Monday, October 23, 2017

پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور میزائیل پروگرام انتہائی جدید اور محفوظ ہے

 ایٹمی دھماکہ کرنے سے بہت پہلے پاکستان نے راکٹ ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرلی تھی۔ 1980کی دیہائی کے اوائل ہی میں پاکستان نے توپخانہ کےMBRL ہتھیار کیلئے راکٹ تیار کرکے کوریائی ساختہ MB-21راکٹ پر انحصار ختم کر دیا تھا۔ درحقیقت پاکستانی ساختہ راکٹ موٹر کی صلاحیت غیر ملکی ساختہ راکٹ موٹر سے بہت بہتر تھی۔ اب ہمارے سائنسدانوں نے ایٹمی اسلحہ سے لیس میزائل کیلئے راکٹ موٹر تیار کرنے کیلئے تجربات شروع کئے ہیں۔ 1990کی دیہائی کے اوائل میں پاکستان نے کم فاصلے پر مار کرنے کے ایٹمی اسلحہ سے لیس ہونے کی صلاحیت کے حامل میزائل کثیر تعداد میں حاصل کرلئے تھے۔ مئی 1998کے ایٹمی ٹیسٹ دھماکوں سے پہلے ہی پاکستانی سائنسدانوں نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائیل تیار کرلئے تھے ۔ IRBMغوری میزائل کو رینج پر16اپریل1998 کو ٹیسٹ فائر کیا گیا اور دنیا پر ظاہر کیا گیا کہ پاکستان،دورمار میزائیل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 14اپریل 1999کو غوری ٹو بیلسٹک میزائل کورینج پر ٹیسٹ کیا گیا اور 29ستمبر 1999کو غوری تھری بیلسٹک میزائل بھی لیبارٹری میں اسٹیٹک انجن ٹیسٹ کیا گیا ۔ غوری تھری میزائیل TWO STAGE ROCKET MOTORکا حامل ہے ۔ اسطرح پاکستان نے ملٹی اسٹیج راکٹ ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کی اور ICMB (انٹر کانیننٹل بیلسٹک میزائیل) بین براعظمی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت حامل کرلی۔ جنرل پرویزمشرف نے حکومت سنبھال لی تو غوری تھری میزائیل کا رینج پر ٹیسٹ کرنے کو روک دیا گیا جو تاحال رکا ہوا ہے۔ غوری میزائل سسٹم ڈاکٹر قدیر خان کی سرپرستی میںKRLکے سائنسدانوں نے تیار کیا ۔ اس میں مایا ایندھن استعمال ہو تا ہے اور اس کی راکٹ موٹر کو Liquid fuel propoellant rocket motorکہا جاتا ہے ۔ اس نظام کے تحت تیار کردہ میزائل اور راکٹ بھاری بھرکم نہیں ہوتے۔ یہ ٹیکنالوجی مشکل ضرور ہے مگر اس کے ذریعے دنیا میں کہیں بھی میزائل پہنچایا جاسکتا ہے ۔ چاند تک بھی پہنچایا جاسکتا ہے ۔ دوسرانظام ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی سرپرستی میں تیار کیا گیا ہے ۔ جو شاہین میزائل سسٹمہے ۔ اس کی راکٹ موٹر میں ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے ۔ ایسے میزائل کی راکٹ موٹر کو Solid propellant rocket motorکہتے ہیں ۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی پاکستان نے Multi stage rocketنظام تیار کر لیا ہے ۔ شاہین میزائل کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ یہ فوراً استعمال کیلئے تیار ہوتے ہیں ۔ لہٰذا دونوں میزائل و راکٹ نظام پاکستان کی دفاع کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ غوری میزائل نظام کے ساتھ پاکستان نے شاہین ون ۔ شاہین ٹو اور شاہین تھری RBM تیار کئے ہیں۔ شاہین تھری کا لیبارٹری میں اسٹیٹک انجن ٹیسٹ بھی کامیابی کے ساتھ ستمبر 1999ء میں کیا گیا مگر اس کو رینج پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا ۔ حال میں یمن کا بحران ہوا اور پاکستان نے اپنے تمام شہری وہاں سے نکالنے کیلئے اپنا بحری بیڑہ عدن کی طرف روانہ کیا تو شاہین تھری میزائل کو بھی بحیرہ عرب میں چلایا گیا اور اس طرح اسرائیل کو پیغام دیا گیا کہ عالم اسلام میں افراتفری پھیلانے کی غرض سے اسرائیل یمن میں کسی مہم جوئی سے باز رہے۔ شاہین تھری کی رینج 2750کلومیٹر بتائی گئی ہے اور وار ہیڈ کم وزن کا استعمال کیا جائے تو رینج مزید بڑھ جاتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل کے عوام کو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے میزائل اسرائیل تک مارکر سکتے ہیں تو ان پر ہیجانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بتایا گیا کہ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل پروگرام انڈیا سے متعلق ہے مگر یہ حقیقت نہیں ہے۔ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل پروگرام پاکستان کی سلامتی سے متعلق ہے ۔ انڈیا کے علاوہ سمندر پار سے بھی دشمن ہو تو پاکستان اپنا دفاع ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرکے کریگا۔ اس لئے لازم ہے کہ پاکستان ایسا میزائل ڈلیوری نظام تیار کرے کہ اپنے ایٹمی ہتھیار دنیا کے کسی بھی کونے تک گرا سکے۔ یہ ایک ایسا ڈیٹرنٹ خوف ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رکھے گا۔ نئی میلینیم کے آغاز سے ہی امریکہ نے’’نیوورلڈ آرڈر‘‘ کے اہداف حاصل کرنے پر عملدرآمد کا آغاز کیا ۔ مشرق وسطحی کو تہس نہس کرنے کیلئے امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے افغانستان پر قبضہ کرکے ایسے برباد کیا، اپنا اور اتحادیوں کے بحری بیڑے بحیرہ عرب میں پاکستان کی پانیوں کی حدود تک پہنچا دیئے۔ انڈیا کو بھی ساتھ ملا یا اور پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کرتے رہے ۔ جنوب میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے بحری بیڑے پاکستان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور کسی ممکنہ جنگ میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کیلئے تیار تھے ۔ یہ امر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا کہ جنرل پرویز مشرف بذات خود اور پاکستان کی اس وقت کی قیادت امریکی حلیف بن کر پاکستان میں تباہی پھیلانے میں امریکہ کی معاونت کرتے رہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں پاکستان کے میزائل پروگرام کو مکمل بریک لگائے رکھی تھی ۔ پاکستان کو قابو کرنے کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے عراق اور لیبیا کو تہس نہس کردیا ۔ لبنان کو ایران کی حمایت یافتہ حسن نصراللہ کی حزب اللہ ملیشیا کی قوت نے بربادی سے بچا لیا۔ یمن اور شام سلگ رہے ہیں اور مصر غیر مستحکم ہو چکا ہے ، ایسی صورت میں ایران امریکی مفاد کی جنگ سے دور رہ کر اور روس کا اتحادی بنا رہا اور غیر علانیہ ایٹمی قوت بن چکا۔ ایران کا میزائل پروگرام انتہائی جدید ہے ، ایران نے اپریل 2009میں اپنے ساختہ راکٹ کے ذریعے کامیابی سے سیٹلائٹ خلا ء میں پہنچا کر دنیا پر واضح کیا کہ انہوں نے ICBMبین براعظمی بیلسٹک میزائل تیار کیا ہے ۔ ایران کا انڈیا جیسا دشمن پڑوسی ملک نہیں ہے مگر انہوں نے اپنی ایٹمی ڈاکٹرائن کو مکمل کیا ہے کہ ایران کا (غیراعلانیہ) ایٹمی قوت ایران کی سلامتی سے متعلقہ ہے اس لئے ایران نے طویل فاصلہ تک مار کرنے والے ICBMتیار کر لئے ہیں ۔ ابھی امریکہ نے بھی ایران سے متعلق Stratgic patienceکا رویہ اختیار کیا ہوا ہے اور ایران پر سے پابندیاں ہٹائی جارہی ہیں۔


آجکل امریکہ کے ساتھ مذاکرات کئے جارہے ہیں کہ پاکستان کو نیو کلیئر سپلائی گروپ تک آزادانہ رسائی دی جائے۔ شنید ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ بدلے میں پاکستان اپنی ایٹمی ڈیلوری سسٹم کو توسیع دینا بند کر دے اور اسے انڈیا سے متعلقہ صلاحیت سے آگے بڑھنے سے روک دے ۔ شاہین تھری میزائل کا رینج ٹیسٹ کرکے پاکستان اپنی اور عالمی اسلام کی سلامتی کے اہداف حاصل کرنے کی حیثیت میں آچکا ہے اورIndia specificکی حدود پار کر چکا ہے۔ پاکستان اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو وسعت دینے کیلئے کسی ملک کا محتاج نہیں ہے۔ ابھی تک لاگو پابندیوں کے باوجود پاکستان اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو ترقی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس لئے پاکستان پر ایسی کوئی مجبوری نہیں کہ نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شامل ہونے کیلئے نئی پابندیوں میں اپنے آپ کو جکڑ لے ۔ یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کو دیگر ممالک کی طرح ایک آزاد خودمختار ایٹمی قوت ملک کی حیثیت سے کسی پابندی کے بغیر نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے ایسا کوئی معاہدہ کیا جس کے تحت نیوکلیئر ڈیلیوری نظام یعنی میزائلوں کی رینج کو محدود کیا جانا ہو تو اس کے عالم اسلام کی سلامتی اور پاکستان کی سلامتی پر دور رس منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ پاکستان آئے دن عالمی ایٹمی قوتوں کے نیوکلیئر بلیک میل کا شکار ہو تارہے گا۔ #PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment