Monday, November 06, 2017

مقبوضہ جموں و کشمیر ہی نہیں مقبوضہ جونا گڑھ بھی

اگر ہم 1960 کی دہائی میں یا اس سے قبل چھاپے گئے پاکستان کے نقشوں کو دیکھیں تو ایک حیرت انگیز حقیقت
دو قومی نظریے کی بنیاد پر جب ہندوستان کی تقسیم دو واضح حصوں میں عمل میں لائی گئی تو قانون آزادی ء ہند 1947 کی رو سے تمام مقامی ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان اور ہندوستان میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیں ۔ ریاست حیدر آباد کے نظام الملک (ریاستی سربراہ)آصف جاہ ہفتم میر عثمان علی خان نے اپنی آزاد ریاست کا اعلان کر دیا اور ریاست جوناگڑھ کے نواب مہابت خان جی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ بھارت اس وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سربراہی میں تھا اور گاندھی بھارت کے مرکزی پالیسی سازوں میں تھے انہوں نے عجیب وغریب فیصلہ کیا۔ بھارت نے حیدرآباد ریاست میں فوجیں داخل کیں لاکھوں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا اور میرعثمان علی خان کو گرفتار کر لیا۔ دوسری طرف ریاست جونا گڑھ میں بھی یہی عمل دہرایا اور 9 نومبر 1947 کو جونا گڑھ میں فوجیں داخل کر کے جونا گڑھ پر قبضہ کر لیا۔ یہی کچھ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی کیا مگر ہمیں صرف مقبوضہ جموں کشمیر یاد ہے جب کہ اپنی ریاست جونا گڑھ کو ہم بھول چکے ہیں۔ وہ معاہدہ جو قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ اور نواب مہابت خان جی سوم کے درمیان طے ہوا تھا آج بھی تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے اور اس پر نواب مہابت خان جی اور قائدِ اعظم ؒ کے دستخط موجود ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اس کی منظوری ہوئی یوں نواب مہابت خان جی سوم، قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ اور پاکستان کی قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد وہ ریاست باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ قرار پائی تھی۔
جونا گڑھ زمینی طور بنگلہ دیش کی طرح پاکستان سے منقطع تھا مگر سمندری حد ہماری جونا گڑھ سے ملتی ہے یہ کراچی کے ساحل سے 517 کلومیٹر فاصلے پہ ہے۔ بھارت نے نہ صرف جوناگڑھ پر قبضہ کیا بلکہ جموں، کشمیر، مناوادر، منگرول پر بھی قبضہ کیا یہ سب ریاستیں پاکستان میں شامل ہوتیں اگر بھارت قبضہ نہ کرتا تو۔ حیدرآباد کی آزاد ریاست اس کے علاوہ ہے جوآج تک بھارت کے قبضے میں ہے۔ پاکستان نے اس مسئلہ پرکشمیر سمیت ابتدا میں آواز اٹھائی اور بھارت کی طرف سےکشمیر کی طرح اس معاملے پر بھی یقین دہانی کروائی گئی کہ اس مسئلے کا حل کروایا جائے گا مگر آج تک یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ 1960 کی دہائی تک پاکستان کے نقشے میں موجودہ پاکستان اور مغربی پاکستان دکھایا جاتا تھا اور جموں و کشمیر اور ریاست جونا گڑھ کو پاکستان کے نقشے میں مقبوضہ علاقہ کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔ لیکن ساٹھ کی دہائی کے بعد سوچی سمجھی سازش کے تحت ریاست جونا گڑھ کو پاکستان کے نقشے سے نکال دیا گیا اور درسی کتابوں سے اس کا ذکر گول کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پاکستان کی نئی نسل سے اوجھل ہو گیا۔ جیو کشمیر کے معاملے پر بھی یہ کوشش ایک مرتبہ کر چکا ہے مگر پاکستان کی عوام نے وہ کوشش ناکام بنا دی۔ ضرورت اب اس امر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت مسئلہ جونا گڑھ کو قانون آزادی ء ہند کے تحت اٹھائے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ مسئلہ جونا گڑھ پر عالمی توجہ دلائے۔
ریاست کے بیدخل نواب مہابت خان جی سوم کے پوتے نواب جہانگیر خان جی آج بھی کراچی میں رہتے ہیں۔ وہ اپنی آبائی ریاست واپس حاصل کر کے پاکستان میں شامل کرنے کےلیے آج بھی کوشش کر رہے ہیں اور حکومتِ پاکستان کو باربار مسئلہ جونا گڑھ یاد کروا چکے ہیں مگر بدقسمتی سے یہ معاملہ حکومتی غفلت کا شکار ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت براہمداغ جیسے غداروں کو لندن سے بلوا کر بھارت میں قومیت دے سکتا ہے اور بلوچستان کی باضابطہ ریاست پر پراپگینڈہ کر سکتا ہے تو ہم کیوں اپنا جائز مطالبہ بھارت اور دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکتے ہیں؟ مودی اپنی تقریروں میں بنگال توڑنے کا اعتراف کر چکا ہے اور بلوچستان کے معاملے کو غلط رنگ دے کر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے کیا ہم پاکستانی اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنی ریاست جونا گڑھ کا مطالبہ کریں؟ بین الاقوامی عدالت میں بھی اگر یہ مقدمہ دائر کیا جائے تو فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا کیوں کہ تاریخی دستاویزات موجود ہیں اور نواب مہابت خان جی کے پوتے نواب جہانگیر خان جی جو کہ ریاست کے موجودہ وارث ہیں وہ بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر اپنا علاقہ واپس لینے کی کوشش کیوں نہ کی جائے ؟

No comments:

Post a Comment