Sunday, December 17, 2017

کہتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل پر ایٹم بم کیوں نہیں پھینکتا یہ کس لئے رکھا ہے؟

فرض کریں پاکستان اسرائیل پر اس حالت میں ایٹم بم گراتا ہے تو اس کے بعد پھر ادھر فلسطینی مسلمان زندہ بچ سکیں گے؟ کیا آس پاس کے مسلمان محفوظ رہینگے؟ یہ کوئی چائنہ پٹاقہ تھوڑی ہے کہ جیب میں ڈالے پھروں اور جدھر مرضی تیلی دکھاؤ؟ ان کی کھوپڑیاں عقل کیلئے مقفل نہ ہوتے تو ایسا نا بولتے، عرب شاہ و شہزادوں کے منہ سے گرنے والے تلور کی ہڈیاں چبانے والوں میں ہمت ہوتی تو ان شیخوں سے پوچھتے کہ فلسطین کی پیٹھ میں گھومپنے کیلئے ٹرمپ کو چھرا کیوں پکڑایا؟؟ دوسری طرف عاشقانِ اضطراب فلسطینیوں کے حقوق کا چیمپئن بننے والے ایران سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ یہ جو تھوک کے حساب سے ہو لڑائی میں پاسداران انقلاب کھود پڑتے ہیں یہ فلسطین جا کے قبلہ اوّل کے پاسدار کب بنینگے؟؟ اور باقی یہ لبرل لوگ! اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی،، پہلے ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ تسلیم کرنے پر یہ خوشی سے بندر کی طرح ناچ ناچ کر بے حال ہورہے اور اگلے سانس میں کہتے ہیں ’’پاکستانی فوج فلسطین کیوں نہیں جاتی‘‘ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان اور اسکی فوج نے اپنی استعداد سے کہیں بڑھ کے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت اور مدد کی ہے اور میرا خیال ہے کہ اب بھی جس طرح ہماری فوج کی طرف سے کثمیری حریت پسندوں کی ’’اخلاقی حمایت‘‘ ہورہی اس طرح کی حمایت فلسطینوں کی بھی ہو رہی ہے لیکن شاید کچھ اس انداز سے ہو کہ وہ نظر نہ آرہا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری فوج قبلہ اؤل کیلئے براہ راست بھی لڑیگی اور اس کیلئے موزوں وقت کیا ہوگا یہ فوجی اور دفاعی امور کے ماہرین ہی سمجھتے ہیں نہ کہ وہ عقل بند کہ جن کے گھر کوئی چور گھس جائے تو پورے گھر کو تیل چھڑک کر اپنوں سمیت جلانے کی بات کرتے ہیں لہذا اگر یہ منہ کا ڈھکن بند ہی رکھیں تو بڑی مہربانی ہوگی کیونکہ جب ان کا یہ ڈھکن چڑھا ہوا رہتا ہے، یقین جانو تب فضا بڑی معطر رہتی ہے

No comments:

Post a Comment