Saturday, August 19, 2017

‘ قومی سلامتی‘ پاک فوج اور آئی ایس آئی

قومی سلامتی‘ پاک فوج اور آئی ایس
آئی

**************************
ہندوئوں اور انگریزوں کے گٹھ جوڑ اور بدترین سازشوں کے باوجود جب قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی بصیرت اور لاکھوں مسلمان بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں کی لازوال قربانیوں کی بدولت جب پاکستان معرض وجود میں آگیا تو اْس وقت بھی یہ گھنائونی سازش کی گئی کہ یہ نوزائیدہ مملکت زیادہ دن تک قائم نہ رہ سکے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ1947ء میں جب ہندوستان کی تقسیم ہورہی تھی تو خزانے میں چار ارب روپے نقد موجود تھے جن میں سے پاکستان نے ایک ارب روپے کا تقاضا کیا لیکن سازش کے تحت ہمیں صرف بیس کروڑ روپے دئیے گئے۔ بعد ازاں پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ غلام محمد کی سربراہی میں ایک کمیٹی دہلی گئی اور معاہدہ کیا کہ خزانہ میں موجود چار ارب روپے ، برطانوی کرنسی کے ذخائر اور واجب الادا قرضوں کا ساڑھے سترہ فیصد پاکستان کے حصے میں آئیگا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت نے پاکستان کو پچپن کروڑ روپے فوراً دینا تھے مگر پاکستان کو غیرمستحکم کرنے اور مالی مشکلات بڑھانے کیلئے بھارت نے یہ ادائیگی روکے رکھی۔ بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ برصغیر کی مسلح افواج اور اسلحہ کے ذخائر کو تقسیم کرنے کیلئے لارڈ مائونٹ بیٹن کی سربراہی میں پاکستان کے پہلے وزیر دفاع لیاقت علی خان، بھارتی وزیر دفاع بلدیو سنگھ اور آکن لک پر مشتمل کونسل نے فیصلہ کیا کہ اسلحہ کے ذخائر کا ایک تہائی حصہ پاکستان کو دیا جائیگالیکن یہاں بھی گھنائونی سازش ہوئی اور دس لاکھ سے زائد مہاجرین کے قتلِ عام کے باوجود پاکستان کو یہ اسلحہ نہیں دیا گیا۔ بدقسمتی سے اسلحہ سازی کی تمام فیکٹریاں بھی بھارتی علاقے میں ہونے کی وجہ سے پاکستان مزید مشکلات سے دوچار ہوا۔
ہندو حکمرانوں نے یہ منصوبہ بندی کی تھی کہ نہ تو پاکستان کے پاس مہاجرین کی آبادکاری اور ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے رقم ہو اور نہ ہی پاکستانی افواج کے پاس اسلحہ تاکہ وہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ نہ کرپائیں۔ دہلی سول سیکریٹریٹ سے پاکستان آنیوالے سترہ ہزار سرکاری ملازمین کیلئے کراچی میں نہ تو رہائش کا بندوبست تھا اور نہ ہی دفاتر میں اشیائے ضروریہ۔ کاغذ قلم نہ ہونے کے برابر تھے جبکہ کاغدوں کو نتھی کرنے کیلئے کانٹے استعمال کیے جاتے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت صنعتی بنیاد بھی نہ ہونے کے برابر تھی ، پاکستان میں صرف دو ٹیکسٹائل ملیں، پانچ سیمنٹ فیکٹریاں، تین شوگر ملیں، اک پیپر مل اور چھ گھی ملیں تھیں۔ اسلحہ ، آئرن و سٹیل اور کھاد بنانے والا کوئی ادارہ پاکستان میں نہیں تھا۔ ان حالات میں کوئی ملک قائم نہیں رہ سکتا لیکن پاکستان نہ صرف قائم و دائم رہا بلکہ ایٹمی قوت حاصل کرنے کے بعد اْس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ جو ہندوستانی حکمران پاکستان کی کمزور مالی حالت پر دانت نکوس کر ہنستے اور اسکے دوبارہ ہندوستان میں ضم ہونے کی پیشگوئیاں کرتے تھے وہ آج ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی بصیرت اور دور اندیشی کی تو ساری دنیا ہی قائل ہے لیکن شاید وہ اْس سے کہیں زیادہ بڑے لیڈر تھے جتنا بڑا آج دنیا انہیں مانتی ہے۔
------------------------------------------
قیامِ پاکستان کے بعد بہت قلیل عرصہ تک قائد اعظم ؒزندہ رہے لیکن اسی دوران انہوں نے بھانپ لیا کہ مستقبل میں پاکستان کو کیا خطرات لاحق ہونگے چنانچہ قائداعظم نے جولائی 1948ء میں آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی تاکہ پاکستان کے دشمنوں کی گھنائونی سازشوں پر نظر رکھی اور انہیں ناکام بنایا جاسکے۔ وقت نے ثابت کیا کہ قائد اعظم ؒ واقعی ہی دور تک دیکھتے تھے کیونکہ آج پاک فوج کے کندھے سے کندھا جوڑ کر آئی ایس آئی ہی پاکستان کی بقاء رکھے ہوئے ہے۔ یہ آئی ایس آئی ہی ہے جس نے سوویت یونین کی پاکستان کی جانب پیش قدمی روکی، پاکستان کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی گھنائونی سازشوں کو ناکام بنایا، تنہا کھڑے ہوکر بدنامِ زمانہ بلیک واٹر سمیت پاکستان مخالف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کو ہزیمت سے دوچار کیا اور دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کرنے کیلئے شب و روز کام کررہی ہے۔ یہ حقائق تو ساری دنیا کو معلوم ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان بدترین صورتحال سے دوچار رہا ہے، خود کش حملے اور دہشتگردی کے ہزاروں واقعات رونما ہوئے جن میں  ہزاروں سے زائد شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے لیکن اْن سینکڑوں خود کش حملوں اور دہشتگردی کے گھنائونے اقدامات کے بارے میں شاید کبھی کسی کو معلوم نہیں ہو پائے گا جن کی انسانیت کے دشمنوں نے منصوبہ بندی تو کرلی تھی لیکن قبل از وقت اقدامات اٹھاکر انہیں روکا گیا اور انتہائی قیمتی انسانی جانیں بچائی گئیں۔ اس کا تمام تر کریڈٹ ہمارے انتہائی قابلِ فخر ادارہ آئی ایس آئی کو جاتا ہے جس نے دہشتگردوں اور پاکستان کے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناکر ہزاروں معصوم افراد کو شہید اور سینکڑوں خاندانوں کو اْجڑنے سے بچایا۔ ہمارے اس قابل فخر ادارے سے وابستہ لوگ بغیر کسی طمع و لالچ کے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک کی خدمت اور حفاظت کیلئے شب و روز سرگرم عمل ہیں اور پاکستان کی خاطر جیتے اور پاکستان کی خاطر شہید ہوتے ہیں اور وہ بھی بالکل گمنامی کے عالم میں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج جب دنیا بھر میں خفیہ اداروں کو محافظ سمجھا اور انکی ساکھ بلند کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، ہمارے ہاں پاکستان ہی میں بسنے والے کچھ عناصر آئی ایس آئی جیسے اہم قومی ادارے کو متنازعہ بنانے کی گھٹیا کوشش کرتے ہیں۔ کبھی بھارتی فنکاروں کی موت پر کئی دن تک سوگ منانے والا کوئی میڈیا گروپ آئی ایس آئی پر انگلی اٹھاتا ہے تو کبھی کوئی طوائف بھارت جاکر اپنے جسم پر آئی ایس آئی لکھ کر برہنہ تصاویر بنواکر پاکستان کے محافظ ادارے آئی ایس آئی کی تضحیک کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن جس طرح چاند پر تھوکا منہ پر آتا ہے اور چاند کا کچھ نہیں بگڑتا اِسی طرح ملک دشمن عناصر کے اشاروں پر ایسی حرکات کرکے یہ لوگ خود ہی پستی اور غلاظت کی دلدل میں دھنس رہے ہیں، اس سے آئی ایس آئی کا نہ کبھی کچھ بگڑا ہے اور نہ ہی انشاء اللہ کبھی کچھ بگڑے گا۔ آئی ایس آئی اور پاک فوج ملکر ملک کو دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور کرپشن سے نجات دلانے کیلئے جو اقدامات اٹھارہی ہے اْسے پاکستانی قوم بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور توقع کرتی ہے کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی اْن لوگوں کا بھی محاسبہ کرینگے جو بھارتی اشاروں پر اس ملک کو برباد کرنے کی سازش کررہے ہیں۔
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment