میں نے پچهلی تحریر میں ملٹی بیرل راکٹ لانچر کے بارے تفصیل سے بتایا تها اور اس حوالے سے پاکستان کے لانگ رینج ملٹی بیرل سسٹم کی خصوصیات بهی شیئر کی تهیں.لیکن لانگ رینج کے علاوہ پاکستان کے پاس شارٹ اور مڈیم رینج کے حامل ملٹی بیرل راکٹ لانچر بهی وافر مقدار میں موجود ہیں جن میں سے آج پاکستان آرمی کے شارٹ رینج ملٹی بیرل راکٹ لانچرز کے بارے چند اہم باتیں بتائ جائیں گیئں.
ٹائپ-63 ملٹی بیرل راکٹ لانچر پاکستان کا واحد شارٹ رینج راکٹ سسٹم ہے یہ سسٹم 80، کی دهائ میں پاکستان آرمی میں شامل کیے گئے تهے جبکہ ان کا ابتدائ ورژن 1960 میں ہی چائنا بنا چکا تها.
اس سسٹم کو کئ مراحل سے گزارا گیا اور انکی اپگریڈیشن ہوتی رہی یہاں تک کہ اسے چین نے اپنی نیوی جنگی جہازوں پر بهی استعمال کیا.یہ شاید دنیا کا پہلا واقعہ تها کہ ایک چهوٹے راکٹ سسٹم کو نیوی فریگیٹ پر فریگیٹ کے دفاع کے لیے کامیابی سے استعمال کیا گیا اور ابهی تک استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ چائنہ کی زمینی افواج اس سسٹم کو تقریبا ریٹائر کر چکی ہیں.
انتہائ جهوٹی جسامت کا ہونے کی وجہ سے اس ملٹی بیرل راکٹ نظام کو کسی بهی موبائیل پر رکه کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجایا جا سکتا ہے.
یہmm107 شارٹ رینج راکٹ سسٹم 12 راکٹ ٹیوبس پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ 9 کلومیٹر تک راکٹ فائر کرتی ہیں.یہ سسٹم ایک منٹ میں تمام 12 راکٹ داغ سکتا ہے جبکہ اسکے ایک راکٹ کی جسامت ایک ٹینک کے گولے جتنی ہی ہوتی ہے.
پاکستان اب تک نامعلوم مقدار میں یہ راکٹ لانچر سروس میں شامل کر چکا ہے.
پاکستان آرمی نے یہ ہتهیار بهارتی سرحد کے ساته نصب کیے ہیں تا کہ ممکنہ بهارتی جارحیت کی صورت میں تیزی سے بهارتی پیش قدمی روکی جا سکے.
پاکستان کا یہ ہتهیار اس حوالے سے بهی اہم ہے کہ ہنگامی صورت میں اکیلا سپاہی اس سسٹم کو اپریٹ کر سکتا ہے.
جبکہ اس کا راکٹ اگر نشانے پر داغا جائے تو دشمن کے بڑے سے بڑے ٹینک کے پرخچے اڑ جاتے ہیں.
دوسرے الفاظ میں یہ نظام دشمن کے لیے پاک آرمی کا بےرحم قاتل سمجها جا سکتا ہے.

No comments:
Post a Comment