Wednesday, November 08, 2017
یہ شخص 1946 میں یمن سے ہجرت کر کے فلسطین پہنچا،
صہیونی انٹلیجنس نے اس کو خرید لیا ، یہ موساد کے لیے کام کرتا تھا مگر اس کام کو اسلام کے لبادے میں کر تا تھا، مسجد اقصی میں لوگوں کو نماز پڑھا تا اور درس قرآن بھی دیتا، خان یونس کی مسجد میں بھی درس قرآن دیتا، اس کے ظاہری تقوی اور علم کی وجہ سے لوگ اس کے گرد جمع ہو تے، یہ رو رو کر اسلام کی سربلندی اور یہود کی شکست کے دعائیں کر تا تھا۔ جب 1948 کی جنگ شروع ہوئی اس نے مصری فوج سے رابطہ کیا اور اہم کمانڈروں کے قربت حاصل کر لی ۔ جنگ کے دوران مصری فوج کی انٹلیجنس نے یہ نوٹ کیا کہ یہ شخص آدھی رات کو اکثر غائب ہو جاتا ہے، پیچھا کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ رات کی تاریکی میں صہیونی فوج کے کیمپ جاتا ہے۔
مصری فوج اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے دوران ایک دن اسرئیلی فوج نے مصری فوج سے کچھ میڈیسن مانگ لی کیونکہ ان کے ایک زخمی افسر کو طبی امداد دینا تھا جنگوں میں ایسا ہو تا ہے۔ مصری فوج نے وہ دوا اپنے ایک ڈاکٹر کو دے کر بھیجا اور فلاں فلاں چیز کے بارے میں معلومات کی لانے کا کہا ۔ جس وقت یہ مصری فوجی ڈاکٹر صہیونی کیمپ میں تھا اس نے بھی اس صاحب کو رات کے وقت اسرئیلی فوجی کیمپ میں دیکھا مگر ان جان بن گیا، واپس آکر اپنے ساتھیوں کو بتا دیا کہ مجاہد صاحب کو اسرئیلی کیمپ میں دیکھا۔ اب اس کے بارے میں یہ یقین ہو چکا تھا کہ یہ یہود کا آدمی ہے اس کو خود بھی شک ہو گیا تھا کہ اس کا راز کھل چکا ہے اس لیے نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھنے سے کترانے لگا جس کی وجہ سے افسران خود امامت کر تے تھے۔
یوں ایک رات اس کو یہودی کیمپ سے ہی اغوا کرنے کا منصوبہ بنا یا گیا ایک افسر نے یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوا اور جب یہ رات کو ادھر گیا وہاں سے اس کو اٹھا کر منہ بند کر کے مصری فوجی کیمپ میں لا یا گیا اور مصر ملٹری کورٹ نے اس کو سزائے موت سنا دی پھر اسی افسر نے اس کی لاش لے جا کر رات کے وقت اسرئیلی کیمپ کے پاس چھوڑ کر آیا۔ اس کا نام "فاضل عبد اللہ یہوذا" تھا یہ اصلاً یہودی تھا مگر قرآن حفظ کیا تھا درس قرآن دیتا تھا اور مسجد اقصی کا امام بن گیا تھا!!
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment