٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
امریکی ایکسپرٹ یہ بنیادی بات بھی بھول جاتے کہ کوئی بھی ملک خفیہ تخریبی کارروائیوں کے احکامات وائرلیس پر نشرنہیں کرے گا۔ لیبیا کے ساتھ امریکی دشمنی نے انہی خبروں میں موجود غلطی کو تلاش کرنے نہیں دیا یوں کہیے وہ دھوکہ کھا گئے یہی ’’موساد‘‘ کا طریقہ واردات ہے۔ امریکیوں کو دھوکہ دے کر اسرائیل نے دوہرے فوائد سمیٹے ایک یہ کہ امریکی سی آئی اے کو شکست دی اور دوسرا لیبیا کے معمر قذافی کو ہمیشہ کے لیے تخریب کار قرار دینے میں کامیابی حاصل کی۔ آپریشن ٹراجن کے نتیجے میں 14اپریل 1986ء کو امریکہ کے 160جہازوں نے تقریباً 60ٹن کے مختلف اقسام کے بم تریپولی کے ہوائی اڈے، باب الخریزبیرک، سدی بلال نیول بیس، بن غازی شہر اور کرنل معمر قذافی کے گھر پر گرادیئے جس سے کرنل قذافی کی لے پالک بیٹی اور چالیس کے قریب دیگر بے گناہ شہری مارے گئے ۔ اس آپریشن کی کامیابی کے بعد ’’موساد‘‘ کے ایجنٹوں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے خوشیاں منائیں کہ وہ امریکہ جیسی قوت کو بھی دھوکہ دے سکتے ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
ایران عراق جنگ کے دوران بھی اسرائیل نے اپنے طریق واردات کے مطابق گیم کھیلی چنانچہ اس نے ایک طرف عراق کو جنوبی افریقہ کے ذریعے اسلحہ اور تکنیکی صلاحیتیں فروخت کیں تو دوسری طرف ایران کو ایک لمبے روٹ کے ذریعے جنگی سامان بیچنا شروع کیا۔ پہلے جرمنی میں ایرانی ہوا بازوں کی تربیت کے لیے سازو سامان مہیا کیا پھر اٹلی سے جرمنی ، جرمنی سے ڈنمارک اور ڈنمارک سے ایران اسلحہ کی سپلائی لائن بچھا دی۔ ایران عراق کی جنگ کو طول دینااسرائیل کی پالیسی تھی تاکہ دنیائے اسلام کے خزانوں، ان کے جوان ہمت نوجوانوں اور دولت کا ضیاع ہوایسی صورت میں اسرائیل علاقے کی بالادست قوت بن سکتی تھی یوں اسرائیل اپنے خفیہ منصوبے میں دھوکہ دیہی کے ذریعے کامیاب ہوا۔ ایران کی طاقت کمزور پڑی عراق کو بھی طاقتور بننے نہ دیا چنانچہ اگلے مرحلے میں عراق کے خلاف خفیہ محاذ کھول دیا۔ اسرائیلی پلان کے تحت پہلے ایران عراق جنگ نے بے جا طوالت کھینچی اور پھر عراق کو کویت پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا گیا جب یہ منصوبہ مکمل ہوگیا تو پھر عراق کی باری آگئی اور اس کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ عراق کے صدر صدام حسین جو کبھی اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کے دعوے کیا کرتے تھے کو ایک بہت بڑی جنگ کے نتیجے میں اقتدار سے محروم کردیا گیا۔بعد ازاں سزائے موت ان کا مقدر بنی،معمر قذافی کو بھی ایسے ہی انجام سے دوچار کیا گیا۔ اسرائیل کی خفیہ سروس کے طریق واردات کی ایک اور مثال سری لنکا ہے جہاں اسرائیل بیک وقت سرکاری فوج اور تامل ٹائیگرز دونوں کے ہاتھ بیک وقت اسلحہ بیچتا رہا اس کی کوشش تھی کہ تنازعہ طول پکڑے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اسلحہ فروخت کرسکے۔ اسرائیل امریکہ ہی نہیں، برطانیہ ، فرانس اور دیگر ممالک کو بھی اپنے انوکھے طریق واردات کی بدولت بے وقوف بناکر دھوکہ دینے میں متعدد بار کامیاب رہا ہے۔

No comments:
Post a Comment