Monday, December 25, 2017

غیر ملکی ایجنٹ اور پاکستان

ایک مرتبہ قصور میں خفیہ اداروں نے کاروائی کر کے قصور سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ‘ را ‘ کے تین مبینہ ایجنٹ گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بھارتی پاسپورٹس ، کرنسی، حساس تنصیبات فوجی جھاؤنیوں کے نقشے ، سرحد پر تعینات یونٹس کی تفصیلات اور اسلحہ چار اسٹین گن، پستولیں دیگر بر آمد کر لیا تھا ۔ گرفتار ہونے والے قصور کے رہائشی بن چکے تھے ان کی شناخت عمیر، کاشف اور شہزاد کے ناموں سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں حساس اداروں نے اپنی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ۔ ----------------------------------------------- سندھ کے دل کراچی کے علاقے لیاری سے پولیس نے ایک کاروائی کے دوران مبینہ بھارتی جاسوس کو گرفتار کیا تھا ۔اس گرفتار ملزم کا تعلق بھارتی یو پی سے جبکہ سے بھارتی پاسپورٹ، کرنسی ، کراچی کے حساس علاقوں کے نقشے اور معلومات بر آ مد ہوا تھا ملزم کے قبضے سے پاکستانی جعلی شناختی کارڈ بھی ملا تھا جس پر شاہ عالم درج تھا ۔ یہ 1993ء میں پاکستان آیا تھا۔ ------------------------------------ لاہور سے اسرائیل کے ایجنٹ ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کیا گیا تھا جس کا تعلق سرائیکی سے ہیں ۔ اس اسرائیلی ایجنٹ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ملزم گوانتاناموبے میں ڈھائی سال تک قید رہا ہے جہاں اس کی برین واشنگ کی جاتی رہی۔ بعد ازاں اسے وہاں سے افغانستان بھیجا گیا تھا جہاں اسے دہشت گردی کی خصوصی تربیت دی گئی تھی اور اس کے بعد اسے پاکستان بھیجا گیا تھا۔جس کی عمر چالیس برس تھی اور انفارمیشن و ٹیکنالوجی میں ایم ایس سی کیا ہوا تھا۔ لاہور میں ایک کاروائی کے دوران ملزم کو لاہور کے پوش علاقے دیفنس سے گرفتار کیا گیا تھا تو اس نے شدیدمزاحمت کی تھی اور گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے خطرناک اسلحہ ،حساس مقامات کے نقشے لیپ ٹاپ کمپیوٹر بھی بر آمد ہو ا تھا۔ ----------------------------------------------------------- وہ یروشلم میںموجود اپنے رابطہ کاروں کے ساتھ بزریعہ ای میل رابطہ کر کے اپنی کاروائیوں کے متعلق آگاہی دیتا تھا ۔اس کے تمام ای میل و تمام رابطے یروشلم سے تھے ۔ دوران تفتیش اس نے بتایا تھا کہ گوانتا نا موبے سے واپس لا کر افغانستان سر حدی اسپین بولدک کے قریب واقع گاؤں میں ” رازق پنچھیری” میں قائم ایک خصوصی ٹریننگ سینٹر میں دی گئی تھی یہ افغان انٹیلی جنس کے مقامی سربراہ کا گاؤں تھا جو پاکستان سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔ یہ قائم شدہ سینٹر صرف اور صرف پاکستان میں ہی تخربی کاروائیوں اور پاکستان کی تبائی کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ جس کی براہ راست سربرائی انڈین قونصلیٹ کرتا تھااور اس سینٹر میں ‘ موساد ‘ کے اہلکار پاکستانی بھٹکے ہوئے لوگوں کو لاکر پاکستان دشمنی اور تخربی کاروائیوں کا تربیت دیتے تھے۔ ------------------------------------------------------ یہ پشین بلوچستان کا شہر آمدورفت کے لئے استعمال کیا کرتے تھے ۔ اس کیمپ میں 250 سے زائد پاکستانی زیر تربیت تھے۔ 9جولائی کو چناب کے کنارے فوجی کیمپ پر فائرنگ ، 12 جولائی کو اچھیرہ لاہور میں خیبر پختون جیل پولس کے اہلکاروں کے قتل کے سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ اور یہ کم از کم 200 سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہوا ---------------------------------------- اس کو بھاری رقم ‘ موساد ‘ فراہم کرتی تھی ۔ اور اس نے مزید بتا یا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس اور را بھارتی انٹیلی جنس مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کئی منصوبوں پر کام کر رہیں۔ بحرحال دوستوں ! پاکستان میں حالات خراب کرنے کے پیچھے امریکا ، اسرائیل اور بھارت سمیت افغانستان کا بھی کافی ہا تھ ہے یہ افواج کی قابلیت ہے کہ ان سے پاکستان کو کیسے چھٹکارا دلا یا ہے۔ خدائیداد اسلامی مملکت پاکستان میں موجودہ حالات اس قدر سنگین اور دلگیر بن چکے تہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا تہا کہ اتنی بڑی تعداد میں آئے روز کیسے واردات ہو رہے ہیں ؟ اتنی تبائی کیسے پھیل رہی ہے ؟ حالات دن بدن بہتر ہونے کے بجائے خطرناک ہو تے جا رہے ہیں ۔ یکے بعد دیگر حکومت صرف الیکشن سے پہلے نعرے بازی تک ہی کیوں محدود ہیں ؟ اقتدار سنبھالنے والے مزے کی نیند سو رہے ہیں اور ملک تندور کی برح جل رہا ہے ۔ کسی کو کوئی عبرت نہ کسی کو زرا سا بھی احساس۔ پاکستان میں بہت سے سیکورٹی ادارے بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں حالات خراب کرنے کے پیچھے کافی بیرونی ہاتھ ہیں ۔جن کے شوائد بھی کافی بار مل چکے ۔ چاہے وہ بلوچ یا پشتون معاشرے کی شکل میں ہو یا مہاجر و پنجابی کی شکل میں ۔ لیکن ملک میں کافی نا خوشگوار کاروائیوں میں بیرونی ہاتھ ملوث تہے۔ #PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment