10 اپریل1913کو بندرگاہ پرسفر کیلۓ تیار
سے کیا تھا اور یہ شمالی بحر اوقیانوس میں ڈوبااسکا ملبہ اب بھی سمندر میں3800میٹر گہرائی میں موجود ہے۔ اپنے سفر کے آغاز کے چوتھے اور پانچویں روز کی درمیانی شب اس میں سوار 1500 سے زائد مسافر وں کی زندگی کا چراغ اس وقت گُل ہوگیاجب یہ سمندر کا بادشاہ برف کے گالے سے ٹکرا کر دوٹکڑے ہوگیا۔ لائف بوٹس کے ذریعے وائٹ سٹارلائن کمپنی کے ٹائی ٹینک کے صرف 724 مسافرزندہ بچ پائے۔ ان میں کمپنی کا مالک "اسمے "بھی شامل تھا جو خواتین اور بچوں کوڈوبتے جہاز میں چھوڑ کر ایک کشتی کے ذریعے نکل گیا۔ اس خود غرضی پر وہ پوری زندگی نفرت کا نشانہ بنا رہا ۔اسے ” ٹائی ٹینک کا بزدل “اور ”Brute Ismy“ کہا جاتا تھا۔ اسمے اکتوبر 1937ءکو گوشہ تنہائی میں چل بسا۔ دوسری طرف جہاز کا پائلٹ ایڈورڈ جان سمتھ بیشترعملے کے ساتھ خواتین اور بچوں کو بچانے کی کوشش میں خود ڈوب کر انسانیت پر احسان کر گیا۔وہ آخری آدمی تھا جس نے جہاز سے چھلانگ لگائی ۔ایک آدمی آخری کشتی کی طرف تیرتے ہوئے ہوئے لپکا تو ایک مسافر نے کہا ”یہ پہلے ہی اوور لوڈہے“ اس پرتیراک پیچھے ہٹ گیا اور کہا "All right boys. Good luck and God bless you"یہ جہاز کا پائلٹ 62 سالہ ایڈورڈجان سمتھ تھا۔دوسروں پر اپنی جاں نچھاور کرنے کے عظیم جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے اس کا مجسمہ سٹیفورڈ میں نصب کیا گیا ہے۔
ٹائی ٹینک جہاز تک پہچنے کےلئے آپ کو تقریبا 4 کلومیٹر سمند ر کے نیچے جانا ہو گا۔ جو کہ ناممکن ہے کیونکہ سمندر میں آپ جتنی گہرائی میں جاتے ہیں۔ اتنا ہی پانی کا پریشر زیادہ ہوجاتا ہے۔آج تک کوئی غوطہ خور ٹائی ٹینک تک نہیں پہنچ پایا۔ یہ ڈسکوری ایک غوطہ خور گاڑی کے ذریعے ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے تقریبا 70 سال بعد ممکن ہو پائی۔

No comments:
Post a Comment