Saturday, December 30, 2017

ایک بلا جو نزدیک آن پہنچی

بہت سمجھایا بہت روکا پر جب کان آنکھیں  بند ہو جائیں دلوں پر مہریں لگ جائیں  آواز کے باوجود سنائی دیتا ہے نہ روشنی کے باوجود کچھ دیکھائی دیتا ہے جن مسائل کو جس نے امت کے اندر خرابی کو جنم دیا تھا آج سے ٹھیک اسی وقت ختم کر دیا جاتا جب پودا جنم لے رہا تھا تو شاہد آج کی نسلیں جلنے کے بچ جاتی مگر اب اسی لگائی ہوئی آگ جسے کفار ملک عراق شام میں  بھڑکاتے رہے ہیں میں مسلمانوں کی نسلیں بری طرح سے جلنے والی ہیں اور اس آگ میں  شاہد اتنے عجمی نہ ہوں جتنی کے عربی نسلیں  اندھن بنے گی جسے اب کافر بھی بھڑکانے کے بعد اگر خواہش رکھنے کے باوجود   بھی  بوجھا نہ پاے گا -
ام المومنین زینب بن جحشؓ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سوتے سے جاگے، آپؐ کا چہرا مبارک گھبراہٹ سے سرخ تھا، فرمانے لگے
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
’ایک بلا ہے جو نزدیک آن پہنچی عرب کی خرابی ہونے والی ہے‘
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
ام المومنین حضرت زینب ؓ نے عرض کیا ’یا رسول اللہؐ! کیا نیک لوگوں کے رہنے پر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے(اللہ کا عذاب اترے گا ؟) آپ ؐ نے فرمایا’ہاں جب برائی بہت پھیل جائے گی (بخاری )
-----------------------
تو عربوں پر خواہ کسی بھی فرقہ کے تعلق رکھتے ہوں ان پر برا وقت آن پہنچا بہت ہی برا ایسا برا کے دیکھنے والوں کی روح بھی کانپ جاے گی جو شیطان کے بھیانک قہقوں پر جا کر اختتام پزیر ہو گئی
----------------------
اللہ سے یہی دعا ہے خدایا کم از کم اس حرم کی سرزمین کو اس آفت سے محفوظ رکھ جو مسلمانوں کا مرکز ہے اور اس سرزمین  پاکستان کو بھی جیسے حجاز میں اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے تو نے اٹل فیصلہ کر رکھا ہے.                        #PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment