Sunday, December 17, 2017

یمن ،ایران ،سعودی عرب اور پاکستان

نائن الیون کے بعد عالمی استعماری طاقتیں تسلسل کے ساتھ مسلم ممالک کو کچلتی چلی جارہی ہیں ۔ عالمی اتحادِ کفر نے کمال ہوشیار ی سے افغانستان‘عراق ‘ لیبیا ‘ مصر اور شام جیسے ہنستے بستے ممالک کو جنگ کی آگ میں جھونک ڈالا  ۔
 یمن مشرق وسطیٰ کا ایک اہم ملک ہے ‘یہاں کی کل آبادی 2کروڑ سے زیادہ ہے ۔ یمن کے مغرب میں بحیرہ احمر ‘جنوب میں بحیرہ عرب اور شمال مشرق میں سعودی عرب اور اومان واقع ہیں ۔ طویل مدت سے یمن میں اقتدار کی کشمکش چلی آرہی ہے اوریمنی قبائل کے مابین خون ریزی کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں تاہم اس میں شدت اس وقت آئی جب 1992ء میں شمالی یمن میں انصار اللہ نامی عسکری تنظیم کی بنیاد رکھی گئی ،یہ علاقہ چونکہ شیعہ حوثی قبائل پر مشتمل تھا لہذا اس تنظیم میں حوثیوں نے ہی شرکت کی ‘آخر کار یہ تنظیم حوثی تحریک کے نام سے ہی معروف ہوئی اور تنظیم کا اصل نام پس منظر میں چلا گیا ۔حوثی زیدی شیعہ ہیں اور ان پر اثنا عشرے سے عقیدے کا رنگ بھی غالب ہے ۔
-------------------------------------
حوثی تحریک کا بانی شمالی یمن کا حسین الحوثی تھا ، حسین الحوثی نے اس تحریک کو مذہبی شناخت دی اور یہ نعرہ لگایا گیا کہ علی عبد اللہ صالح کی حکومت حوثیوں کو نظر انداز کر رہی ہے ۔اس تنظیم نے شروع ہی سے مسلح جدو جہد کا راستہ اختیار کیا اور 1992ء سے لے کر اب تک اسی پر عمل پیرا ہے ۔ 2004ء میں یمن کی سرکاری فوج اور حوثیوں کے درمیان ایک جھڑپ میں اس کا سربراہ حسین الحوثی مارا گیا جس کے بعد اس کے چھوٹے بھائی عبد المالک الحوثی نے اس تحریک کی قیادت سنبھال رکھی ہے ۔ 21ستمبر2014ء کو حوثیوں نے دارالحکومت صنعا کا کنٹرول سنبھالا اوران کے مطالبے پر علی عبد اللہ صالح نے استعفیٰ دے دیا ۔بعد ازاں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی جس میں سنی العقیدہ ہادی منصور کو عبوری صدر منتخب کیا گیا ۔ معاہدے میں طے پایا کہ آئندہ وزیر اعظم حوثیوں کا ہوگا لیکن حوثی مسلح کارروائیاں ختم کر دیں مگر حوثیوں نے اسے تسلیم کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ دارالحکومت صنعا اور دیگر اہم فوجی مراکز پر دھاوا بول کر بھاری ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا ‘اسی دوران سابق صدر علی عبد اللہ صالح جو خود بھی حوثی شیعہ ہیں ‘ حیرت انگیز طور پر ساتھیوں سمیت حوثیوں سے جاملے اور ان کی قیادت کا کردار ادا کرنے لگے ، انہوں نے یمنی صدر ہادی منصور کو سعودی عرب کا ایجنٹ قرار دے کر کارروائیاں تیز کر دیں۔
--------------------------------------
 حال ہی میں ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای کے قریبی ساتھی علی رضا نے بھی کہا کہ تین عرب ملک عراق ، شام اور لبنان ہماری جیب میں آچکے ہیں ، یمن میں بھی ہمارا اقتدار قریب ہے جس کے بعد ہم سعودیہ کی جانب بڑھیں گے ۔ انہوں نے یمن میں حوثی قبضے کو ایرانی انقلاب کی فطری توسیع قرار دیا ۔ ایک عرب اخبار کے مطابق ایران سرزمینِ عرب پر ایک نئی شیعہ ریاست کے قیام کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے اور اس ہدف کو پورا کرنے کے لئے ایرانی جنرل  صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ  ۔ صرف یمن ہی نہیں عراق، بحرین اور شام میں بھی ایرانی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
-----------------------------
  امریکہ حوثی باغیوں کے سب سے بڑے دشمن القاعدہ جنگجوؤں پر مسلسل ڈرون برسا کر  کمزور نہ کرتا تو حوثی کبھی بھی شمالی یمن سے باہر نہ نکلتے اوراپنے آبائی علاقہ صعدہ کی پہاڑیوں تک ہی محدود رہتے مگر امریکہ ایران گٹھ جوڑ کام آیا اور القاعدہ راہنما و دیگر سنی قیادت کو ڈرون حملے کر کے پسپا کر دیاگیاجس کے بعد حوثی قبائل طول و عرض میں پھیلتے گئے ۔
 ہم دیکھتے ہیں کہ شام ،بحرین اور عراق سے ذرا مختلف یمن میں ایرانی ہاتھ بڑی تیزی کے ساتھ اورعلانیہ طور پر متحرک ہے کیونکہ وہ سعودیہ کے پڑو س میں اپنے پاؤں جمانے کے لئے بے تاب ہے۔ یاد رہے کہ انقلاب کے بعد سے ایرانیوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سعودیہ پر غلبہ حاصل کرلیں ،1987ء کا سانحہ مکہ کسے یاد نہیں۔ سعودیہ مخالف قوتوں کی طرف سے حوثیوں کی پشت پناہی اس امر سے بھی عیاں ہے کہ طالبان ، القاعدہ ، داعش ،اخوان المسلمون اور دیگر لاتعداد سنی تنظیموں کو دہشت گردقرار دینے والے مغر ب نے ابھی تک بشار الاسد، ،مہدی ملیشیا، مقتدیٰ الصدریا یمن میں دہشت کی علامت حوثی شرپسندوں پر دہشت گردی کا لیبل نہیں لگایا۔یمن کا سکون تہ و بالا ہو چکا مگر وہاں  امریکی اہلکار بلا خوف و خطر کام کر رہے ہیں ،  امریکی اہلکار وہاں پر درحقیقت حوثیوں کی رہبری و رہنمائی کا کردار ادا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
--------------------------------------
 ان حالات میں ایک عام پاکستانی مسلمان حرمین شریفین کے دفاع کو اپنے ایمان کا حصہ گردانتا ہے ‘جو لوگ حرمین شریفین کے دفاع کے متعلق یہ کہہ کر بھپتی کس رہے ہیں کہ آل سعود کو اپنی بادشاہت کی بقاء کی فکر ہے ‘وہ درحقیقت احمقوں کی جنت میں بستے ہیں کیونکہ سعودی عرب کا دفاع ہی در اصل حرمین شریفین کا دفاع ہے ۔ دنیا کا کوئی بھی مسلمان نہیں چاہتا کہ سعودی عرب کو کوئی گزند پہنچے اور یہ  قیام پاکستان سے لے کر آج تک سعودی عرب نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کی مدد  جاری رکھی۔ 65ء یا71ء کی جنگیں ہوں، ایٹمی طاقت کا حصول ہو یا چاغی کے ایٹمی دھماکے‘ غرض جوملک ہمارے ساتھ  کھڑا ہوااور ہمارا معاون و مدد گار بنا   مشکل کی ان گھڑیوں میں برادر اسلامی ملک کی ہر لحاظ سے مدد کرنا پاکستان کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے ۔

No comments:

Post a Comment