Sunday, August 20, 2017

پاکستان نے جب ایٹمی میزائل بھارت کو لگانے لئے تیار کر رکھی

پاکستان اور بھارت نے فرسٹ ایٹمی سٹرائیک نہ کرنے کا ایک معاہدہ کر رکھا ہے جس کیبھارتی جنتا پارٹی نے سخت مخالفت کی تھی اور مودی نے الیکشن مہم میں اعلان کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر اس معاہدے کو پھاڑ دیں گے۔
ویسے کہیںیہ نہ ہو جائے کہ امن کی ا ٓشا کی بیل منڈھے چڑھ جائے ا وراس خوشی میں ہم اپنا  ایٹمی بٹن بھی بڑے بھائی نریندر مودی کے ہاتھ میں دے دیں کہ سپردم بہ تو مایہ خویش را، تو دانی حساب کم و بیش را۔اس فارسی شعر کی آپ کو سمجھ نہیں آئی گی لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نریندر مودی نے اپنا جو حلف سنسکرت میںلیا ہے، اس کی سمجھ بھی آپ کو نہیں آئی ہو گی۔
-------------------------------------
حساب کا لفظ تو آپ کی سمجھ میں آ ہی گیا ہوگا۔ذرا حساب لگایئے کہ جب بھٹو نے ایٹمی پرگرام کی داغ بیل یہ کہہ کر رکھی کہ گھاس کھائیں گے ، ایٹم بم بنائیں گے اور جب 1976 میں ایٹمی تجربہ کرنے کے لئے بلوچستان کے طول و عرض میں سرنگیں کھودے کا سلسلہ شروع ہوا تو ایٹمی وزیر اعظم ان دنوں اتفاق فونڈری میں کیا بھائو تائو کرنے میں مصرف ہوں گے۔تھوڑا آگے چلتے ہیں،1984 میں جب امریکی سفیر اوکلے نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان سرخ بتی عبور کر چکا ہے تو اس وقت ایٹمی وزیر اعظم کی مصروفیات کیا تھیں۔کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی۔ ایٹمی پروگرام سے نوازشریف کا کیا لینا دینا۔انہیں تو تیار شدہ ایٹم بموں کا ذخیرہ ملا، بھارت نے دھماکے کر دیئے تو نواز شریف کو جوابی دھماکے کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔یہ ساری باتیں بعد کی ہیں کہ کلنٹن کے فون نہیں سنے، ساری دنیا کے خزانوں کو ٹھکرایا اور ایٹمی دھماکے کر ڈالے۔ بھارت نے گیارہ مئی کو دھماکے کئے، ہمارا وزیر اعظم شش وپنج میں پڑگیا۔ وزیر اعظم کے بزدل حواری لکھ رہے تھے کہ بھارت کی کشتی میں سواری نہیں کریں گے،تب ایک مرد حق اٹھا، اس نے للکارا ، نوازشریف تم دھماکہ نہیں کرو گے تو قوم تمہارا دھماکہ کر دے گی، میں تمہارا دھماکہ کر دوں گا، تب میںنے اور عبدالقادر حسن نے بھی لکھا کہ اگر دھماکہ نہ کرنے کے عوض مال کمانا چاہتے ہو تو قوم کی مائوں بہنوں کو کوٹھوں پر بٹھا دو اور خود کندھوں پر پرنا رکھ لو تو زیادہ مال اکٹھا ہو جائے گا، یہ باتیں ایک اخبار میں چھپیں ، آج یہ اخبار اپنی نجات کے لئے یہی دو فقرے چھاپ دے تو قوم اور قومی فوج شاید اس کے سارے گناہ معاف کر دے لیکن مجھے اعتراف ہے کہ میری اور عبدالقادر حسن کی تربیت جناب ڈاکٹر مجید نظامی کے سائے میںہوئی تھی اور وہی وزیر اعظم کو للکار رہے تھے کہ دھماکہ کرو ، ورنہ میں تمہارا دھماکہ کر دوں گا ۔
 اپنے لیڈر کی دلیری کو دیکھ کر ہم بھی شیر ہو گئے تھے۔
--------------------------------
دھماکے تو ہو گئے مگر  کی لگام ان حواریوں کے ہاتھ میں دے دی گئی تھی جنہوںنے ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کی تھی، وہ آج بھی ایٹمی دھماکوںکے مخالف ہیں، ا
--------------------------------
لیکن جن ہاتھوں نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام پروان چڑھایاہے ، وہ اسے بھارت یا ان کے شردھالووں کے ہاتھ میں کیوں جانے دیں گے۔ اور یہ کون تھے جنہوںنے پاکستان کا ایٹمی پرگرام پروان چڑھا یا ، یہ ہماری قابل فخر آئی ایس آئی کے ہاتھ تھے جنہوںنے دنیا کی شاطر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی آنکھوںمیںا ٓنکھیںڈال کر یہ پروگرام پروان چڑھایا۔بھارتی را، اسرائیلی موساد، روسی کے جی بی، برطانوی ایم آئی فائیو اورسکس، امریکی سی آئی اے کا جگتو فرنٹ بھی آئی ایس آئی کی گرد کونہ پا سکا۔اور پاکستان کو ایٹمی ڈیٹرنٹ کا تحفہ مل گیا۔بھارت نے ایٹمی ڈیٹرنٹ کی طاقت ایک بار نہیں تین بار آزما کر دیکھ لی اور دنیا نے بھی دیکھ لی اور جو بھی اس پروگرام کا مخالف ہے وہ بھی جان لے کہ براس ٹیک مشقوںکی آڑ میں ستاسی میںبھارت نے پاکستان پر چڑھائی کی کوشش کی تو ضیا الحق ایک کرکٹ میچ دیکھنے بھارت گئے جہاں راجیو کے کان میں انہوںنے بتایا کہ اگر مزید ایک ا نچ آگے بڑھے تو ایٹمی بٹن دبا دوں گا۔اسلامی ملک اور بھی ہیںلیکن دنیا میں واحد ہندو ریاست صفحہ ہستی سے مٹا ڈالوں گا، اگلے روز بھارتی فوجوںنے واپس چھائونیوں کی راہ لی۔دو ہزار دو میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا ڈرامہ رچا کر بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف لام بندی کر دی،جواب میں پاکستان نے اپنے درمیانی فاصلے کے میزائل عین سرحد پر نصب کر دیئے اور ان پرایٹمی ٹوپیاں چڑھا دیں۔ ہندو لالے کا ایک بار پھر پیشاب خطا ہو گیا۔اور اس کی فوج کو پھر واپسی کی راہ لینا پڑی۔ تیسری بار دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ڈرامہ رچایا گیااور اس کا بدلہ اتارنے کے لئے پاکستان کو سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دی گئی، پاکستا ن نے ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لئے اپنے ایف سولہ بلند کر دیئے۔ ان میں ایٹمی اسلحہ نصب تھا،میں سلام پیش کرتا ہوں ان ہوابازوں کو جو جان ہتھیلی پر رکھ کرچوبیس گھنٹے فضائوںمیں رہے ، یہ ہوا باز لاہور سے کہوٹہ تک کی فضائوں میں چنگھاڑتے رہے۔ان گمناموں  کی مائوں کو بھی سلام!
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment