Wednesday, December 13, 2017

پاکستان نئے میزائلوں کے تجربات کرنے کیلئے تیار

پاکستان آئندہ چند ہفتوں میں وقفے وقفے سے کی طرح کے میزائلوں کے تجربات کرے گا۔ یہ تجربات آیندہ چند ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں اور وقفے وقفے سے کی میزائل کے تجربات کیے جائیں گے۔پاک فوج کی ہمیشہ اولین ترجیح پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا نا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی نے پاکستان کے دفعہ میں سب سے زیادہ اہمیت ایٹمی پروگرام اور جدید میزائل ٹیکنالوجی پر دی، اس وقت پاکستان کے پاس ہر وہ ہتھیار اور میزائل موجود ہیں جو ناصرف بھارت کو راکھ میں بدل سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کا نام و نشان دنیا سے مٹا سکتے ہیں۔http://isppakistan.blogspot.comاس وقت بھارت اور امریکہ پاکستان اور چین کے خلاف انتہائی خوفناک منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت امریکہ انتہائی جدید ہتھیار بھارت کو فراہم کر رہا ہے، جبکہ بھارت کی بے چینی بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ وہ کب انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا۔امریکہ اور بھارت کے جنگی منصوبوں کی وجہ سے اس خطے کے حالات خطرناک تک خراب ہوتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ پاک چین کی اقتصادی راہداری امریکہ اور بھارت اپنے مفاد میں نہیں سمجھتے اور یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو نقصان پہنچانے کیلئے دونوں ممالک متحد ہیں۔ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں 2018 میں نئی جنگی حکمت عملی اپنائے گا، یہ حکمت عملی ایسی ہو گی کہ افغانستان اور پاکستان کے بارڈر کے نزدیک زبردست فوجی کارروائیاں ہوں گی جو کہ آج تک نہیں کی گئیں, اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ مستقبل میں امریکی فوج پاکستان کے اندر جہاں چاہے گی کارروائی کرے گی۔ انہی حالات کو سمجھتے ہوئے پاکستان آرمی کی طرف سے فیصلہ کیا گیا کہ مزید جدید میزائلوں کے تجربات کیئے جائیں۔پاکستان کے پاس اس وقت اسرائیل تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں, جو کہ منظر عام پر آ چکے ہیں۔ جبکہ پاکستان مزید جدید نوعیت کے میزائل اپنے دفاع میں شامل کرنا چاہتا ہے, ان نئے میزائلوں میں زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے ایم ۔آئی ۔آر ۔وی میزائل بھی ہو سکتے ہیں۔بیلسٹک میزائل تین قسم کی ٹیکنالوجیز پر مشتمل ہوتے ہیں, پاکستان کے پاس ابابیل میزائل جو کہ ایم ۔ آئی ۔ آر۔ وی ہے, سے پہلے دو طرح کی ٹیکنالوجیز کے میزائل موجود تھے۔ جن میں ایم ۔ آر ۔ای ۔ وی (ملٹیپل ری انٹری وہیکل) اور ایم ۔ اے ۔ آر ۔ وی ( مینوور ایبل ری انٹری وہیکل) شامل ہیں ۔اب الحمداللہ پاکستانی سائنسدان تینوں قسم کے جدید اور انتہائی پیچیدہ نظام پر مشتمل یہ میزائل بنا رہے ہیں۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستانی سائنسدان یہ تینوں قسم کے میزائل بنا سکتے ہیں تو یقیناً بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بھی بنا چکے ہیں۔

No comments:

Post a Comment