کیا وہ وقت آپہنچا؟ میرا اشارہ حق و باطل کے درمیان اس آخری اور فیصلہ کن معرکے کی طرف نہیں ہے جس کا ذکر احادیث و آثار کے ذخیرے میں آیا ہے۔میری مراد نئے شرقِ اوسط کی تشکیل، مسلم دنیا کے نقشے میں ایک سو سال بعد پھر ایک بار بڑی توڑ پھوڑ، کچھ ممالک کے بطن سے نئے ملکوں کی ولادت کے منصوبے ہیں۔یمن میں اس وقت جو صورتِ حال بنی ہے اگر اسے تھامنے کے لیے کسی کی بصیرت بروئے کار نہ آئی تو خدشہ ہے کہ معاملہ جزیرۃُ العرب کے جنوب میں سعودی عرب کی جنگی مہم پر ختم نہیں ہو گا۔ یہ وسعت پکڑے گا اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر مسلم دنیا میں بڑھتی ہوئی تفریق بہت خوفناک تصادم کی شکل اختیار کر لے گی۔روس اور چین پہلے ہی شام کی پشت پر کھڑے ہیں۔امریکہ میں انتہائی مضبوط اور با اثر یہودی لابی اسے کوئی ایسا راستہ اختیار کرنے نہیں دیتی جس میں میں اسرائیل کے مفادات کا لحاظ نہ رکھاگیا ہو۔اس لیے اس کا وزن اسی پلڑے میں پڑے گا جہاں صیہونی لابی ڈالنا چاہے گی۔امریکہ نے یمن میں سعودی عرب اور اس کے تحت بننے والے عسکری بلاک سے لاجسٹک امداد اور انٹیلیجنس رہنمائی کی صورت تعاون کی جو بات کی ہے وہ بھی قابلِ اعتماد اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب اسرائیل کو اعتراض نہ ہو۔ڈر ہے کہ کہیں مسلمانوں کے دو بڑے فرقوں کی یہ آویزش معاملات کو اس رُخ پر نہ لے جائے جہاں ان کی تباہی بھی ہو اورساتھ Greater Israelکے شیطانی منصوبے کی راہیں بھی ہموار ہوجائیں۔
-------------------------------
حالیہ بحران میں روس اور چین جیسی امریکہ کی حریف بڑی طاقتوں کا کرداربڑی اہمیت کا حامل ہو گا۔اگر ان طاقتوں کی رقابتیں اسی طرح کارفرما ہوئیں جس طرح شام معاملے میں دیکھی گئی ہیں تویمن میں بھڑکنے والی آگ کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔اگر یمن سے شروع ہونے والا یہ کھیل اس بڑے کھیل کا حصہ ہے جس میں مسلم دنیا کے سارے جغرافیائی اور فرقہ وارانہ نقشے کی نئی تشکیل مذموم مقاصد میں شامل ہے تواس کا پہلا ممکنہ ہدف سعودی عرب ہی نظر آتاہے ۔ حالات اگر اسی رخ پرآگے بڑھتے رہے جدھر اس وقت ان کی حرکت کا آغاز ہوا ہے تویمن ایک مکمل شیعہ ریاست بن کر ابھرے گا اور سعودی عرب کے مشرق میں تیل کی دولت سے مالا مال ساحلی پٹی بھی ایران کی پشت پناہی سے خود مختاری کا اعلان کر دے گی۔ایران کے ذمہ دار حلقے اس سکیم کا برملا اعلان کر رہے ہیں۔ Greater Israelکاجو نقشہ تیار ہے اس میں اردن سمیت سعودی عرب کا سارا شمالی علاقہ،شام کا ایک بڑا حصہ ، سعودی عرب کی سرحدوں سے متصل عراق کے شہر، مصر کی بحرِ احمر کے مشرقی ساحل کی ایک بڑی پٹّی بھی اس میں شامل ہے جو اس کے جنوب سے ہوتی ہوئی اوپر نہر سویز کے آگے بحرِ متوسّط تک چلی جاتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جہاں جہاں سے یہودی تاریخ کا کوئی بھی رشتہ رہا ہے وہ اس کے اس مکروہ نقشے میں دکھایا گیا ہے۔
----------------------------------------------
عالَمِ اسلام کی اور خاص طور پرمشرقِ وسطیٰ بد قسمتی دیکھیے کہ شام میں برپا معرکہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ داعش کی شورش کو کچلنے والی قوتیں ابھی سانس بھی درست نہیں کر پائی تھیں،لیبیا کی آگ کے شعلے ابھی دھیمے نہیں پڑے تھے ،عراق کے محاذپر ابھی آتش و آہن کی بارش تھمی نہیں تھی کہ ایک اور جنگ کا تباہ کن محاذ گرم ہو گیا ہے۔ پاکستان کو بھی اس میں کودنے کو کہا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے ہر نازک مرحلے پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔پاکستان بھی اس کے دفاع کے معاملے میں تعاون کی کسی بھی اس صورت سے گریز نہیں کر سکتا جو سعودی عرب کی ضرورت ہو۔ اخلاقی پہلووں کے علاوہ سعودی عرب میں مسلمانوں کے سب سے بڑے مراکزِ عقیدت یعنیِ حرمَین شریفین ہیں۔ان کے دفاع کی خاطر اپنی افواج بھیجنا ہمارا ایمانی تقاضاہے۔ بَیتُ اللہ اور مسجدِ نبوی ؐ اور روضۂِ رسول ﷺ پر کسی کے ناپاک قدم پڑنے سے روکنا بڑا مبارک عزم ہے۔دوسرا معاملہ ریال اور تیل کا بھی ہے۔یہ جتنی ضرورت مصر کے السیسی کی ہے اور میاں نواز شریف کی بھی ہے۔لیکن ہمارا مسئلہ ایک اور بھی ہے۔ہم پہلے اربوں ڈالر کے مالی نقصان اور پچاس ہزار افراد کے جانی نقصان کی قیمت دے کر بھی ابھی تک امریکہ کی جنگ میں کودنے کی پوری قیمت نہیں چکا پائے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک اور جنگ میں کودنے کے متحمل ہو سکتے ہیں جس کی بنیادیں سراسر فرقہ وارانہ ہیں؟وہ شیعہ سُنّی آویزش جو 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد پیدا ہوئی تھی اب اس کی سر شور لہریں ایک نئے انداز میں باہم ٹکرانے لگی ہیں۔
---------------------------
اس انقلاب کے پر جوش حامیوں میں کبھی سنّی فکر کے ایک سکالر بھی ہوتے تھے، جن کا اپریل 1996 میں جنوبی افریقہ میں انتقال ہوا تھا جب وہ وہاں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے ۔ دینی روح اورانقلابی جذبوں سے سرشار، حد درجہ سرگرم ڈاکٹر کلیم صدیقی نے لندن میں خمینی انقلاب کے خدوخال سے دنیاکو آگاہ کرنے کے لیے زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔وہ ایرانی انقلاب کو ان خوابوں کی تعبیر سمجھ رہے تھے جوہر دین پسند متحرک شخصیت دیکھتی اور اسلامی انقلاب کی راہیں تکتی ہے۔وہ مسلم دنیا کے حلقہ ہائے دانش میں ایرانی انقلاب کو متعارف کرانے کے لیے لندن میں کانفرنسوں کا انعقاد کراتے رہتے تھے۔یہ مطالبہ اس وقت ڈاکٹر کلیم صدیقی مرحوم کے زیرِ اہتمام کسی کانفرنس ہی میں ہوا تھا کہ حَرمَین شریفَین کو سعودی حکومت کے کنٹرول سے نکال کر مسلم ممالک کی کسی ایک معتبر اتھارٹی کے زیرِ انتظام کر دیا جائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ایسی کسی اتھارٹی کا وجودکہاں ہے ۔ ایرانی حلقوں سے البتہ یہ آوازیں بلند آہنگ میں سنائی دیتی رہتی ہیں کہ حرمَین شریفَین اور مقاماتِ مقدسہ کے سعودی خاندان کے سعودی خاندان سے واگزار کرانے اور اس خاندان کے خاتمے کا وقت قریب آ لگا ہے۔ آج سعودی عرب ایک آزمائش میں ہے ۔لیکن دوسرے فرقوں کے برپا کردہ فتنوں کے علاوہ اسے اپنی صفوں کے اندر اضطراب کے شدید جھٹکوں کا سامنا بھی ہے۔ نئے سعودی حکمران کے کچھ ابتدائی فیصلوں میں پالیسی کے اندر جوہری تبدیلی کے اشارے ملنے لگے تھے۔ لیکن اب جنگ کا جو تنور تپایا جا رہا ہے اس میں ڈر ہے کہ مصر کی حمایت ان روشن اشاروں کے چراغ بجھا نہ دے اور السیسی یمن میں سعودی حمایت کی قیمت ریالوں کے علاوہ اخوان المسلمین کی اعلیٰ قیادت سمیت اس کے سیکڑوں محبوس ارکان کو موت کی سزا پر سعودی خاموشی کی صورت میں نہ لے۔
#PaKsoldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment