Sunday, August 20, 2017

آئی ایس آئی ۔ پاک فوج کی خدمات


فوج میں رجمنٹ ٹیشن سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں۔فوجی آفیسر ہو یا جوان وہ اسی رشتے سے منسلک ایسی ایسی تکالیف برداشت کر لیتا ہے جو عام زندگی میں ممکن نہیں اگر ہم ایک کیڈٹ کی زندگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ ایک سویلین جسکی عمر اٹھارہ سال ہوتی ہے کسطرح ایک نئے ماحول،نئے رشتے،نئے معاشرے اور قبیلے سے منسلک ہوجاتا ہے۔پاکستان ملٹری اکیڈمی میں آمد کیساتھ ہی ایک جنرل،ایک امیر کبیر گھرانے کے چشم وچراغ سے لیکر ایک سپاہی،عام دیہاتی اور کسان کے بیٹے کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیڈٹ کالج ،ایچ ای سین،اور گرامر سکولوں سے لیکر سبی، سکردہ، کوہلو ،دکی، آواران، مکران،خاران،سندھ کے دیہاتوں اور گوٹھوں کے سکولوں سے پڑھے کیڈٹ کو جنٹلمین کا نام دیا جاتا ہے۔کاکول آمد پر کسی کی برادری،قبیلہ،دولت،سٹیٹس نہیں پوچھا جاتا اور سب کو اپنا سامان اٹھا کر اپنے کمروں میں لیجانا پڑتا ہے۔ایک جیسا ماحول،ایک جیسی تربیت اور دوران تربیت ایک جیسی مشکلات کا سامنا ان نوجوان افسروں میں ایک نیا جذبہ ایک نیا رشتہ اور تعلق پیدا کرتا ہے جو زندگی کے آخری لمحات تک قائم رہتا ہے۔ایسا ماحول جوانوں کو بھی میسر آتا ہے جو چند سالوں میں نہیں بلکہ دو سے تین دیہائیوں پر محیط ہوتا ہے۔یہ اپنے افسروں اور ساتھیوں کے ہمراہ نہ صرف زندگی کا بہترین حصہ گزارتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکالیف میں معاون و مدد گار بھی ہوتے ہیں۔
--------------------------------
اندازہ کیجئے کہ ایک شخص کی اوسط زندگی ساٹھ سال ہے جس میں پرائم لائف کے پہلے تیس سال وہ ایک ڈسپلن اور ضابطے کے تحت گزارتا ہے۔اس ڈسپلنڈ لائف میں اسکے کھانے،پینے،سونے،جاگنے،ایکسر سائز کرنے سے لیکر دشمن کیخلاف نبرد آزما ہونے کے اوقات کار مقرر ہیں۔وہ اپنے ساتھیوں کمانڈروں کے ہمراہ کبھی شمالی علاقوں اور کشمیر میں منفی پچاس ڈگری کے منجمد اوقات میں برف کے مورچے (ایگلو)میں بیٹھ کر ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے اور کبھی اسی موسم میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ برف پوش پہاڑوں پر گشت کرتا ہے تاکہ دشمن رات کے اندھیرے میں مقدس سرزمین پر اپنا ناپاک قدم نہ رکھے۔ان مشکل ترین برفانی علاقوں سے وہ اپنے ان ہی ساتھیوں کے ہمراہ تپتے صحراؤں میں چلا جاتا ہے اور ریت کے طوفانوں کا ہی نہیں بلکہ دشمن کا بھی مقابلہ کرتا ہے وہ اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں سے سینکڑوں میل دور وطن کی حفاظت کرتا ہے تاکہ اہل وطن کی آزادی اور عزت پر آنچ نہ آئے۔
--------------------------
وہ ایک عام مزدور جتنی تنخواہ لیتا ہے مگر شکوہ نہیں کرتا ایک سیاستدان جو ایئر کنڈیشنڈ ماحول کاعادی ہے اور اپنے آپ کو جدی پشتی سیاستدان کہتا ہے اسمبلی میں کھڑے ہو کر جنت ارضی مادر وطن کے محافظ کو گالیاں دیتا ہے تو 343سیاستدان تالیاں بجا کر اسے داد دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ ایئر مارشل ہو یا جنرل یا ایڈمرل سپاہی ہو یا سیلریا پھر ایئر مین وہ سروس مین ہو یا ریٹائرڈ وہ ہر حال میں فوج کا نمائندہ ہے وہ زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی فوج کا نمائندہ ہے فوجی نہ ریٹائرڈ ہوتا ہے اور نہ ہی مرتا ہے۔اسکے کارنامے اور کردار زندہ رہتے ہیں تل پترا،سبونہ،بی آربی کا کنارہ،ہلی کا محاذ،چھور کا صحرا،بڈھا کھنہ کا پہاڑ،کارگل اور چونڈہ کا محاذ جب تک ہیں شہیدوں کی روحیں ان کی محافظ رہینگی۔ امن کی آشا،سیفما کے چکمے،بھارت سے تجارت اور بھارتیوں سے عشق سرگودھا کی فضاؤں سے ایم ایم عالم کے طیارے کی گونج ختم نہیں کرسکتے۔جسطرح پرندے ایک دوسرے کی بولیاں سمجھ لیتے ہیں اسی طرح ایم ایم عالم کے طیارے کی گونج پاک فضائیہ کے ہر طیارے کی روح ہے۔ جس میں ایم ایم عالم اور راشد منہاس کے طیارے کی گونج سنائی دیتی ہوگی
------------#Pak Soldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment