جے ایف سترہ ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو ہر موسم میں کار آمد ہے اور ایک ہلکا جنگی طیارہ کہلاتا ہے اور اس کا فلائٹ کنٹرول فلائی بائی وائر ہے۔طیارہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں انجن ائیر فریم اور ایوی آنکس شامل ہیں۔انجن اور ائیر فریم کا تو ہر انسان کو پتا ہوتا ہے مگر ایوی آنکس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ جس کے بارے میں مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ طیارے کے اندر جو مختلف قسم کے آلات لگے ہوئے ہیں، ان کو ”ایوی آنکس“ کہتے ہیں۔ملٹی رول طیارے کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر اگرچہ یہ ہلکی قسم کا کمبیٹ طیارہ ہے لیکن اس کو بطور بمبار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس میں جو میزائل نصب ہوتے ہیں، ان میں فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر مار کرنے کی اہلیت بھی ہے یہ طیارہ انٹر سیپٹربھی ہے، یعنی دشمن کا کوئی لڑاکا یا بمبار یا ریکی یا ٹرانسپورٹ طیارہ اگر اپنی فضاوں میں گھس آئے تو یہ اس کا سراغ لگا کر اس کو روک سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے: ”ٹھہرو! بھائی جان! کدھر جا رہے ہو؟…. کسی بھول میں نہ رہنا، ہم بھی راہوں میں دیوار بن کر کھڑے ہیںJF 17 / JF 17 BLOCK 3 / NEWS IN URDU / PAK DEFENCE / PAKISTAN / PAKISTAN AIR FORCE / دفاع0
جے ایف سترہ لڑاکا طیارے میں نصب آلات کی تفصیلات
BY YASIR · PUBLISHED AUGUST 18, 2017 · UPDATED AUGUST 24, 2017
جے ایف سترہ ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو ہر موسم میں کار آمد ہے اور ایک ہلکا جنگی طیارہ کہلاتا ہے اور اس کا فلائٹ کنٹرول فلائی بائی وائر ہے۔طیارہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں انجن ائیر فریم اور ایوی آنکس شامل ہیں۔انجن اور ائیر فریم کا تو ہر انسان کو پتا ہوتا ہے مگر ایوی آنکس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ جس کے بارے میں مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ طیارے کے اندر جو مختلف قسم کے آلات لگے ہوئے ہیں، ان کو ”ایوی آنکس“ کہتے ہیں۔ملٹی رول طیارے کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر اگرچہ یہ ہلکی قسم کا کمبیٹ طیارہ ہے لیکن اس کو بطور بمبار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس میں جو میزائل نصب ہوتے ہیں، ان میں فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر مار کرنے کی اہلیت بھی ہے یہ طیارہ انٹر سیپٹربھی ہے، یعنی دشمن کا کوئی لڑاکا یا بمبار یا ریکی یا ٹرانسپورٹ طیارہ اگر اپنی فضاوں میں گھس آئے تو یہ اس کا سراغ لگا کر اس کو روک سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے: ”ٹھہرو! بھائی جان! کدھر جا رہے ہو؟…. کسی بھول میں نہ رہنا، ہم بھی راہوں میں دیوار بن کر کھڑے ہیں“۔
فلائی بائی وائر
فلائی بائی وائر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں کوئی ”تار“ لگی ہوئی ہے، جس کی مدد سے یہ اڑتا اورآپریٹ کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا فلائٹ کنٹرول جدید ترین اور نیم خود کار ہے۔ پائلٹ کو زیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور اس کو زیادہ ”آزادیءعمل“ حاصل ہوتی ہے
اس سسٹم سے پہلے جو سٹم تھا اسے اینا لاگ کہا جاتا تھا۔ آپ نے کاک پٹ میں دیکھا ہوگا کہ بہت سے کنٹرول اور گیج وغیرہ پائلٹ کے سامنے اور دائیں بائیں لگے ہوتے ہیں جو ہوا باز کو مختلف قسم کی معلومات فراہم کرتے ہیں. آپ نے کاروں میں بھی دیکھا ہوگا کہ رفتار بتانے، پٹرول کی مقدار بتانے، انجن کا درجہ حرارت بتانے اور اس قسم کی دیگر معلومات بتانے کے لئے مختلف گیج نصب ہوتے ہیں۔ اس سسٹم کو اینا لاگ سسٹم کہا جاتا ہے ۔ اس سسٹم میں ایک برقی رو پیمائش کرنے والے کے ذریعے ڈرائیور کو متعلقہ معلومات فراہم کرتی رہتی ہیں۔ ”فلائی بائی وائر“ فلائٹ کنٹرول، اینا لاگ سسٹم سے اگلا ترقی یافتہ اور جدید تر فلائٹ کنٹرول سسٹم ہے۔ اسی طرح یہ طیارہ بڑی پھرتی سے اوپر نیچے اور دائیں بائیں گھوم سکتا ہے۔ آپ نے شاہین یا عقاب کو دیکھا ہوگا جو ہوا کے دوش پر خراماں خراماں پرواز کرتا رہتا ہے، لیکن جب کسی شکار پر جھپٹتا ہے تو ناگہاں اتنی تیزی اور پھرتی سے نیچے غوطہ لگاتا یا اوپر کو اُٹھتا یا دائیں بائیں مُڑتا ہے کہ اس کی قلابازیوں، تیزی، تندی، جھپٹنا، پلٹنا اور پھر پلٹ کر جھپٹنا ایک حیرت انگیز منظر ہوتا ہے جے ایف 17 تھنڈر بھی ان تمام مقدورات سے مسلح ہے اور اصطلاح میں اس اہلیت کو ہائی منوور بلٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ پاک فضائیہ میں جو دوسرے لڑاکا طیارے ہیں، ان میں بھی یہ سب کچھ موجود ہے، لیکن اس تھنڈر اور ان کے درمیان فرق یہ ہے کہ تھنڈر کو پاک فضائیہ خود بنا رہی ہے جبکہ ایف 16 ، میراج اور دوسرے طیارے ہم خود نہیں بناتے، بلکہ یہ غیروں کی ”عطا“ ہیں۔ وہ جب چاہیں ان کے فاضل پرزے روک لیں اور جب چاہیں # PakSoldier HAFEEZ
ان کو گراو¿نڈ کرنے پر مجبور کر دیں۔ پاکستان کو ماضی میں یہ ”تجربہ“ بارہا ہو چکا ہے۔

No comments:
Post a Comment