دنیا کا سب سے جدید ترین ہتھیار لیزر ویپن کے نام سے جانا جاتا ہے.
اب تک صرف چند ممالک ہی یہ ٹیکنالوجی حاصل کر پاے ہیں ان ممالک میں امریکا اور چین سرفہرست ہیں.
ہتھیار کئ طرح کی شکلوں میں موجود ہیں.جن میں لیزر گنز ,لیزر ائیرڈفینس سسٹم سب سے عام سمجھے جاتے ہیں.
لیزر انرجی کی ایک شعاع کا نام ہے اگر انرجی کو بڑھا دیا جاے تو یہی لیزر بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے..
پوری دنیا میں لیزر کو رائفلز کے ساتھ منسلک کیا جاتا تھا تا کہ ٹارگٹ پر ٹھیک گولی چلائ جا سکے.لیکن اب لیزر کو اس شکل میں ڈھالا جا رہا ہے کہ لیزر کے ساتھ رائفل کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ کہ اکیلا لیزر ہی ٹارگٹ کو سوراخ کر ڈالتا ہے.
امریکا اور چین کی افواج کے پاس لیزر گنز موجود ہیں جو کہ کئ کلوواٹ انرجی کے حامل لیزر شعاع خارج کرتی ہیں.
حال ہی میں چین نے اپنی نیوی میں ایسے لیزر سسٹم کا تجربہ کیا ہے جو کہ 1.6 کلومیٹر کی رینج تک پرواز کرنے والی کسی بھی چیز خصوصا ڈرون طیاروں کو فضا میں ہی جلا کر راکھ کر سکتا ہے.
کے علاوہ برطانیہ اور روس بھی اس نظام کا تجربہ کر چکا ہے.
پاکستان نے جنرل کیانی کے دور میں پہلی بار ٹینکوں کو جام کرنے والے لیزر کا کامیاب تجربہ کیا.یہ لیزر کسی بھی ٹینک کے انجن کو جام کر سکتا ہے.پاکستان اور انڈیا کے بارے کہا جاتا ہے کہ دونوں ممالک لیزر ویپنز کے لیے بڑی حد تک دوڑ دھوپ کر رہے ہیں. لیکن ایک تو یہ ہتھیار مہنگے ہیں اور دوسرا ان کی رینج بہت کم ہوتی ہے.لیزر سے نکلنے والی ریڈی ایشن میں 50 سے 200 کلوواٹ کی انرجی ہوتی ہے جو کسی بھی لوہے یا سٹیل کو پگھلا سکتی ہے..دوسرے الفاظ میں لیزر ویپن کی رینج میں آنے والے ٹارگٹ کا بچنا نا ممکن ہوتا ہے.

No comments:
Post a Comment