کیا آپ کو معلوم ہے ہم کس تاریخ ساز شخصیت کا تذکرہ کر رہے ہیں....جی ہاں میرے اور آپ کے پسندیدہ ہیرو.... ٹیپو سلطان ناصرف بہادر انسان تھے بلکہ ایک بہترین حکمران کی حیثیت سے برصغیر میں ہر دل عزیز شخصیت کے مالک بھی تھے۔ 10 نومبر 1750ءکو بنگلور میں پیدا ہونے والے حیدر علی کے فرزند انگریزوں کے خلاف جدو جہد کر نے والے اٹھارویں صدی کے آخری مجا ہد تھے۔ مغلیہ سلطنت جب زوال کا شکار ہوگئی اور انگریزوں نے پورے برصغیر پر قبضہ جمانے کے لیے مختلف علاقوں کو فتح کرنا شروع کیا تو یہ باپ بیٹے (حیدر علی اور ٹیپو سلطان) ہی تھے جنہوں نے انگریزوں کو پچاس سال تک ہندوستان پر قبضہ کر نے سے روکے رکھا.... اور شاید انگریزوں کو بحیرہ عرب میں ہمیشہ کے لیے غرق بھی کر دیتے ....اگر ٹیپو سلطان کے فوج کے اہم افسر ”میر صادق“ اور ”پورنیا“ غداری نہ کرتے....!
---------------------------------------
میسور کی چوتھی جنگ سلطان ٹیپو اور انگریزوں کے درمیان جاری تھی۔ دونوں طرف سے تابڑ توڑ حملے جاری تھے۔ ٹیپو سلطان کا پلڑا آہستہ آہستہ بھاری ہوتا جارہا تھا، کہتے ہیں کہ اگر کفر کے آگے ڈٹ جاﺅ تو وہ زیادہ دیر تک پاﺅں نہیں جما سکتا۔ انگریزوں نے میر صادق سے خفیہ ملاقاتیں کرکے اسے ڈرایا کہ ’ٹیپو سلطان کی کہانی بس.... اب ختم ہونے والی ہے پھر تمہیں ہمار ے عتاب سے کون بچائے گا؟ اگر خیریت چاہیے تو ہماری حمایت کردو، ہم تمہیں اور تمہارے خاندان کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘ اسی طرح ”پورنیا“ سے بھی معاہدہ کیا گیا۔
-----------------------------------
میر صادق نے سرنگا پٹم کے مضبوط قلعے کا نقشہ انگریزوں کو فراہم کردیا۔ جس کی وجہ سے قلعے میں موجود اسلحہ ڈپو اور دیگر کئی اہم مقامات کے بارے میں انگریزوں کو پتا چل گیا۔ دوسری جانب جنگ میں ایک معمولی سے وقفے کے دوران پورنیا نے اپنے دستوں کو یہ کہہ کر پیچھے لے آیا کہ وہ اپنی تنخواہ آکر لے جائیں.... اس میں محب وطن سپاہی تو اپنی جگہ ٹھہرے رہے کہ یہ کون سا وقت ہے تنخواہ لینے کا.... لیکن سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد پو رنیا کے پیچھے چلی گئی۔ بس اسی موقع سے انگریزوں نے فائدہ اٹھاکر بھر پور حملہ کردیا۔ اسلحہ ڈپو کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا گیا اور پورنیا کے فوج کے دستے کی پسپائی نے سلطان ٹیپو کے اس مضبوط قلعے کو کھوکھلا کردیا۔ سلطان نے ان غداروں کی غداری کا سن کر کہا:” اس غداری کا نتیجہ تمہیں اس وقت معلوم ہوگا جب تم اور تمہاری آئندہ آنے والی نسلیںاس ملک میں محتاج اور ذلیل و خوار ہو کر ایک ایک دانہ چاول اور پیاز کی ایک گھٹی کو ترسے گی۔“
------------------------------------
اس اہم موقع پر ایک افسر نے سلطان سے کہا کہ ’آپ انگریزوں سے عافیت طلب کر کے اپنے خاندان کو رسوا ہونے سے بچالیں۔‘ غیرت مند سلطان نے پلٹ کر غصے سے جواب دیا: ”گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔“ 3 مئی 1799ءکوعالم اسلام کا یہ عظیم سپوت دشمن کے خلاف دادِ شجاعت دیتا ہوا شہید ہوگیا۔ اس عظیم کامیابی پر انگریز پھولے نہیں سمارہے تھے اوروہ خوشی سے چلا اٹھے کہ ’اب ہندوستان ہمارا ہے‘.... لیکن آزاد فضاﺅں میں سانس لینے والے زیادہ عرصے تک غلامی کی زنجیروں میںجکڑے نہیں رہ سکتے....دنیا نے دیکھا کہ 14 اگست 1947ءکو قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی قیادت میں مسلمانوں نے انگریزوں اور مکار ہندﺅوں سے اپنے لیے ایک الگ مملکت خداداد پاکستان کو حاصل کر لیا، تاکہ یہاں اسلام کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔
---------------------------
٭ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے اور مجاہد مسلمان کی سی تھی۔ وہ ایک بہترین سپہ سالار اور بہترین منتظم تھے۔ حکمران ہونے کے باوجود سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ باوضو رہتے اور تلاوت قرآن آپ کے معمولات میں سے تھا۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ سے کرتے۔
٭صنعت و حرفت پر خصوصی توجہ دینے کی وجہ سے انگریزوں کی بنائی ہوئی ایسٹ انڈیا کمپنی کو نقصان ہو رہا تھا اس لیے وہ آپ کے مزید خلاف ہوگئے۔
٭ٹیپو سلطان جب بھی جنگی معرکوں سے فرصت پاتے تو تعمیر و ترقی پر توجہ دیتے۔ جس کی وجہ سے وہ ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے اور انگریز انہیں اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔
٭ٹیپو سلطان نے ایک یو نیورسٹی قائم کی، جہاں دینی ودنیا وی تعلیم دی جا تی تھی۔
٭ جرائم کی روک تھام کے لیے ہر مجرم کو سزا کے طور پر اس جرم کی نسبت سے درخت اُگانے کی ذمہ داری سونپی۔
٭ٹیپو سلطان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ وہ اردو اخبار کے بانی تھے۔ 1794ءمیں اپنی نگرانی میں ایک ہفت روزہ جاری کیا جو کہ آپ کی شہادت کے بعد بھی مسلسل پانچ سال تک جاری ہوتا رہا۔
٭خوبی وہ ہے جس اعتراف دشمن کرتا ہے۔
کیپٹن لٹل جس نے میسور کی تیسری جنگ میں حصہ لیا اپنی یادداشتوں میں رقم طراز ہے۔ ”ٹیپو کے متعلق بہت سی افواہیں سنی جاتی تھیں کہ وہ ایک جابر و ظالم حکمران ہے۔ جس کی وجہ سے رعایا اس سے بیزار ہے لیکن جب ہم اس کے ملک میں داخل ہوئے تو دیکھ کہ صنعت و حرفت کی ترقی کی وجہ سے نئے نئے شہر آباد ہو رہے ہیں۔ زمین کو کوئی حصہ بنجر نظر نہیںآتا، قابل کاشت زمین جس قدر بھی ہے اس پر کھیتیاں لہرا رہی ہیں۔ رعایا اور فوج کے دل میں اس کا بہت احترام ہے۔ فوج کی تنظیم اور اس کے ہتھیاروں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ یورپ کی کسی مہذب ملک کی فوج ہے۔“
٭ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مردم شماری کروانے کا اعزاز بھی ٹیپو سلطان کو حاصل ہے۔
٭دنیا میں میزائل ایجاد کر نے کا سہرا بھی ٹیپو سلطان کے سر ہے۔ امریکیوں نے بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو راکٹ کے بانیوں میں شمار کیا ہے
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment