پاکستان کی ایٹمی دفاعی صلاحیت ہمارے آباواجداد کا ہمارے لئے ایک عظیم تحفہ ہے. سقوط ڈھاکہ کے صرف دوسال بعد جب دشمن نے جنوبی ایشیا میں پہلا جوہری دھماکہ کرکے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا طبل بجایا، تو ہمارے آبا خواب خرگوش میں مصروف نہ تھے. انھوں نے دشمن کی للکار پر لبّیک کہا اور قسم کھائی کہ انکی آنے والی نسلیں جس پاکستان میں آنکھ کھولیں گی اس پاکستان کی طرف دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہیں کرےگا!
چھبیس سال کی انتھک محنت کے بعد اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے کو دن کے تین بجکر سولہ منٹ پر نوجوان چیف سائنٹفک آفیسر محمّد ارشد نےنعرہ تکبیر بلند کر کے ٹریگر کا بٹن دبا دیا. تیس سیکنڈ بعد چاغی صوبہ بلوچستان کا پہاڑ زلزلے کی شدت سے تھرا اٹھا. ہزاروں سال کی دھول بادل بن کر اٹھی تو نوجوان و عمر رسیدہ سائنسداؤں اور ماہرین کی آنکھوں میں آنسو امڈ آے. انھوں نے اپنی نوجوان نسل سے کیا ہوا وعدہ وفا کردیا تھا!
آج پاکستان الله کے رحم و کرم سے بیرونی خطرات سے محفوظ ہے. آج ہمیں بھی وعدہ کرنا ہے اپنی آنے والی نسلوں سے. کہ وہ جس پاکستان میں پیدا ہونگی وہ نہ صرف ایک عالمی عسکری طاقت ہوگا، بلکہ ایک عالمی اقتصادی طاقت بھی ہوگا. جس میں تمام شہری رنگ نسل، قوم، زبان، مذہب کے اختلافات کے موجود ہوتے ہوے خود کو پاکستانی ہونے پر فخر مند پائیں گے. جہاں غریبوں کی خدمت، بوڑھوں کی عزت، بچوں پر شفقت اور نوجوانوں پر ناز ہوگا.
الله رب العزت پاکستان اور پاکستانیوں کو اتحاد،یقین محکم اور نظم کی سرزمین بنا دے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں جہاں آزادی کے پھل کو مکمل طور پر کھا سکیں وہاں سماجی اور معاشی خوشحالی سے بھی لطف اندوز ہوں.

No comments:
Post a Comment