Saturday, December 16, 2017
خونی چاند گرہن یہودیوں کے دنیا پر غلبہ پانے کی نشانی ؟
سرخ چاند کے بارے میں ناسا کا کہنا ہے کہ یہ چاند 18 ماہ کے دوران وقفے وقفے سے نمودار ہوتا ہے اور چاند گرہنوں کے بعد یہ عمل مکمل ہوتا ہے۔ یہودی نجومی سرخ چاند کو دنیا میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھتے ہیں۔
--------------------
لاہور: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) تینتیس برس بعد لاکھوں افراد نے چودھویں کا چاند گرہن لگ جانے سے سپر بلڈ مون دیکھا۔ سپر مون کو گرہن لگنے سے اس کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے جسے بلڈ مون کہتے ہیں۔ پیر اور اتوار کی درمیانی شب مکمل چاند گرہن ہوا اور دنیا کے کئی ممالک میں آسمان پر ایک ایسا چاند نمودار ہوا جو نہ صرف معمول سے بڑا تھا بلکہ اس کا رنگ بھی سُرخ تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد نے اس نظارے کو دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ چاند کے زمین کے مدار سے انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے اسے سپر مون کہا جاتا ہے۔ سپر مون کا یہ عمل اگر چاند گرہن کے دوران ہو تو یہ لہو رنگ چاند بن جاتا ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ سپر مون اور چاند گرہن آخری بار 1982ء میں اکٹھے ہوئے تھے اور ایسا اب 2033ء میں ہوگا۔
ٓ--------------------------------------
دنیا کی تاریخ میں جب بھی خونی چاند گرہن ایک ترتیب سے ظاہر ہوئے تو دنیا میں بڑے سیاسی واقعات رونما ہوئے۔ 1492ء اور 93ء کے درمیان خونی چاند چڑھے تو سپین میں عیسائی فوجوں نے چڑھائی کر دی جس میں یہودیوں اور مسلمانوں کا قتل عام ہوا جبکہ مسلمانوں کی سپین سے بادشاہت ختم ہوئی۔ دوسری بار چار ونی چاند گرہنوں کی سیریز 1949ء اور 50ء کے درمیان ہوئی۔ اس دوران پاکستان کا قیام وجود میں آ چکا تھا جبکہ یہودیوں نے فلسطینوں کو ان کے ملک سے بے دخل کرکے اسرائیل کی ریاست بنا ڈالی۔ 1967ء اور 68ء میں چار سرخ چاند چڑھے۔ اس سالوں میں اسرائیلنے امریکا کی مدد سے یروشلم میں مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ کیا تو 2 ہزار سال بعد بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔
اس بار یہودی نجومیوں کا کہنا ہے کہ خونی چاند سے ہونے والے واقعات کا انتظار کیا جائے۔ یہودی دو ہزار سال سے سرخ چاند گرہن کا انتہائی گہرائی مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہودیوں کی مقدس کتاب تالمود میں لکھا ہے کہ جب ایسا چاند گرہن لگتا ہے تو وہ بنی اسرائیل کے لئے فتح کی نشانی بھی ہے۔ گزشتہ کئی سال سے چار خونی چاند گرہنوں کا انتظار کرنے والے یہودی اب پھر پراُمید ہیں کہ دنیا پر ان کی بادشاہت قائم ہونے والی ہے۔ اہل یہود اس کو دنیا کی بادشاہت حاصل ہونے کی سنہری نوید قرار دیتے ہیں۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment