Tuesday, December 19, 2017
پاکستان ایجنسیاں تباہی نہیں چاہتیں مار دھاڑ نہیں چاہتیں
ایجنسیاں چاہتی ہیں شہری اپنے مُلک کے خلاف ہونے والی کسی سازش کا حصہ نہ بنیں ۔
یاد رکھیں ایجنسیز ”بندہ اُٹھانا آخری حربے کے طور پر استعمال کرتی ہیں کال کرکے بندے کو سمجھانا ، ملاقات میں سمجھانا ، سہولت کاروں کو خبردار کرنا ، کالعدم نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ، ملک و مذہب دشمن عناصر کی نشاندہی کرکے اُن سے دُور رہنے کی تاکید کرنا ، نوکریوں میں بلاک لسٹ کردینا ، کڑی نگرانی کرنا ، واچ لسٹ میں ڈالنا ، فورتھ شیڈول میں ڈالنا یہ سب کرنے کے بعد بھی جو باز نہ آئے ، اُسے اُٹھایا جاتا ہے اداروں کے پاس بندہ ٹھیک کرنے کے ہزاروں آپشن ہوتے ہیں ، ایک دھمکی بھری کال ہی کسی الٹے راستے والے کو لائن پر لے آجاتی ہے ، مگر جو باز نہ آئیں اُنھیں اُٹھانا پڑتا ہے
ایجنسیوں کے خلاف مذہبی لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر پایا جاتا ہے اگر دیکھا جائے تو مذہبی لبادہ میں ، شریعت کے نام پر دہشتگردی نے مذہب کو بدنام کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی ، جو لوگ ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر اپنے ہی ملک میں دہشت گرد حملے کرتے ہیں اُنھیں اُٹھایا جاتا ہے۔
کسی پرامن مذہبی جماعت کے پرامن بندے کو نہیں اُٹھایا جاتا ، اگر کبھی تحقیقات کے لیے اُٹھایا بھی جائے تو واپس چھوڑ دیا جاتا ہے ، حتیٰ کہ اُن مسلح جماعتوں کے لوگوں کو بھی نہیں چھیڑا جاتا جو کشمیر اور افغانستان میں کاروائیاں کرتی ہیں ، تاہم وہ واچ لسٹ پہ ضرور ہوتی ہیں تحریکی جماعتوں کی راہ میں بھی خاص روڑے نہیں اٹکائے جاتے ۔
حالیہ دنوں میں جو بندے چُکنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے ، وہ پاک چین اقتصادی راہدراری کے تناظر میں جاری رہے گا ، ایجنسیاں اُسے ہی اُٹھائیں گی جس کا ہاتھ ، دماغ ، قلم یا ہتھیار قومی اداروں ، پاکستان ، موجودہ نظام ، کسی مسلک ، مذہب ، فرقے ، زبان ، قومیت یا صوبے کے خلاف استعمال ہوگا ہاں دشمن ایجنسیوں کو بدنام کرنے کے لیے خود سے بھی لوگوں کو اُٹھوا سکتا ہے ، یہ یقینا” قابلِ غور بات ہے خدا تعالیٰ ہم سب کی حفاظت کرے ، اور ایسوں میں ہمارا شمار نہ کرے ایجنسیوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، ایجنسیاں ہماری طاقت ہیں ہمارا سرمایہ ہیں ،،،، ایجنسیوں یا پاک فوج سے متعلق اپنی تجاویز ، شکایات اور اظہارِ رائے کے لیے "آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو کھلا خط لکھنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے جسے وہ کبھی بھی استعمال کرسکتا ہے"
I.S.I
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment