Sunday, August 20, 2017

اسٹیبلشمنٹ

اسٹیبلشمنٹ
*****************************
دنیا بھر میں ہمیشہ ہی ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے سامنے کی قوتیں اتنا کام نہیں کرتیں جتنی کے پس پردہ قوتیں جو ہر ملک کی اصل طاقت ہوتی ہیں اپنے ملکی و نظریاتی مفادات کے لیے کام سر انجام دیتی ہیں انھیں عرف زبان میں اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں کسی بھی ملک کے اندر موجود یہ نادیدہ قوتیں کبھی بھی سامنے نہیں آتیں ملک کے اندر حکومتوں کا بننا ٹوٹنا ان ہی کے اختیار میں ہوتا ہے اگر کسی ملک کے اندر آج کل کے دور میں یہ قوتیں اثر کھو دیں تو کوئی بھی ملک اپنی سلامتی اور وجود سے ہاتھ دھو سکتا ہے
---------------------
مثلا امریکہ ہی کی مثال لے لیں وہاں پر حکومتی سطح پر جو ٹرپ  اتنظامیہ دیکھائی دے رہی ہے وہ اصل قوت نہیں اصل قوت جو پس پردہ کام کر رہی ہے وہ اور ہے جیسے فری مینسنز اور المیناتی کے نام سے جانا جاتا ہے یہی قوت امریکہ کی اصل اسٹیبلشمنٹ ہے جو امریکہ ہی میں نہیں اس سے باہر بھی اپنا اثر رسوخ جماے بیٹھی ہے
کہتے ہیں  آج تک امریکہ میں کسی اسٹیبلشمنٹ کے کارندہ کا احتساب نہیں کیا گیا جبکہ واٹر گیٹ اسکینڈل میں صدر نکس کو استعفیٰ دینا پڑا۔ بل کلنٹن کو مونیکا نامی عورت کے معاملے میں ذلیل ہونا پڑا۔ یہ سب کارنامے بھی اسی اسٹیبلشمنٹ نے انجام دے یہ اتنے طاقت ور ہیں کہ کسی اور کے اگے جواب سے نہیں ہوتے ھکمرانوں کو ان کی منشا کے مطابق چلنا پڑتا ہے
-------------------------------
کہتے ہیں پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے جب سے اس کا وجود پیدا ہوا ہے دشمنوں کی انکھوں میں یہ ہمیشہ کھٹکتا ہی رہا ہے اس مملکت خدادادے پاکستان کو آج تک اکثریتی حساب سے نااہل حکمران ہی میسر آے ہیں ایسے میں یہاں پر بھی قدرتی طور پر ایک قوت پائی جاتی ہے جو اس ملک کو قائم رکھنے کا سبب بن رہی ہے جو نہ صرف اپنا اثر رسوخ قائم رکھنے میں کافی حد تک کامیاب ہے بلکے بیرونی آثرات (بھارت امریکہ اسرائیل ) کو بھی منہ توڑ جواب دے کر ان کے اثر رسوخ جو چیلنچ کیے بیٹھی ہے جس سے یہ اندرونی قوتیں تو کیا بیرونی قوتیں بھی تقریبا ناخوش ہی نظر آتی ہیں جنہیں ہم اسٹیبلشمنٹ کے نام پہچانتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے وجود کو قائم رکھنے کے لیے ہرقسم کی قربانی کی قسم کھا رکھی ہے  آپ میں سے اکثر افراد نے بی بی سی کی پروپگینڈا فلم  سیکرٹ پاکستان  ڈبل کراس ضرور دیکھی ہو گئی اس فلم کے اندر بھی امریکہ کی شکست کی اصل وجہ جس سیکرٹ حکومت جو ٹھرایا جا رہا ہے وہ اصل میں یہ اسٹیبلشمنٹ ہے
-----------------------
پاکستان امّت میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں دفاعی لحاظ سے طاقتور ترین ملک تصور کیا جاتا ہے .جو گزرتے وقت کے ساتھ مزید طاقتور ترین ہوتا جا رہا ہے .دشمنان پاکستان کی جانب سے پاکستان کو پچھلے کئے  سال سے توڑنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے .اب چونکہ مزید کامیابی کے چانس نہیں  اس طاقتور ترین صلاحیتوں کی حامل فوج کو قابو کرنے کی کوشش کی جائے گے  جبکہ پاکستان نظریاتی ؐمخالف این جی اوز کو بھی سر گرم کیا جاے گا جو ناصرف مغرب مفادات کی حامل ریاست قئم رکھنے میں حکومت قائم کروانے میں ان کی مدد کریں گئی بلکے اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کروا کر اس کے اثر رسوخ کو بھی زائل کریں گئی جو ان کے راستے کا پتھر بنی ہوئی ہیں
 جو بقول
 فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ کے پاکستان اسٹیبلشمنٹ  نو ہزار سے 12ہزار ٹن ٹی این ٹی والے طاقتور ایٹم بم کی صالحیت رکھنے والی آرمی رکھتی ہے

