Thursday, August 17, 2017

سوشل میڈیا کے مارخور

#سوشل_میڈیا_کے_مارخور
ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن کے مارخور
ہر دم تیار ہر دم مستعد اور جوش و جذبے سے سرشار پاک افواج اور آئی ایس آئی چونکہ بیک وقت کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن, ہاٹ سٹارٹ ڈاکٹرائن, تھرڈ جنریشن اور فورتھ جنریشن ڈاکٹرائن کا سامنا کرنے اور منہ توڑ جواب دینے میں مصروف عمل ہے۔
ان کی تفصیل سے تقریباً سبھی دوست احباب واقف ہیں لیکن دشمن کی ایک اور ڈاکٹرائن جسے ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن بھی کہا جاتا ہے کا سامنا کرنے کو پاک افواج اور آئی ایس آئی کو کوئی الگ یونٹ کوئی الگ ڈیسک ترتیب نہیں دینا پڑا اور نہ ہی اس ڈاکٹرائن کا سردرد لیا۔
کیوں؟
کیونکہ دشمن کے مقابلے ہماری افواج اور آئی ایس آئی کو سائبر وار, ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن کے تیار اور زیرک سپاہی فی سبیل ﷲ پورے پاکستان سے میسر آئے ہم اور ہمارے جیسے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ المعروف فیسبکی دانشور المعروف اور مشہور زمانہ بوٹ پالشیوں کی صورت۔
دشمن یعنی بھارت, اسرائیل, امریکہ اور دیگر طاغوتی طاقتوں کا افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیز میں اس ڈاکٹرائن کے لیئے ایک اچھا خاصہ سیٹ اپ ہے۔جس پر انکا 25 سے 40 فیصد سالانہ بجٹ خرچ ہوتا ہے۔
بھانت بھانت کے نظریات, ذہانت, زبان دان اور ذہین لوگ انکے اس سیٹ اپ کا نہ صرف حصہ ہوتے ہیں بلکہ وہ کافی اختیارات کے مالک بھی ہوتے ہیں۔
انکی تنخواہیں اور مراعات قابل دید اور قابل ستائش ہوتی ہیں۔
لیکن وہ اپنے تیئن غریب اور دہشت گرد سمجھے جانے والے ملک پاکستان کی نہ جغرافیائی سرحدوں کو بھید سکے اور نہ ہی انکے اوچھے اور اوٹ پٹانگ نظریاتی حملے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کچھ خاص بھید سکے۔
یہ ملک جس نظریئے اور جس جذبے کی آنچ پر جل کر سانچے میں ڈھلا تھا یہ اب بھی ویسا ہی ہے۔
کچھ کالی بھیڑوں اور گندی مچھلیوں نے اس میں فساد برپا بھی کیا اور نقصان بھی پہنچایا لیکن زندہ اور بیدار قومیں مشکلات اور مصائب میں گھبرایا نہیں کرتیں بلخصوص قوم کی اصل طاقت اسکے پڑھے لکھے محب وطن مذہبی نوجوان گھبراہٹ کے لمحات کو چٹکیوں میں اڑا کر وطن کو اور مظبوط اور توانا کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
بلکل ایسا ہی اس ملک کے محب وطن اور مذہبی نظریہ و عقیدہ رکھنے والے نوجوان الگ الگ میدانوں اور اداروں میں کررہے ہیں۔لیکن انکے کرنے اور سنبھالنے کی بھی ایک حد ہے۔
مانا کہ یہ قوم ہیروز میں خود کفیل ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سارے ہیروز فقط عسکری اداروں سے ہی نہیں ہیں بلکہ جیتے جاگتے اور ہر دم تیار شانہ بشانہ اپنی عسکری قیادت اور سیادت کے ساتھ سویلینز میں بھی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔
اور سب سے بڑی بات یہ کہ عسکری قیادت کو اس کا نہ صرف علم ہے بلکہ وہ بہت مطمئن اور خوش بھی ہیں کہ ہمارے ملک کی جغرافیائی سرحدیں اگر ہمارے ہاتھوں محفوظ ہیں تو دوسری جانب ہماری نظریاتی سرحدیں بھی محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
اس ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن اور سائبر وار کے اب غازی اور شہدا بھی ہیں جن میں سے اکثر وہ ہیں جنکے نام اور پہچان ویسے ہی گمنام ہیں جیسے ہمارے عسکری گمنام غازیوں اور شہدا کے۔
بہرحال دشمن بھرپور وسائل اور اختیارات کے باوجود ان ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن کے مارخوروں کے آگے فیل ہورہا ہے روز بروز۔
وجہ کیا ہے؟
وجہ یہاں بھی وہی ہے جو عسکری میدان میں انکو ناکام کرواتی ہے۔
یعنی جذبہ, حب الوطنی, عقیدہ توحید اور شوق شہادت کی کمی اور موت و ناکامی کا ڈر۔
انکی کامیابی کا گراف یہاں بھی پوائنٹس میں ہی چڑھ سکا۔
آپ خود ملاحظہ کریں کہ اسی سال کے آغاز سے اب تک ہمارے پڑوسی دشمن بھارت کے تربیت یافتہ اور وسائل سے بھرپور سائبر وار کے سپاہی کس قدر ہماری بدولت زچ اور ناکام ہوئے۔
خواہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کو برن ایشو بنانا اور اسکو ریوائیو کرنا ہو یا کشمیری سنگبازوں کو منظم کرنا اور اسکےطلباء کو تحریک کا متحرک حصہ بنانا ہو۔
خواہ کلبھوشن یادیو کے خلاف درست معلومات پھیلا کر بھارتی پروپیگنڈا وار کو سبوتاز کرنا ہو یا پاکستانی کرنل کے بیہیمانہ اغواء کا بروقت پردہ فاش کرنا اور بھارت کی چال اسی پر الٹ کر اسکے منصوبوں پر پانی پھیرنا ہو۔
خواہ ہماری سیاسی قیادت کو مہرہ بناکر فوج مخالف بھارتی پروپیگنڈے کی بدترین موت ہو بوٹ پالشیوں کے ہاتھوں یا ہیکنگ کی بدولت بھارت میں دھاک بٹھانا ہو۔
الغرض دشمن ایجنسیوں اور اداروں کا اربوں کھربوں روپیہ ہماری وجہ سے ضائع اور منصوبے تباہ و برباد ہوئے ہیں۔
غرض ایسی کتنی اور مثالیں اور قصے آپکو مل جائیں گے ان ففتھ جنریش ڈاکٹرائن کے مارخوروں کے۔
خوشی اور حوصلے کی بات یہ ہے کہ ﷲ نے ان سائبر وار مارخوروں کو بھی فیلڈ کے نمبرون مارخوروں کی طرح ہمیشہ سرخرو کیا اور اس وقت ایک غیر معروف اور غیر اعلانیہ سروے جوکہ بہت جلد منظر عام پر آنے والا ہے کی رپورٹ کے مطابق یہ بات پوری دنیا جاننے والی ہے کہ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کا فی سبیل ﷲ ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن اور سائبر وار ڈیسک بھی میدان مار گیا ہے اور انکا دشمن دھول چاٹ چاٹ کر پاگل اور خجل ہوگیا ہے۔
اور ہاں یہ سب تب ہی ممکن ہوا ہے کہ ہمیں ہماری لاعلمی میں رکھ کر چند خفیہ اور بزرگ ہاتھوں کی مدد اور حوصلہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔
سب سے بڑھ کر اس فی سبیل ﷲ ڈیسک کی مدد اور حوصلہ افزائی جنرل راحیل شریف, جنرل ظہیر السلام, جنرل رضوان اختر اور جنرل عاصم باجوہ کے دور میں شروع ہوئی۔
پھر انکے ساتھ ساتھ بابا جی جنرل حمید گل اورامیر محترم حافظ محمد سعید ,سر زید حامد زمان اور جناب اوریا مقبول جان کی مدد اور نصرت بھی شامل ہوگئی۔
اور اب جنرل قمر باجوہ, جنرل نوید مختار اور جنرل آصف غفور بھی اس ففتھ جنریشن اور سائبر وار ڈیسک کے ان فی سبیل ﷲ مجاہدوں اور مارخوروں کی مدد اور مداح سرائی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔
وہ وقت اب دور نہیں ان شاءﷲ جب ان مارخوروں کا ڈنکا اس ورچوئل اور فزیکل دنیا میں بجے گا۔
اور ان شاءﷲوہ وقت بھی دور نہیں جب ﷲ ہمیں اپنے لاڈلے اور محبوب مجاہدوں کے سنگ ایک ہی چھت کے نیچے کام کرنے کا موقع دیگا اس وطن کی حفاظت اور ترقی کی خاطر۔
لوگ ہمیں فخریہ اور بعض فی سبیل ﷲ بغض میں مبتلا ہوکر بوٹ پالشیا کہتے ہیں۔
کوئی بات نہیں بوٹ پالشی ہوناہمارے لیئے باعث فخر اور باعث سکون ہے۔
لیکن دشمن دنیا ہمیں بھی اب مارخور سمجھتی اور مانتی ہے اور ہمارے خلاف برسرپیکار ہے۔
جبکہ عالمی سیاست اور صحافت ہمیں فری لانس تھنک ٹینکس پکارتی اور لکھتی ہے۔
بہرحال کوئی ہمیں کچھ بھی کہے اور سمجھے لیکن ہمارے لیئے سکون کی یہ بات ہے کہ ہمارا دشمن ہمیں بھی مارخور ہی مانتا اور جانتا ہے۔
ہمارا خوف اس پراسکی سرحد کے اندر تک موجود ہے۔
خواہ وہ جغرافیائی ہو یا نظریاتی ہم ہر ایک سرحد کے محافظ اور وطن کے دفاع کی آخری لکیر ہیں۔
ہاں ہم ہی بوٹ پالشی, تھنک ٹینکس اور ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن و سائبر وار ڈیسک کے مارخور ہیں۔
ہر ایک بدن خاکی کے جینے کی وجہ ہو وجہ ہو
اے وطن تیرا بھلا ہو بھلا ہو بھلا ہو بھلا ہو
پاک افواج زندہ آباد
آئی ایس آئی زندہ آباد
#PakSoldier HAFEEZ copy بلال شوکت آزاد

2 comments:

  1. برادر اگر مصنف کا نام بھی درج کردیتے تو کیا ہی بات ہوتی۔بہرحال شکریہ کہ آپ کو میرے الفاظ اشاعت کے قابل محسوس ہوئے۔

    ReplyDelete