صرف انسان ایسا حیوان ہے جو اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی اپنے عزیز و اقربا کو ہلاک کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ انسان جوں جوں مہذب بنا اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے چاند اور مریخ تک جا پہنچا لیکن اس کی درندگی نفسیات میں کمی نہ آئی۔ پہلی عالمی جنگ میں ڈیڑھ کروڑ دوسری عالمی جنگ میں ساڑھے چار کروڑ انسان مارے گئے۔ ویت نام کی جنگ میں پچاس ہزار امریکی اور لاکھوں وائٹ کانگ مارے گئے۔ عراق اور افغانستان میں دنیا کی طاقت اور مہذب قوم امریکیوں نے لاکھوں انسانوں کا صفایا کر دیا۔
------------------------------------
زمانہ قدیم اور وسطی ادوار میں جنگیں ہوئیں بعض وحشی قوموں نے ظلم و زیادتیاں کیں لیکن عموماً مہذب قوموں نے جنگ کے اخلاقی اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا اور تاریخ میں عالمی مقام پایا۔ سکندر اعظم، صلاح الدین ایوبی، فریڈرک دی گریٹ، محمد بن قاسم وہ جرنیل تھے جہاں سے گزرے لوگ آج بھی انہیں اچھے نام سے یاد کرتے ہیں۔ چنگیز، ہلاکو بھی آئے وہ جس شہر کو فتح کرتے انسانی سروں کے مینار بناتے اور خون کی ندیاں بہاتے۔ آج دنیا میں کسی شہر یا شاہراہ کا نام ان کے نام پر نہیں ہے۔
--------------------------------------
طالبان کی تحویل میں 23 پاکستانی اہلکاروں کے سر کاٹ دئیے گئے۔ آپ کو یاد ہے جب 1970ء میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر 70 ہزار مسلح گوریلے مشرقی پاکستان میں داخل کر دئیے گئے تھے (بقول بھارتی وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی) جنہوں نے مکتی باہنی کی بنیاد رکھی پھر مغربی پاکستانیوں اور وفادار مسلمان بنگالیوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ مردوں اور بچوں کیلئے مذبحہ خانے کھولے جہاں جمے ہوئے خون پر کتوں اور گِدھوں کی بھرمار رہتی تھی۔ ان بھارتی گوریلوں نے مسلمان عورتوں کو برہنہ کر کے جلوس نکالنے شروع کر دئیے۔ برہنہ خواتین کو جلوس میں رات کو سکولوں، کالجوں کی خالی عمارتوں میں لے جایا جاتا اور انہیں ریپ کر کے مار دیا جاتا۔ کیا آپ نے مسلمان مردوں، بچوں کے مذبحہ خانوں کی تصاویر دیکھی ہیں جو آج بھی اسلام آباد کے سب سے بڑے خفیہ ادارے کی الماری میں پڑی ہوں گی۔ کیا ہندو دھرم میں ایسے ظلم و بربریت کی اجازت ہے؟ کیا جنیوا کنونشن میں اس کی سزا ہے؟ امریکی صدر نکسن نے وائیٹ ہائوس میں اندرا گاندھی سے ملاقات کے بعد سیکرٹری خارجہ ہینری کسنجر سے ٹھیک کہا تھا کہ ’’لگتا ہے اس عورت کے سینے میں پتھر کا دل ہے۔‘‘
------------------------------------------------
جب جنرل ٹکا خان نے ملٹری ایکشن کر کے بھارتی گوریلوں کو مار بھگایا تو پاکستان کے بعض سیاستدانوں نے شور مچا دیا کہ ملٹری ایکشن نہیں ہونا چاہئے۔ طاقت کے دبائو پر جنرل ٹکا خاں کو مغربی پاکستان بُلا کر جنرل نیازی کو مشرقی پاکستان بھیج دیا گیا۔ جنرل یحیٰی خان نے عام معافی کا اعلان کر دیا اور بھارتی گوریلے واپس مشرقی پاکستان میں داخل ہو کر مار دھاڑ کرنے لگے۔
بریگیڈئر سعداللہ جو مشرقی پاکستان میں بریگیڈ کمانڈر تھے اپنی کتاب "Pakistan Divided" میں لکھتے ہیں ’’بھارتی مسلح گوریلے جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور جنہوں نے مکتی باہنی کی بنیاد رکھی انہوں نے سرحدوں پر عوامی لیگ کے کارکنوں کیلئے تربیتی کیمپ کھول رکھے تھے، وہ انہیں ٹرینڈ اور مسلح کر کے ٹارگٹ دے کر مشرقی پاکستان بھیجتے، انہیں وارن کیا جاتا کہ اگر انہوں نے حکم عدولی کی تو اس کے گھر والوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ ایسا ہُوا بھی کہ جنہوں نے حکم عدولی کی اس کے گھر والوں کے سر کاٹ کر دکھانے کیلئے رکھ لئے اور جسموں کو ندی نالوں میں بہا دیا۔ اس ظلم و بربریت کا کونسا جنگی قانون یا انسانی معاشرہ اجازت دیتا ہے؟
----------------------------------------------
بریگیڈئر مظہر یٰسین (جو بھارت کے جنگی قیدی رہے) بتایا کہ جب سرنڈر کے بعد بھارتی فوجیں چاروں طرف پھیل گئیں تو ان کے پیچھے سینکڑوں خالی سول ٹرک لائے گئے۔ وہ دیہات اور شہروں میں خوبصورت جوان لڑکیوں کو چُن چُن کر ٹرکوں میں ڈال کر لے گئے، کارخانوں کی مشینیں اکھاڑ کر لے گئے، یہ لڑکیاں اپنے گھروں میں واپس نہ آسکیں۔ کیا یہ بھارتی فوج کا اقدام جنیوا معاہدے کے مطابق تھا؟ یوں لگتا ہے کہ پُرامن شہریوں کی گردنیں کاٹنے اور جوان لڑکیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرکوں میں لے جانے کی رسمیں بھارت کی ہندو فوجی ہائی کمان نے ڈالیں۔ قرآن میں واضح لکھا ہے کہ ’’دشمن کی فوجیں سرحدیں عبور کرتی ہیں تو عزت داروں کی عزت لُٹ جاتی ہیں۔‘‘
آج انہیں طاقتوں کے مسلح اور تربیت یافتہ گوریلے مغربی پاکستان میں مار دھاڑ کر رہے ہیں۔ را، موساد، خاد، سی آئی اے یہ ایجنسیاں طالبان کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہی ہیں۔ ان ایجنسیوں کے ٹھکانے کہاں کہاں پر ہیں۔ ہماری بعض حکومتوں نے غیر ملکی دہشت گردوں کو بغیر ویزوں کے ملک کے اندر داخل کیا، ان میں بعض جو مقابلوں میں مارے گئے وہ مسلمان نہ تھے۔ ہمارے دشمنوں کا ہدف پاکستان کے مزید ٹکڑے اور ہماری ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنا تہا اور خانہ جنگی زوروں پر ہو، پاک فوج کو کئی محاذوں پر پھیلا دیا جائے وہ تھک کر کمزور ہو جائے تو دوطرفہ بھرپور حملہ کر کے ہدف حاصل کر لیا جائے۔
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment