Sunday, August 20, 2017
ایٹمی ڈیٹرنس
28اور30مئی 1998پاکستانی تاریخ کے وہ سنہرے دن ہیں جب پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کا ایٹمی طاقت ہونے کا غرور خاک میں ملا دیا۔بھارت نے دراصل اپنا ایٹمی پروگرام 1946 میں یعنی آزادی سے بھی ایک سال پہلے شروع کیا تھا ۔ جب امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ کیا تو ایٹمی طاقت ایک مسلّّم حقیقت بن کر سامنے آئی اور مستقبل کی جنگوں میں اہم ہتھیار قرار پائی ۔بھارتی لیڈروں نے اسی وقت اس نئی ٹیکنالوجی کا احساس کیا اور اسے ہر صورت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔لہٰذا 1946میں بمبئی میں ایک تقریر کے دوران بھارتی لیڈر جواہر لعل نہرو نے اعلان کیا : ’’اگر آزاد بھارت آزاد اقوام میں اہم مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہمیں ہر قیمت پر ایٹمی طاقت حاصل کرنا پڑیگی۔‘‘پھر اسی سال بھا بھا اٹامک ریسرچ سنٹر کا قیام وجود میں آیا اورجواہر لعل نہرو نے ایک نوجوان سائنسدانوں کی ٹیم تربیت کیلئے امریکہ روانہ کی جنہوں نے واپس آکر بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور بالآخر 1974میں دھماکہ کر کے پاکستان پر ہمیشہ کیلئے برتری حاصل کرلی۔اس دھماکے کو بھارتیوں نے ’’ مسکراتابدھا‘‘ کا نام دیا۔ تو یوںبھارتیوں کو پاکستان کو بلیک میل کرنے کا نسخہ ہاتھ آگیا اور اکثر بھارتی لیڈرز ایٹمی طاقت ہونے کے پس منظر میں دھمکیاں دیتے تھے۔پھر 11اور13مئی1998کو بھارت نے راجستھان میںپو کھراں کے مقام پر 5مزید دھماکے کر دئیے۔ اب پاکستان کو اپنی حفاظت کیلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا لہٰذا پاکستان نے 28اور30مئی کو 6دھماکے کر کے یہ قرض ہمیشہ کیلئے اتاردیا۔پاکستان نے اپنی ایٹمی ریسرچ کا سفر تو 1956میں ایک چھوٹے سے ریکٹر سے شروع کیا تھا جسے PINSTECH کا نام دیا گیا تھا لیکن یہ ایک معمولی سی کوشش تھی۔ پاکستان نے اپنا اصل سفر 1972میں شروع کیا تھا جب پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو نے ہر قیمت پر ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا۔یہ دراصل مشرقی پاکستان کے زخم کو مند مل کرنے کی ایک کوشش تھی۔ سنجیدگی کا اندازہ اس اعلان سے لگایا جا سکتا ہے جب انہوںنے کہا کہ :’’ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائینگے‘‘۔اور پھر خدا کے فضل سے حالات جیسے بھی رہے پاکستان نے اپنی منزل مقصود حاصل کر ہی لی۔یہ پاکستانی قوم کے نا قابل شکست عزم کی داستان ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ پاکستان اس وقت مسلم دنیا میں واحد ایٹمی پاورہے۔ پاکستان نے تا حال بھارت ، اسرائیل اور شمالی کوریا کی طرح NPTپر دستخط نہیں کئے اور یہ دستخط اسوقت ہونگے جب بھارت ایسا کردیگا لیکن بد قسمتی سے بھارت کے معاملہ میں بڑی طاقتوں کا دُہرا معیار ہے۔
بھارت روز اول سے ہی پاکستان کے وجود کا مخالف ہے۔ بھارتی لیڈروں نے علی الاعلان کہا تھا کہ :’’اول تو ہم پاکستان بننے نہیں دینگے اور اگر بن گیا تو ہم اسے زندہ نہیں رہنے دینگے‘‘ بھارت آج تک اسی پالیسی پر قائم ہے ۔بھارت میں جو بھی حکومت آئی، جیسے بھی سیاستدان ہوئے پاکستان کی نفرت انکے دلوں سے نہیں نکلی۔حیدرآباد کشمیر اور بنگلہ دیش کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی نے اپنے دور ہ بنگلہ دیش میں فخریہ بتایا کہ کس طرح انہوں نے ایک نوجوان کارکن کی حیثیت سے بنگلہ دیش کے قیام میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گو یہ لوگ زبان سے پاکستان کیلئے کتنے اچھے اچھے الفاظ بولتے ہیں لیکن دلوں میں کتنا بغض ،منافقت اورکینہ ہے۔یہ معاملہ صرف ایک نریندرا مودی ہی کا نہیں بلکہ تمام بھارتی لیڈرز آئے روز اپنی نفرت کا لاوا اگلتے رہتے ہیں۔ بھارت ایک بڑا ملک ہے۔ معاشی طور پر بھی ہم سے مضبوط ہے۔ بھارتی فوج بھی ہم سے تقریباً تین گنا بڑی ہے۔روایتی ہتھیاروں کے بھی انبار لگا رکھے ہیں ۔تعداد کے لحاظ سے ہمارا اور بھارت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اسی عددی برتری پربھارتی لیڈرز اتراتے ہیں ۔اب پاکستان کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی ایکسر سائزز ہو رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی نیت میں فتور ہے۔ مزید یہ کہ بھارت اسوقت پوری دنیا سے ہتھیار خرید رہا ہے آخر کس لئے؟ بھارت کا واحد ہدف پاکستان ہے ۔طاقت کا نشہ جنگی جنون کو جنم دیتا ہے اور بھارت پوری طرح جنگی جنون میں مبتلا ہے۔
-----------------------------
بھارت نے ’’کولڈ سٹارٹ‘‘ جنگی پالیسی اپنائی ہے جسکے مطابق ایکدم حملہ کر کے پاکستان فوج کو کئی حصوں میں کاٹ دیا جائے تا کہ اسے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی فرصت ہی نہ ملے۔بہر حال اس بات کا جواب تو ہمارے آرمی چیف نے اسے وقت ہے دی دیا تھا یوم شہدا کے موقع پر بہت مناسب الفاظ میں دیا تھا کہ :’’ کولڈ سٹارٹ ہو یا ہاٹ سٹارٹ ہم تیار ہیں‘‘۔اس جواب کا مطلب بھارت کی سمجھ میں آگیاہوگا۔ بھارت اسوقت پاکستان میں مداخلت کر کے دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ بھی پھیلا رہا ہے ۔ کراچی اور بلوچستان خصوصی طور پر نشانے پر ہیں۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ معاشی حب ہے۔ وہاں دہشتگردی عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔ ۔بلوچستان میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے ۔پولیس اور غریب بے گناہ شہری نشانہ بن رہے ہیں۔کراچی میں پکڑے جانیوالے دہشتگرد وں نے بھی بھارت سے تربیت کا اعتراف کیا ہے۔بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے والے فراریوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں ’’ را‘‘ سے تربیت حاصل کی۔ بھارت ہر لحاظ سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو مشرقی پاکستان والی کہانی دُہرائی جا سکتی تھی۔گذشتہ کچھ عرصے سے بھارت کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں ۔ ساتھ ساتھ بھارتی فوج کی تیاریاں بھی جاری ہیں جو کہ بے مقصد نہیں ہو سکتیں۔ ان دھمکیوں پر پریشانی لازمی امر ہے۔ ان آنیوالے حالات سے نبٹنے کیلئے تیاری کرنا فرض ہے۔ بھارت کی طرف سے ورکنگ لائن اور کنٹرول لائن پر بھی وقفے وقفے سے شرارت جاری رہتی ہے ۔ بد قسمتی سے بھارت ایک نا قابل اعتماد پڑوسی ہے۔ وعدے کرتا ہے لیکن عمل نہیں کرتا۔وعدہ تو کشمیر میں استصواب رائے شماری کا بھی تھا۔پاکستان کو نہ تو بھارت کے وعدوں پر اعتماد ہے اور نہ ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ بھارت کو جب بھی موقعہ ملے گا حملے سے باز نہیں آئیگا۔لہٰذا ہمیں اپنی تیاری ہر صورت رکھنی ہے۔دو ہفتے پہلے کمانڈر اینڈ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام حالات اور بھارت کی خصوصی چالاکیوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں کم سے کم ایٹمی ڈ یٹیرنس ہر صورت قائم رکھنا ہے۔کسی قسم کے ہتھیاروں کی دوڑ میں حصہ نہیں لیں گے لیکن اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں ہوں گے۔ اس نئی پالیسی کو Full Spectrum deterrence capabilty کا نام دیا گیا ہے۔
#PakSoldier HAFEEZ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment