Friday, December 01, 2017

آئی ایس آئی کا افتخار

دنیا میں دس ممالک کے انٹیلی جنس ادارے ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔آئی ایس آئی اس فہرست میں نمایاں ہے۔ہر ملک کے جاسوسی ادارے کے کھاتے میں غلطیوں کا ایک پلندہ ہے، آئی ایس آئی سے کبھی غلطی سرزد نہیں ہوئی
 ممبئی دھماکوںکے فوری بعد امریکی سنیٹر جان کیری نے بھارت پہنچ کر کہا تھا کہ آئی ایس آئی کو لگام دینے کی ضرورت ہے،اور پھر امریکی کانگرس نے کیری لوگر بل منظور کیا جس کا ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ آئی ایس آئی کے پر کاٹ دیئے جائیں اور اس کی نکیل سول حکومت کے ہاتھ میں دے دی جائے
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
آئی ایس آئی کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب برٹش انڈیا سے وراثت میں ملنے والے آئی بی کو کشمیر میں بھارتی مداخلت کی خبر تک نہ ہوئی۔جب سے یہ نیا ادارہ تشکیل پایا ہے، اس نے خطے میں پاکستان کی دھاک بٹھا دی ہے، جب پاکستان کے پاس ایٹم بم نہیں تھا تو تب بھی پاکستان کو کوئی تر لقمہ نہیں سمجھتا تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اپنے اسباب ہیں مگر مغربی پاکستان پر بھارت کو لشکر کشی کی جرات نہیںہو سکی ۔
امریکہ خطے کو بھارت کی نظروں سے دیکھتا ہے،بھارت امریکہ کےسامنے واویلا کرتا ہے اور امریکہ آنکھیں بند کر کے بھارت کے الزامات کو پاکستان پر اچھال دیتا ہے۔ اب افغان مسئلے میں امریکہ کو شکائت پید اہوئی کہ آئی ایس آئی بعض جہادی گروپوںکو افغانستان میںحملوں کے لئے استعمال کرتی ہے، اس طرح آئی ایس آئی کے خلاف امریکہ اور بھارت کے بغض کے دھارے آپس میں مل گئے ہیں۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
پاکستان کے اندر حکومت اور آئی ایس آئی کے درمیان اختلافات ابھارنا بھی امریکی اور بھارتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔خود امریکہ میں سی آئی اے پر حکومت کا ڈھیلا ڈھال سا کنٹرول ہے۔سی آئی اے کو ریاست کے اندر ریاست کا درجہ حاصل ہے لیکن اس نے پاکستان کی سویلین حکومتوں کو بھڑکانے میں کبھی کسر نہیں چھوڑی۔ آئی ایس آئی نے اندرونی سیاست میں اگر کبھی حصہ لیا تو ا سکی داغ بیل بھٹو  نے رکھی جنہوںنے اس کا ایس ونگ شروع کیا۔یہ سیاسی ونگ نہیں بلکہ سٹریٹیجک ونگ تھا۔محترمہ بے نظیر نے آئی ایس آئی پر قابو پانے کے لئے ایک ریٹائرڈ جنرل کو اس کا سربراہ بنایا، ایسی ہی ایک کوشش میاںنواز شریف نے بھی کی اور ایک ریٹائرڈ جنرل کو اس کا مدارالمہام بنا دیا، دوسرے دور میں انہوںنے فوج کے اندر سے جنرل ضیاالدین بٹ کو اس کی سربراہی سونپی اور بعد میں انہیں آرمی چیف بھی بنانے کی کوشش کی، جو جرنیل آئی ایس آئی میں بیٹھ کر جی ایچ کیو کی چالوں کو نہیں بھانپ سکا تھا،اس نے آرمی چیف کے طور پر کیا کامیاب ہونا تھا۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
جنرل مشرف کے بعد پی پی پی حکومت بنی توایک بار پھر آئی ایس آئی کو لگام ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اسے وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا گیا مگریہ نوٹی فیکیشن پنگھوڑے میں ہی دم توڑ گیا۔بعد میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے آئی ایس آئی کے سویلین کنٹرول کے لئے ایک پرائیویٹ بل ڈرافٹ کیا لیکن اس کے پیش ہونے کی نوبت ہی نہیں آئی۔

سابق وزیر اعظم گیلانی نے ایبٹ آباد آپریشن کے بعدقومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ ہزاروں امریکیوں کو ویزے کیوں دیئے، میں پوچھتا ہوں کہ اسامہ کس کے ویزے پر چھ سال تک پاکستان میں بیٹھا رہا۔ انہوں نے چین کے خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کے اندر ریاست کو برداشت نہیں کر سکتے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
میمو گیٹ کے خالق منصور اعجاز نے جو پاکستا نی نہیں تھا، ایک کالم میں لکھا کہ آئی ایس آئی پر حکومت پاکستان کو کوئی کنٹرول نہیں ہے۔جان کیری نے بھی ایک بل منظور کرایا جس کا مقصد یہ تھا کہ آئی ا یس آئی کو حکومت پاکستان کے کنٹرول میں لایا جائے۔بھارت بھی واویلا کرتا ہے کہ آئی ایس آئی اسے چین نہیں لینے دیتا۔ ان سب کے درمیان قدر مشترک کیا ہے اور کیوں ہے۔
آئی ایس آئی اس وقت بہت اچھی تھی جب اس نے سووئت روس سے جنگ کا خطرہ مول لئے بغیر سویلین مجاہدین کے ذریعے سووئت فوجوں کو افغانستان میں شکست سے دو چار کیا۔یہ آئی ایس آئی تھی جس نے خبر نکالی تھی کہ کہوٹہ پر حملے کے لئے جموں ایئر پورٹ پر اسرائیلی بمبار طیار کھڑے ہیں ، یہی آئی ایس آئی تھی جس نے دہلی کے ہوائی اڈے پراسرائیلی طیاروں کو جلد بازی میں بھارتی فضائیہ کا رنگ و روغن کرتے ہوئے تصویریں بنالی تھیں لیکن رنگ کرنے والے اسرائیلی فضائیہ کا نشان مٹانا بھول گئے۔اور یہی آئی ایس آئی ہے جس نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اب شمالی اتحاد کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کئے ہیں ، اس سے کرزئی کا دماغ گھوم کر رہ گیا ہے۔اور امریکہ کو سمجھ نہیں آتی جی ایچ کیو میں بیٹھے ہوئے جنرل  اور آب پارہ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے جنرل  کے درمیان سوچ اور عمل کی اس ہم آہنگی نے دنیا کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔دنیا کے چکرانے کی وجہ تو سمجھ میںآتی ہے لیکن ہم خود کیوں چکرائے چکرائے سے ہیں۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ#PakSoldier_HAFEEZ

1 comment:

  1. dehshatgard kon hoty hen ISI ko na keel dalny waly ISI hi cia moosad raw ko lagam de skti he Afghanistan kashmir me isi ki mudakhilat na hoty tu aj pakistan me nato ki fojen hoti

    ReplyDelete