باڈی سٹرکچر میں بکتر بند گاڑیاں دراصل ٹینکوں کی بہنیں تصور کی جاتی ہیں.ان کی حفاظتی دیوار ٹینک جیسی ہی ہوتی ہیں ۔
ٹینکوں کے ساتھ ساتھ متواتر بکتر بند گاڑیاں بھی تیار ہوتی رہیں۔ان وہیکلز کو ان کے کردار کے سبب کئ اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔کچھ بکتربند گاڑیاں ٹینک تباہ کرنے،کچھ پرسنل کیرئیر کے طور پر،اور کچھ زمانہ امن میں قیدیوں کو منتقل کرنے کے لیۓ استعمال ہوتی ہیں۔
پاکستان آرمی نے شروع میں امریکا سے کئ بکتر بند گاڑیاں خریدیں۔جن کو 80 کی دہائ میں ریٹائرڈ کر دیا گیا۔
پاکستان نے اس فیلڈمیں بھی طلحہ اےپی ایس کی تیاری سے اپنی مہارت کے جھنڈے گاڑ ڈالے۔
یہ بکتر بند گاڑی ایک پرسنل کیرئیر نوعیت کی ہے جو بیک وقت 15 کے قریب سپاہیوں کو باحفاظت دشمن کے علاقے میں پہنچانے کے کام آتی ہے۔
موجودہ طلحہ اےپی ایس 10 کلوگرام برود کا دھماکا اپنے جسم پر برداشت کر سکتی ہے جبکہ پرسنل ڈفینس مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بکتربندگاڑی اینٹی ائیرکرافٹ گن اور شارٹ رینج ائیر ڈفینس سے بھی لیس کی جا سکتی ہے۔اسکے علاوہ یہ ایک عدد بکتر شکن گائیڈڈ میزائیل اور 12.7mm کی ہیوی مشین گن سے بھی مزین ہو سکتی ہے۔پاکستان اس بکتربند گاڑی کو دنیا کے کئ ممالک کو فروخت کر کے ذرمبادلہ کما چکا ہے۔
اسکے علاوہ پاکستان آرمی میں دوسری کئ بکتر بند گاڑیاں قابل استعمال ہیں۔لیکن ان کے استعمال کا دائرہ کار محدود ہے۔
حمزہ اے پی سی پاکستان کی جدید ترین سمارٹ اور نئ بکتر بند گاڑی ہے جو کہ ہر طرح سے پرفیکٹ ہے۔امید کی جاسکتی ہےکہ پاکستان آرمی نئ سے نئ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔
یاد رہے انڈیا آج تک اس فیلڈ میں وہیں کھڑا ہے جہاں وہ 1947 میں کھڑا تھا۔

No comments:
Post a Comment