یاد رہے امریکہ نے جاپان پر جو ایٹم بم گرائے تھے ان کی طاقت صرف 13اور18ٹن ٹی این ٹی تھی ۔ان سے 80ہزار لوگوں کی موت ہو ئی تھی۔اور پاکستان آرمی ان کے مقابلے میں ٤٠ گناہ زیادہ طاقت وار بمب رکھتی ہے جس کے اثر رسوخ  گوادر اور چین  پالیسی کی وجہ سے بڑھتے وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں  جو امریکہ بھارت اسرائیل اور یورپ کے لیے اچھی پیشن گوئی نہیں رکھتے
-------------------------------------

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ یا انصرام یا استقرار، عام طور پر پاکستانی تجزیہ نگاروں میں استعمال ہونی والی اصطلاح ہے جو کہ پاکستان میں فوجی حاکمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ پس پردہ ریاستی انتظام کے متعلق یہ افراد، جو کہ مکمل طور پر فوج سے تعلق نہیں رکھتے وہ پاکستان کی سیاست، دفاع اور جوہری پروگرام کے پالیسی فیصلوں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں تک کے اس وقت جبکہ پاکستان میں افر تفری ان نااہل حکمرنوں کی پالیسیوں کی وجہ سے جو قائم ہیں چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھنے گوادر پروجیکٹ کو اگے بڑھانے میں بھی اسی اسٹیبلشمنٹ کے پرسرار بندوں کا ہاتھ ہے جو انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنے فرائض بغیر کسی لالچ کے سر انجام سے رہے ہیں جن کا اثر رسوخ باہر کے ممالک میں بھی قائم ہے
-----------------------------------------
یہ نہ صرف پاکستان کے جوہری منصوبوں بلکہ دفاعی بجٹ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی اپنے مروجہ نظریہ کے مطابق استعمال کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جامع تعریف سٹیفن پی کوہن نے اپنی کتاب “آئیڈیا آف پاکستان“ میں کی ہے،
 کوہن کے مطابق پاکستان کی یہ انصرامی قوت دراصل درمیانی راستے کے نظریہ پر قائم ہے اور اس کو غیر روایتی سیاسی نظام کے تحت چلایا جاتا ہے جس کا حصہ فوج، سول سروس، عدلیہ کے کلیدی اراکین اور دوسرے کلیدی اور اہمیت کے حامل سیاسی و غیر سیاسی افراد ہیں۔ کوہن کے مطابق اس غیر تسلیم شدہ آئینی نظام کا حصہ بننے کے لیے چند مفروضات کا ماننا ضروری ہے جیسے،
.بھارت کے ہر قدم اور ہر چال کا منہ توڑ جواب دینا انتہائی لازم ہے۔
.پاکستان کے جوہری منصوبے ہی دراصل پاکستان کی بقا اور وسیع تر حفاظت کی ضمانت ہیں۔
جنگ آزادی کشمیر جو کہ تقسیم ہند کے بعد شروع ہوئی، کبھی بھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔
اور یہ کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار رہنے چاہیے لیکن کبھی بھی امریکہ کو پاکستان پر مکمل طور پر گرفت حاصل نہ ہونے پائے۔
ایک جگہ حسین حقانی لکھتا ہے
امریکی خود فریبی کا شکار  ہیں ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ وہی کرتی ہے جو اپنے مفاد میں سمجھتی ہے

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ان کلیدی نکات میں یہ بھی اکثر شامل کیا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ہر حال میں ریاست کے انتظام، سیاست وغیرہ پر گرفت مضبوط رکھنی چاہیے۔
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment