Monday, November 20, 2017

“بکتر شکن ہتھیار، پاک فوج کا بہترین شاہکار”

دورِ جدید کی جنگوں میں ٹینک انتہائی معاون ہتھیار ثابت ہوتے ہیں اور اگر دشمن کے ٹینکوں کا تعداد کے حساب سے پلڑا بھاری تو جنگ میں نقصان کا اندیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
اگرچہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنے پیٹ کے ساتھ بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر ان کے ٹینکوں کی سب سے بڑی فوج کو ملیا میٹ کر تو ڈالا لیکن بدلے میں ہمارے بہت سے جوانوں کو اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کرنا پڑا۔ اس صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے ایسا شاہکار تخلیق یا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جو اپنی جدّت اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے دُنیا کے کسی بھی ٹینک کے لئے موت کا پیغام ثابت ہو۔ جو “بکتر شکن” کی شکل میں نمودار ہوا۔بکتر شکن اپنے خدوخال کی وجہ سے چینی ساختہ HJ-8 نامی ہتھیار سے مطابقت رکھتا ہے۔ پاکستان نے بکتر شکن کو پہلی بار 1997 میں ٹیسٹ کیا گیا لیکن 2010 کے بعد اس ہتھیار میں حیرت انگیز تبدیلیاں کی گئیں اور اسے نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا بلکہ اس کی رینج اور Accuracy میں بھی بے پناہ اضافہ کیا گیا۔ اب تک پچاس ہزار کے قریب یہ ہتھیار بنا کر پاک فوج کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔ اس ہتھیار کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
← بکتر شکن ہتھیار بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل۔ پہلا حصہ اس ہتھیار کا مزائل ہے اور دوسرا حصہ اس ہتھیار کے مزائل کا لانچر ہے۔
← بکتر شکن مزائل کو 5 کلومیٹر دور سے گزرتے ہوئے کسی بھی جدید اور مضبوط ترین ٹینک کو باآسانی بڑی نفاست کے ساتھ تباہ کیا جا سکتا ہے۔
← بکتر شکن ہتھیار وائر گائیڈڈ سسٹم سے لیس ہے جو اس کے مزائل کو اپنے ٹارگٹ کو 100 فیصد درست نشانے سے ہٹ کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
← بکتر شکن مزائل کی جدید قسم تیار کی گئی ہے جسے پاکستان آرمی ایوی ایشن کے AH-1 Cobra ہیلی کاپٹر سے فائر کرنے کے کامیاب تجربات بھی ہو چکے ہیں (نیچے ویڈیو موجود ہے)← جنگی حالات میں تیزی سے دشمن کے ٹینکوں کوٹھکانے لگانے کے لئے  اس ہتھیار کو پاکستان کی بکتربند گاڑیوں پر بھی نصب کیا گیا ہے ۔
← اس ہتھیار کو چند منٹوں میں 4 مختلف حصوں میں تقسم کیا جا سکتا ہے اور ہر حصے کا وزن 20 کلو گرام سے بھی کم ہے۔یہ ہتھیار پاکستان کے زمینی حقائق اور پاک فوج کی ضروریات کے عین مطابق ہے۔ بھارت چاہے جتنا مرضی ایڑی چوٹی کا زور لگا لے، وہ روس سے خریدے ہوئے اپنے مضبوط اور جدید ترین ٹینکوں کے بل بوتے پر ہمارے شہروں میں آسانی سے داخل نہیں ہو سکتا۔

No comments:

Post a Comment