Thursday, December 21, 2017

عالمی طاقتوں کا خفیہ کھیل ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان، پاکستان اور بھارت کے بارے میں پالیسی

تقریر کے بعد اگرکوئی آج بھی خوابوں کی دنیا میں رہ رہا ہے کہ ہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کا اگلا نشانہ نہیں بنیں گے تواسے احمقوں کی جنت سے نکل آنا چاہیے۔ خصوصاً ان لوگوں کو جوپاکستان کی سر زمین پر رہتے ہیں، یہاں سے رزق حاصل کرتے ہیں، روس دسمبر 1979ء میں افغانستان میں داخل ہوا اور تقریباً 10 سال گزارنے کے بعد 15 فروری 1989ء کو شکست خوردہ حالت میں رخصت ہو گیا۔ یہ 10 سال پاکستان میں دھماکوں اوردہشت گردی کے سال تھے۔ اس دوران میں دھماکہ کرنے والے کے جی بی (روس کی خفیہ ایجنسی) اورخاد ( افغان خفیہ ایجنسی) کے ایجنٹ ہواکرتے تھے اوراسامہ بن لادن سے لے کرحکمت یار، برہان الدین ربانی اور دیگر افغان مجاہدین پاکستان کے ہوٹلوں میں گپ شپ لگاتے نظرآتے تھے۔ القائدہ کا دفترپشاورکے قلب میں واقع تھا۔ روس افغانستان سے چلا گیا، لیکن نجیب اللہ وہاں موجود رہا۔ اب مجاہدین کی اس سے جنگ تھی۔ یہ جنگ اس کی بر طرفی تک رہی، پھرمجاہدین گروہوں کی آپس میں اقتدار کی کشمکش کی جنگ شروع ہو گئی، یہ جنگ اس قدر خوفناک تھی کہ پورا افغانستان جہنم بن گیا۔ اس جہنم کوامن کی وادی میں بدلنے کے لیے ملا محمد عمرکی قیادت میں 1994ء میں جہاد کا اعلان ہوا اور چشم زدن میں بغیر کوئی فائر کیے قندھار صوبہ کے افغان سپاہیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ خانہ جنگی سے تنگ آئے ہوئے افغانوں نے سکھ کا سانس لیا اور 95 فیصد افغانستان معمولی مزاحمت کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آگیا۔ باقی ماندہ پانچ فیصد پرامریکا، ایران اوربھارت کی مدد سے مزاحمت جاری رہی۔ اسامہ بن لادن مجاہدین گروہوں کی آپس میں خانہ جنگی سے تنگ آ کر افغانستان چھوڑ چکا تھا، وہ 1996ء میں واپس آگیا۔ اسی سال طالبان کا جھنڈا کابل میں بھی لہرانے لگا۔ امریکا نے اسامہ بن لادن کا بہانہ بنا کر اگست 1998ء میں افغانستان پر میزائل حملہ کیا جو بری طرح ناکام رہا۔ 15 فروری 1989ء سے لے کر گیارہ ستمبر 2001ء تک تقریباً ساڑھے 12 سال پاکستان میں امن، سکون اوراطمینان کے سال تھے۔ پاکستان میں اپنے جھگڑے موجود تھے خواہ مسلکی اختلاف کے جھگڑے ہوں یا پھرسیاسی دہشت گردوں کی بھتہ خوریاں یا اغوابرائے تاوان اورکراچی کویرغمال بنانا کیوں نہ ہو؟ پشاورکا قصہ خوانی، لاہورکی انارکلی، اسلام آباد کا بلیوایریا، کوئٹہ کی جناح روڈ رات گئے تک بلا خوف وخطراورروشن تھیں۔ کراچی اپنے رنگ بدلتا تھا، لیکن اس کے خوف کا کوئی تعلق افغانستان سے نہیں تھا۔ ان کا خوف مقامی تھا۔ جولوگ ہی منطق بگھارتے ہیں کہ ہمیں یہ بدامنی افغان جہاد میں تحفے میں ملی انہیں پاکستان میں امن وسکون کے یہ بارہ سال کبھی نظرنہیں آتے۔ طالبان حکومت کے آخری چھ سال تووہ تھے کہ پاکستان سے گاڑی چوری کرکے یا کسی فرد کواغوا کرکے کوئی شخص افغانستان میں پناہ نہیں لے سکتا تھا۔ پاکستان میں ہیروئن کے سمگلروں کا رزق بند ہوگیا تھا کہ طالبان نے پوست کی کاشت پرپابندی لگا دی تھی۔ جولوگ کہتے ہیں کہ افغان جہاد سے ہمیں ہیروئن تحفے میں ملی تودنیا کا منشیات فروشوں اورمنشیات استعمال کرنے والوں کا نقشہ اٹھا کرسامنے رکھ لیں۔ سب سے زیادہ منشیات فروش اورہیروئن استعمال کرنے والے امریکا میں موجود ہیں، اس کے بعد یورپ میں، کیا آپ ان میں سے کسی ایک ملک نے بھی کہا کہ یہ سب افغان جہاد کا تحفہ ہے۔ افغان جہاد کا دوسرا تحفہ کلاشنکوف کہا جاتا ہے۔ کلاشنکوف روسی ساخت کا اسلحہ ہے اورپوری دنیا اس کی سمگلنگ کے طریقہ کارسے آگاہ ہے۔ اسلحہ کی سمگلنگ کا کسی علاقے میں موجود لڑائی سے کوئی تعلق نہیں، البتہ لڑائی کے دوران مال کی کھپت زیادہ ہونے لگتی ہے۔ یورپ کے شہروں خصوصاً برسلز میں بیٹھے اسلحے کے تاجرآپ کوآپ کے گھرمیں اسلحہ پہنچاتے ہیں اور پہنچانے کے بعد پیسے وصول کرتے ہیں۔ لاطینی امریکا سے لے کرفلپائن اور خصوصاً امریکا کے شہریوں میں اسلحہ سپلائی کیا افغان جہاد کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ایران عراق جنگ بھی انہی سالوں میں لڑی جاتی رہی اوراسرائیل سے لے کرامریکا اوریورپ کے اسلحے کے تاجروہاں بے تحاشہ اسلحہ فروخت کرتے رہے ہیں۔ آپ آج پاکستان میں ایک مسلح لڑائی کا آغاز کرکے دیکھیں، آپ حیران رہ جائیں گے کہ کیسے اسلحے کے تاجریہاں کودتے ہیں۔ 1974ء میں جب بلوچ پاکستان کی فوج سے لڑرہے تھے توکیا ان کو اسلحہ افغان جہاد کی وجہ سے میسرہوا تھا۔ میرے ملک کے تبصرہ نگاروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک فقرہ گھڑتے ہیں اور پھر اس کی اتنی گردان کرتے ہیں کہ اسے حقیقی سچائی بنا کرپیش کرتے ہیں۔ افغان جہاد کے بعد پاکستان کے بارہ سال اس لیے اطمینان اورسکون کے تھے کہ افغانستان میں کسی عالمی یا علاقائی طاقت کوپنجے گاڑنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ پرویز مشرف کی پالیسیوں کے بعد کے سترہ سال پاکستان کی تاریخ کے بدترین، خون آشام اور ذلت و رسوائی کے سال ہیں۔ 70 ہزار افراد کا لہو، دس ہزارکے قریب افواج کی قربانی کے باوجود آج بھی ہم امن کو ترس رہے ہیں۔ اس لیے کہ جس امریکا کواپنے قدم جمانے کے لیے افغانستان میں راستہ ملا، اس نے وہاں بھارت اورایران کو لابٹھایا اورپھر اس گٹھ جوڑ میں امریکا خود بھی شریک ہوگیا۔ اب تک وہاں بھارت کے سفارتخانے کام کررہے تھے اورافغان حکومت کے ساتھ بھارت نے معاشی ترقی کے منصوبوں پرکام شروع کر رکھا تھا۔ بھارت کواس بات کا اندازہ ہے کہ افغانستان میں فوجی سپاہی بھیجنا خطرناک ہے ایسا کرنا، افغان عوام کوایک ہزارسالہ ہندو دشمنی کی روایت کی وجہ سے مشتعل کرسکتا ہے۔ اس لیے فوجیوں کے اس خلا کوایران سے پر کیا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2016ء جب طالبان نے ہلمند، کندوز اوردیگر صوبوں میں امریکی اور افغان فوجیوں کے خلاف شدید حملوں کا آغاز کیا توانہوں نے فرح کے علاقے کا بھی محاصرہ کرلیا۔ یہ محاصرہ کئی مہینے تک جاری رہا اورآخرکارامریکی فضائیہ کوبلا کرشدید بمباری کی گئی۔ لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس محاصرے میں ایک جانب طالبان نے گھیرا ڈالا ہوا تھا اور دوسری جانب ایرانی کمانڈوز اس لڑائی سے فائدہ اٹھا کرقبضے کی کوشش میں وہاں موجود تھے۔ جب فضائی حملے کی دھول چھٹی توجہاں طالبان اپنی لاشیں اٹھا کر اپنی پناہ گاہ میں لے کر گئے، وہاں ایرانی بھی 5؍ اگست 2017ء کو اپنے چار سینئر کمانڈوز کی لاشیں اٹھا کرایران لے گئے جن کا جنازہ تہران میں پڑھا گیا۔ اس وقت خطے میں افغانستان، بھارت اورامریکا ایسے اتحادی بن کرابھرے ہیں جن کا معاشی، اقتصادی، سیاسی اورفوجی مفاد تک مشترکہ ہوچکا ہے۔ یہ ایک اعلانیہ اتحاد ہے۔ اس کے برعکس روس اورچین نے خطے کا توازن برقرار رکھنے اوراپنے مفادات کے تحفظ کے لیے طالبان سے تعلقات استوار کر لیے ۔ مئی 2017ء میں امریکا نے الزام لگایا کہ روس طالبان کواسلحہ فراہم کررہا ہے۔ اب اس صورتحال میں ذرا خفیہ معاشقے کی صورتحال دیکھیں کہ جنوری 2017ء میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیراجیت ڈوول روسی صدر پیوٹن سے پانچ گھنٹے مذاکرات کرتے ہیں اور وہاں سے یہ یقین دہانی لے کر برآمد ہوتے ہیں کہ روس طالبان سے تشدد چھوڑنا، القاعدہ سے تعلاقت کا خاتمہ، آئین کوتسلیم کرنا اوربھارت سے دوستی اور کشمیری عسکریت پسندی سے علیحدگی کو تعلقات کی بنیاد بنائے گا۔ اس کے بعد فروری میں بھارت روس کے چھ ملکی اتحاد میں شریک اورایران نے بظاہر امریکی مفادات کے خلاف طالبان کی خفیہ مدد شروع کر دی۔ اس کا بنیادی مقصد صرف اورصرف ایک تھا کہ اگرامریکی شکست کے بعد جوخلا پیدا ہوگا، اس میں طالبان اگرحکومت بنا لیتے ہیں توایسی صورتحال میں وہ ایران کی مدد کے مشکورہوں گے اوراس طرح وہ بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری کوبھی تحفظ دیں گے اورپاکستان سے کوئی گرم جوشی کا اظہارنہیں کریں گے۔ یہ ہے گزشتہ بیس سال سے اس خطے میں بھارت اورایران کا عالمی طاقتوں سے بظاہرخفیہ اتحاد جس کی بنیاد پاکستان کو خطے کی سب سے منفی قوت ثابت کرنا ہے اوراسے الزامات کی زد میں رکھ کرخوف زدہ کرتے رہنا ہے۔ خطے کی اس صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی تقریرسامنے آئی ہے اوراس میں بھارت کی تعریف اورپاکستان کوایک ہی سانس میں یعنی ایک ہی پیراگراف میں لتاڑا گیا ہے۔ اور یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی فتح نہیں بلکہ دونوں قوتوں کا بھارت کو اس خطے میں تھانیدار بنانے پر اتفاق ہے جس کی پشت پر مضبوط اسرائیلی، یہودی اورصیہونی لابی کام کررہی ہے جو بھارت کی کسی بھی طور پر امریکا اور یورپ کے پالیسی سازوں کی نظرسے گرنے نہیں دیتی۔ اسرائیل کواپنے اردگرد ایک تباہ حال، لڑائی میں غرق اورخانہ جنگی میں ڈوبا ہوا مشرقِ وسطیٰ چاہیے تھا، وہ اسے امریکا اورروس نے ایران کی مدد اورسعودی عرب کی بظاہر مخالفت لیکن عملاً مدد سے مہیا کردیاہے۔ مصراورشام عراق اورلبنان لہولہان اورسعودی عرب اورخلیجی ریاستیں خوفزدہ۔ ایسے میں جنوبی ایشیا میں صرف پاکستان ہے جو تمام طاقتوں کو کھٹکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنا گھر برباد کر کے امریکی مدد کرے، اس پرپھر بھی حقانی نیٹ ورک اورطالبان کے ساتھ تعلقات کا الزام ہے۔ اس صورتحال پاکستان کو کونسے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ امریکا یہاں کیا کرنے جا رہا ہے اوراس دوران ہمارا دوست کون ہوگا اور دشمن کون۔ ٹرمپ کی تقریر کے بعد 2009ء سے 2013ء تک افغانستان میں اتحادی افواج کے کمانڈر ایڈمرل ’’جیمز سٹاورڈز‘‘ جو اس وقت فلیچر سکول آف ڈپلومیسی میں ڈین ہے، اپنے ایک انٹرویو جو اس نے روبن ینگ کو دیا۔ اپنے مضمون میں جوفارن پالیسی میں شائع ہوا واضح طور پر امریکی حکمت عملی کے تین راستے بتائے ہیں، جن میں دو ناقابلِ عمل اورایک کارگر ہے۔ پہلا یہ کہ نیٹو کی ایک لاکھ 50 ہزار فوجیں دوبارہ افغانستان بھیج دی جائیں، لیکن اس پرکوئی ملک راضی نہیں ہوگا۔ دوسرا یہ کہ امریکا اپنے 8 سو ارب ڈالرکے جنگی اخراجات اور 24 سو فوجیوں کی ہلاکت پرفاتحہ پڑھ لے اور ویت نام کی طرح امریکی سفارت خانے کی چھت پر ہیلی کاپٹر اتار کر اپنے سپاہیوں اور عملے کو وہاں سے نکال لے۔ اس ذلت پربھی کوئی راضی نہ ہوگا۔ تیسرا اورواحد حل یہ ہے کہ ایسے چار ہزارکمانڈو افغانستان میں داخل کیے جائیں جنہیں گزشتہ دس سالوں سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ پھر پاکستان کوخطے میں تنہا کرتے ہوئے بھارت کے ذریعے دباؤ ڈالا جائے۔ پاکستان کے وہ ٹھکانے جن کے بارے میں پہلے ہی دنیا کو قائل کیا گیا ہے کہ یہاں دہشت گرد پناہ لیتے ہیں، ان پر قبائلی علاقوں کی طرح ڈرون اور ایئرفورس حملے کیے جائیں خواہ وہ مریدکے ہو یا بہاولپور، کوئٹہ ہو یا کراچی۔ افغانستان کی ایئرفورس مضبوط بنائی جائے جو بھارت سے مل کرپاکستان کی فضائی حدود پراختیارحاصل کرے۔ یہ ہے جس کی بنیاد پرپاکستان کو ڈوموراوراپنا گھرٹھیک کرنے کا کہا جارہا ہے کہ پاکستان کا گھرٹھیک نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب امریکی دسترخوان پرناشتہ کرنے والے سیکولر، دانشوراورمشرف کے ہمنوا سیاستدان یہ راگ الاپتے تھے کہ ہمیں اپنا گھرٹھیک کرنا چاہیے۔ ایران اوربھارت امریکا کے ساتھ ہیں اورچین اپنے مفادات کے تحفظ میں خاموش تماشائی۔ افغانستان میں دومتحارب گروہ لڑرہے ہیں، ایک پاکستان کے دشمنوں کی ساتھی افغان حکومت ہے اوردوسرا 60 فیصد افغانستان پرقابض پاکستان کے دشمنوں سے لڑنے والے طالبان میں۔ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد پوری دنیا میں صرف طالبان کی آواز بلند ہوئی ہے کہ ہم امریکی حملے کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ بھارت طالبان کی ممکنہ فتح کے خطرات کے تحت روس کے ذریعے ان سے تعلقات بنا رہا ہے۔ ایران بھی ان کی خفیہ مدد کررہا ہے، لیکن ہم آج تک دوست اور دشمن کی تمیز نہیں کرسکے۔ پورے خطے میں پاکستان کے واضح دوست، حلیف اورمددگارافغان طالبان ہیں جوآزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ پاکستان کی اخلاقی حمایت کا اعلان اس خطے میں صورت حال کوبدل دے گا۔ شکست زدہ امریکا خوفزدہ ہوسکتا ہے۔ روس اورچین کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ ان سب کو پاکستان میں ایک غیرت مند اورمحب وطن قیادت کی ضرورت ہے، امریکی غلامی میں ڈوبی ہوئی حکومت کی نہیں۔ یاد رکھواگرکل پاکستان پرڈومورکے لیے ایکشن اورحملہ ہوتا ہے تواس خطے میں صرف عوام اورفوج رہ جائیگی کہ ان کا مرنا جینا یہاں ہے۔ سیاست دان اور حکمران وہاں بھاگ جائیں گے جہاں کے ان کے پاس اقامے ہیں۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment