہے ۔پاکستان ائیر فورس کی بی وی آر کیپیبلٹی اتنی اچھی نا تھی R-Darter میزائل جنہیں پاکستان میں اپگریٹ کر کے بلیک ایرو کا نام دیا گیا تھا میراج جہازوں پر نصب ہوتے تھے جن کی رینج 60 کلو میٹر ہے اور یہ جنوبی افریقہ کی ٹیکنالوجی تھی اور پاکستان کے فرنٹ لائن ایف سولہ ااس صلاحیت سے محرم تھے ۔اصل میں پاکستان کے ایف سولہ بھی اس طرح کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ۔ایف سولہ بلوک 15 کے اے پی جی -66 راڈار اور ایفیونکس ہارڈ پوائنٹس امرام کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ۔

امرام ان جہازوں کے کئی سال بعد بنا تھا۔اس لیئے پاکستان نے جب نئے ایف سولہ بلوک- 52 پلس جہازوں کا آرڈر دیا تو ساتھ میں ایک بہت بڑا پیکیج پاکستان کے پرانے ایف سولہ جہازوں کی اپگریڈ ایم ایل یو کا بھی تھا جس کے بعد یہ جہاز بلوک-15 سے بلوک-52 پلس ہو جاتے ۔اور ان پر ایویونکس کے ساتھ ساتھ نیا راڈار اے این -اے پی جی 68 وی9 نصب ہیں جو کہ پرانے 150 کلو میٹر رینج والے اے پی جی 66 کے بدلے 300 کلو میٹر کی رینج والے جدید ترین راڈار تھے ۔

اسی طرح اس سودے میں 650 ملین ڈالر کے 506 عدد امرام سی-5 میزائل پاکستان نے خریدے ۔ ان میزائلوں پر بھی انڈیا نے خوب واویلا کیا پر کچھ نہیں ہوا۔ پاکستان نے میزائلوں کو 2010 اور 2011 میں حاصل کیا اور اب یہ ہمارے تمام ایف سولہ طیاروں پر نصب ہے ۔ اس صلاحیت کے ساتھ اب پاکستانی ایف
سولہ ایک بہت ہی لیتھل ہتھیار بن چکا ہے ۔جسے بلا جھجھک ائیر ٹو ائیر کومبیٹ میں کسی بھی جہاز کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے #PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment