جنگ عظیم اول میں یہودیوں نے جب دیکھا کہ اتحادی جنگ جیت رہے ہیں تو انہوں نے اتحادیوں پر فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام پر زور دیا۔ خصوصاً برطانیہ کو یقین دلایا کہ اس سے اس کیلئے برصغیر کا بحری راستہ محفوظ ہوجائے گا۔ برطانیہ امریکہ اور فرانس پہلے ہی سلطنت اسلامیہ کو منتشر کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ مشرق وسطیٰ کا محل وقوع اور یہاں کے تیل کے ذخائر پر ان کی نظر تھی۔ صیہونی تحریک کے قائد پروفیسر ڈاکٹر ویزمین نے صیہونی ریاست کے قیام کیلئے اہم رول ادا کیا۔ وہ مانچسٹر یونیورسٹی کا پروفیسر تھا۔ مشہور برطانوی سیاست دان آرتھر جیمس بالفور کا حلقہ انتخاب مانچسٹر یونیورسٹی کا علاقہ تھا جو کہ یہودیوں کا گڑھ تھا۔ ویزمین نے یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کے بدلے بالفور کو کامیاب کرانے کا وعدہ کرلیا۔ نیز پہلی جنگ عظیم اول کے دوران دھماکے سے اڑ جانے والا مادہ دریافت کر کے ڈاکٹر ویزمین نے اتحادیوں کی جنگی ضرورت کو پورا کر دیا اور مالی امداد لینے کی بجائے یہودی وطن لینے کا وعدہ حاصل کرلیا۔ نتیجتاً ۲/نومبر ۱۹۱۷ء کو یہودیوں نے ”اعلان بالفور“ حاصل کرلیا جو علی الاعلان فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی یقین دہانی کا اعلان تھا جسے آخرکار پورا کر دیا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی ریاست کے قیام نے اس خطے کا امن و سکون درہم برہم کردیا ہے اس علاقے میں اب تک دوسری جنگ عظیم کے بعد سات (۷)جنگیں ہوچکی ہیں جن میں اسرائیل براہ راست یا بالواسطہ ملوث رہا ہے۔
تقسیم فلسطین کے وقت مسلمانوں کو فلسطین کا خطہ ۵۳ فیصد دیا گیا اور اسرائیل کے یہودیوں کو فلسطین کا ۴۷فیصد حصہ دیا گیا لیکن تقسیم فلسطین کے اعلان کے بعد یہودیوں نے جارحیت کے ذریعے فلسطین کے ۷۰فیصد خطے پر برطانیہ اور امریکہ کی سرپرستی میں قبضہ کرلیا بالکل اسی طرح جس طرح تقسیم ہند کے وقت بھارت نے کشمیر کے ۷۰ فیصد علاقے پر زبردستی قبضہ کیا تھا۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یہود کے بزرگوں کی صدیوں پرانی خواہش ہے اس مقصد کیلئے یہود کے اکابرین صدیوں سے سازشیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف کینیڈا میں ۱۹۹۳ء میں چھپنے والی کتاب پاؤن اِن دی گیم" میں اس کے مصنف بحریہ کے کمانڈر ولیم نے کیا۔ مصنف مذکور نے تحریری شہادتوں کے حوالے سے لکھا ہے تمام عالمی جنگوں اور بغاوتوں کے پیچھے یہودی ہاتھ صاف نظر آتا ہے۔ یہودی ساری دنیا پر اور خصوصاً عالم اسلام پر جس طرح قبضہ کرنا چاہتا ہے وہ پلان اس نے اس کتاب میں بے نقاب کئے ہیں۔ وسیع تر اسرائیل کا یہودی پلان اس منصوبے کا اہم حصہ ہے امریکہ اور اس کے حواری یہود کے اس پلان کی تکمیل کیلئے اسرائیل کیلئے کام کر رہے ہیں۔ دنیا پر صیہونی تسلط کیلئے ۱۸۹۷ء میں یہودیوں کی تنظیم فری میسن کے اعلیٰ درجے کے اکابرین نے کئی برسوں کے صلاح مشوروں کے بعد "پروٹوکولز" کے نام سے ایک دستاویز تیار کی، پروٹوکولز کا نام پانے والی دستاویزات کی کل تعداد ۲۴ہے۔ ۱۹۰۵ء میں روس کے ایک چرچ کے پادری پروفیسر سرجائی اے نائلس نے ان دستاویزات کو ایک کتابچے کی شکل میں روسی زبان میں شائع کر دیا۔ ۱۹۱۹ء اور ۱۹۲۰ء اس کے انگریزی ترجمے امریکہ اور برطانیہ میں شائع ہوئے۔ نائلس کو اس کتابچے کی ایک نقل اس کے ایک دوست کے ذریعے ملی جو کہ اصل مسودے کا صحیح ترجمہ تھا۔ یہ مسودہ انتہائی خفیہ اجلاس کی کارروائی پر مشتمل تھا جو ایک عورت چرانے میں کامیاب ہو گئی جو کہ فرانس میں منعقد ہوا جس کا آغاز فرانس سے ہوا تھا اس خفیہ اجلاس کا نام تھا۔ MASONIC CONSPIRACY The nest of Jewish
(یہودی خفیہ تنظیم کی سازشوں کا آشیانہ) اس کتابچے کا نام "Protocols of the meeting of the Zions elders." ہے۔
پاکستان میں پہلی بار مصباح السلام فاروقی نے "جی وِش کنسپائریسی" کے نام سے پروٹوکولز کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ یہودی اس کے نسخے خرید کر تلف کرتے رہے۔ پروٹوکولزکے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے بیشتر اہم واقعات، انقلابات، حکومتوں کی تبدیلیاں وغیرہ صیہونی منصوبوں کے مطابق ہوتی ہیں۔ ۱۹۱۷ء کا روس کا کمیونسٹ انقلاب بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا مارکس اور لینن دونوں یہودی تھے، ملاحظہ ہو پروٹوکولز کا مندرجہ ذیل پیراگراف ”ترجمہ… ماضی کے واقعات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات یہودی بزرگوں کے مرتب کردہ خفیہ دستاویزات کے عین مطابق رونما ہو رہے ہیں۔ پوری دنیا میں جنگ وجدل، انقلابات، قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، مستقل بے چینی دراصل چور دروازوں سے پوری دنیا کو زیرنگیں کرنے کے حربے ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
پروفیسر نائلس کو روس کی کمیونسٹ حکومت سے پروٹوکولز کا انکشاف کرنے پر قید کی سزا ملی اور وہ قید میں ہی اذیتیں پا کر جنوری ۱۹۲۹ء کو انتقال پاگیا۔ پروفیسر نائلس کی کتاب پر پابندی لگادی گئی اور کتاب اپنے پاس رکھنے پر سزائے موت کا اعلان کیا گیا۔اس کتاب میں بینجمن ڈزرائلی (اصل نام اسرائیلی) نے ۱۸۴۸ء میں کہا تھا۔ ترجمہ ”کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ دنیا کے جو حکمران نظر آ رہے ہیں ان کے پیچھے حکومت کرنے والے ہاتھ اور ہوتے ہیں اس نے کہا کہ درپردہ لوگ تمام کے تمام یہودی ہوتے ہیں“۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یہود کے اکابرین نے اپنے پروگرام کی تکمیل کیلئے ایک خفیہ نقشہ تیار کیا اس نقشے میں یہودی قوم کو سانپ سے تشبیہ دی یعنی سانپ یہود کی قومی علامت ہے اس سانپ نے ۴۲۹ق م میں یونان سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ۴۶۹ق م میں روم میں داخل ہوا۔ تیسرے مرحلے میں میڈرڈ میں داخل ہوا۔ اس وقت چارلس پنجم وہاں حکمران تھا۔ ۱۷۷۰ء میں پیرس پہنچا یہ لوئیس ۱۶/واں کا دور حکومت تھا۔ پانچویں مرحلے میں برطانیہ میں داخل ہوا۔ ۱۸۱۴ء اسی دور میں نپولین کو فرانس میں زوال آ گیا۔ سانپ کی چھٹی منزل ۱۸۷۱ء برلن تھی۔ ۱۸۸۱ء کو اس نے اپنا منہ روس کی سمت کر دیا سانپ کے راستے میں جو جو ممالک آئے ان میں یہودی ذہن جو چاہتا تھا کرتا چلا تا تھا۔ سانپ کے سفر کی آخری منزل قسطنطنیہ ہے۔یہود کے بزرگوں نے ۴۲۹ق م میں جس پروگرام پر عمل پرائی کا آغاز کیا اس نے یونان جیسے ملک کے کلچر کو اس طرح تباہی کا نشانہ بنایا اور برباد کیا جیسے اجڑے ہوئے کھیت۔ یونان جس نے بنی نو انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کی۔ ضرب المثل سائنس دان فلاسفر ریاضی دان اور حکماء پیدا کئے۔ یونان جو سکندراعظم جیسے عظیم الشان فاتح کا ملک تھا۔ یہودی اکابرین نے یورپ و امریکہ کو نشانہ بنانے کیلئے دو اہم ترین اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں کے عوام کے اخلاق کو تباہی اور معیشت میں نہ ختم ہونے والی پیچیدگیوں سے دوچار کردیا۔ اس کے پریس کو کنٹرول کرنا تھا۔ یہ تینوں مقاصد حاصل کئے جا چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ عامہ پر یہود کے کنٹرول کی یہ حالت ہے کہ پوری دنیا میں یہودی جس خبر کو چاہیں پھیلا دیں، جھوٹ کو سچ کر دکھائیں۔ آج دنیا کی معیشت پر یہود کا کنٹرول ہے۔ امریکہ جیسا طاقتور اور باوسائل ملک بھی یہود کا دست نگر ہے۔یہود کے بزرگوں کے پیش کردہ نقشے میں ان کی آخری منزل فلسطین دکھائی گئی ہے۔ سانپ کا سر یروشلم (بیت المقدس) پر دکھایا گیا ہے اور اس کا کنڈل بہت سارے ممالک کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے یہ تمام ممالک اسلامی ممالک ہیں۔ اس میں ترکی کا شمال مغربی حصہ شام، اردن عراق فلسطین مصر اور سعودی عرب کا شمالی حصہ جس میں مدینہ منورہ واقع ہے، شامل ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
صہیونی استعمار کی سرحدیں یہودیوں کے پاس نقشے کی شکل میں موجود ہیں ملاحظہ فرمائیں: عراق میں دریائے فرات سے مصر میں دریائے نیل تک۔ وہاں سے یہ سرحدیں خیبر، مدینہ طیبہ، شام، لبنان اور اردن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اسرائیل میں نیشنل اسمبلی کی پیشانی پر انہوں نے اپنے مستقبل کی خیالی سلطنت کا نقشہ بنایا ہوا ہے وہ آج بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں اور مسیح صلالت (دجال اعظم) آکر ان کے دلدر دور کرے گا اور پورے مشرق وسطیٰ اور باقی دنیا پر ان کی حکمرانی ہوگی، وہ حکمران ہوں گے اور باقی سب ان کے غلام۔یہود سانپ کی سی چالاکی اور مکاری سے کام لیتے ہوئے بتدریج پیش قدمی کرتے ہوئے اب پروگرام کے آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں دنیا کی تقریباً تمام طاقتیں حکمران اہل سیاست و معیشت اور عالمی ادارے ان کی گرفت میں ہیں۔ یہود کے ناپاک عزائم کا مقابلہ کرنے کیلئے اس وقت فراست مومن کی اشد ضرورت ہے جس فراست کا منبع قرآن حدیث ہے۔ یہ فراست قرآن و سنت سے تعلقات مستحکم کر کے ہی مسلمانوں کو مل سکتی ہے۔ ۱۸۹۶ء میں یہودی ایک صدی میں اپنے لئے دو ہدف مقرر کر چکے تھے۔
1.فلسطین میں یہودی ریاست کا قیام
2.یہود کی عالمی سلطنت (جیوزورلڈ گورنمنٹ) کا قیام۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
مسلمانوں کے خلاف بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی کا یہ خوفناک ترین منصوبہ ہے عیسائی دنیا یہودی جال میں پھنس چکی ہے اور یہودیوں کو اس کی بھر پور اعانت حاصل ہے۔
سن انیس سو باون (۱۹۵۲ء) میں ہنگری کے دارالحکومت پڈاپسٹ میں یورپ کے یہودی علماء جمع ہوئے تھے۔ ان کے پیشوا اور ممتاز ترین ربی حاخام امانیول وابیٹو ویٹش کے خطبہ کا اختصار سنیئے۔
•”میں نے آپ حضرات کو بعض اہم ترین اقدامات اور مستقبل کے بڑے منصوبوں کے خاص پہلوؤں سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل ہم نے ایک منصوبے کیلئے ۲۰سال کی مدت مقرر کی تھی مگر جنگ عظیم دوم کے بعد قبل از وقت ہی اس کا بڑا حصہ مکمل ہوگیا۔ ہم تین ہزار سال پرانے جس منصوبے پر کام کر رہے ہیں اس کی تکمیل کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اسرائیل کی ارض موعود جو ہمارا وطن ہے اور نسل در نسل ہم جس سے محروم چلے آرہے ہیں، چند سال قبل ہمارا یہ حق ہمیں مل گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقاصد میں بھی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اب وہ وقت دور نہیں جب ہر یہودی آقا اور غیر یہودی اس کا غلام ہوگا“۔
•”جنگ عظیم دوم سے قبل ہم نے جرمنی کی قیادت اور عوام کے اندر دیگر اقوام سے شدید نفرت کے جذبات پیدا کئے تھے۔ نفرت کی ہی آگ اب ہم مشرقی اقوام کے اندر مغرب کے خلاف بھڑکائیں گے اور مغرب میں اہل مشرق کیلئے تحقیر و تذلیل کے جذبات ابھاریں گے۔ یوں یہ اقوام آپس میں دست و گریباں ہو جائیں گی اور ان کے ہاتھوں ہمارا کام پورا ہو جائے گا۔ اس منصوبے کی کامیابی کیلئے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہم امریکہ کی فوجی قوت کو انتہا پر پہنچا کر وہاں مہلک ترین اسلحے کے انبار لگا دیں“۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
•”ہمارا آخری اور اہم ترین ہدف یہ ہے کہ تیسری جنگ عظیم شروع کرانے کیلئے حالات کی رفتار تیز کریں۔ یہ اپنی تباہ کاری اور ہلاکت خیزی کے اعتبار سے سابقہ تمام جنگوں پر بازی لے جائے گی۔ غیر یہودی اقوام کے ساتھ یہ ہمارا آخری معرکہ ہوگا۔ اس وقت ہم اپنے اصل عزائم کے ساتھ دنیا کے سامنے آئیں گے اور اپنا حقیقی چہرہ بے نقاب کریں گے۔ تیسری اور آخری جنگ عظیم کے بعد نہ دوسرے ادیان باقی رہیں گے اور نہ ان کی مذہبی شخصیات۔ یہ ادیان اور ان کے ماننے والے ہی اصل میں ہمارے لئے ہمیشہ خطرہ بنے رہے ہیں۔ ان ادیان کے ماننے والوں کا مٹانا نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی تمام دنیا پر ہماری برتری، فوقیت سیادت اور سرداری کا قیام ممکن ہوگا۔ اب ہماری کوشش ہوگی کہ ان تمام ادیان سے جن کے پیروکاروں کی دینی و روحانی قوت ہمارے لئے خطرہ بنی رہی ہے، یہودیت کو مستقل طور پر تحفظ فراہم کر دیا جائے۔ احجار علی رقعتہ الشطرنج (شطرنج کے مہرے) ۱۹۷۰ء میں بیروت سے شائع ہوئی۔ یہود نہایت کم ہیں مگر انتہا درجہ منظم، جس کی وجہ سے مضبوط نظر آتے ہیں نہایت ہی سائنٹفک اور موثر انداز میں منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتے ہیں ایک طرف دنیا بھر کے اخبارات، ریڈیو، ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے موقف کے حق میں رائے عامہ تیار کرتے ہیں اور دوسری طرف عالم اسلام کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہیں۔ جب جان لیتے ہیں کہ مسلمانوں کا ضمیر سو چکا ہے تو پھر اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنا دیتے ہیں۔یہودی منصوبہ ساز صدیوں سے ایسے پلیٹ فارم کی تلاش میں تھے جو دنیا بھر میں اپنے خوبصورت عنوان کی آڑ میں یہودی مفادات کا تحفظ کرے۔ یہودی دستاویزات کے مطابق اقوام متحدہ وہی پلیٹ فارم ہے جس کی بنیاد یورپ و امریکہ کے یہودیوں اور اس کے زیراثر عیسائیوں نے ۱۹۴۵ء میں رکھی۔ یو این او پر یہودیوں کے تسلط کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے دس انتہائی اہم اداروں میں ان کے اہم ترین عہدوں پر (۷۳)یہودی فائز ہیں۔ اقوام متحدہ کے صرف نیویارک کے دفتر میں (۲۲)شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں۔ یہ تمام حساس شعبے ہیں جو بین الاقوامی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں مثال کے طور پر آئی ایم ایف میں (۹)ورلڈ بینک میں (۶)یونیسکو میں (۹)آئی ایل او میں (۹)آئی ایل میں (۳)اور ایف اے او کے گیارہ شعبے مکمل طور پر یہودیوں کی تحویل میں ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یو این او نے ۱۹۴۸ء میں اسرائیل جیسی خالص یہودی حکومت کا اعلان کیا چونکہ اس ادارے کے بانی کٹر یہودی تھے جو سازشوں میں ضرب المثل ہونے کے علاوہ عربوں کے تغافلانہ مزاج کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے قبلہ اول بیت المقدس کو چھیننے کیلئے یو این کی سرپرستی میں اپنی پیش قدمی آہستہ آہستہ جاری رکھی۔ ۱۹۵۴ء میں فلسطین کے بعض علاقے ہتھیائے ۱۹۵۶ء میں بیت المقدس کے ایک حصہ پر قبضہ کیا۔ ۱۹۶۲ء میں کئی اور علاقے لئے مگر مسلمان خود کو یہ تسلیاں دیتے رہے کہ حرم شریف کا اصل حصہ تو ہمارے پاس ہے آخر کار یہودیوں نے ۱۹۶۸ء میں مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کرلیا اور اب ہیکل سلیمانی کی تلاش کی آڑ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کیلئے مسجد کے قریب ۶۰/ہزار ڈالر میں ایک دکان خرید کر اس کی اندر سے کھدائی شروع کر دی
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور کو اڑانے کی منصوبہ بندی بھی یہودیوں نے کی تھی کیونکہ اتنی بلند و بالا مکمل لوہے سے کھڑی چٹانیں ایک ہوائی جہاز کی ٹکر سے زمین بوس نہیں ہو سکتیں ماہرین کے مطابق ان عمارتوں کو چاروں اطراف کی بیس منٹ میں بھاری بارود نصب کرکے ریموٹ کے ذریعہ سے اڑایا گیا اور الزام القاعدہ (اسامہ بن لادن) پر اس لئے ڈالا گیا کیونکہ یہودی افغانستان پر حملہ کے ساتھ پاکستان کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے۔ اگر پاکستان پر حملہ ہوتا تو چین کو لامحالہ اس جنگ میں کودنا پڑتا پاکستان کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک بھی جنگ میں شامل ہوتے اس طرح تیسری عالمی جنگ چھیڑنے کا یہودی منصوبہ مکمل ہو جاتا تاہم یہودیوں کے اس خواب کو پاکستان نے چکنا چور کر دیا جب پاکستان نے عالمی دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کی بلکہ عالمی برادری کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا اور آج تک پاکستان اپنے اس موقف پر قائم ہے لیکن امریکہ بہادر پاکستان سے اب بھی ناخوش ہے چونکہ امریکہ بہادر کی ڈوریں یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ صیہونی سازش کاروں کی آنکھوں میں پاکستان کی تنصیبات کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہیں۔ افغانستان اور عراق پر امریکہ و اتحادیوں کا مکمل قبضہ ہے امریکہ و اتحادی فوجوں کی کمان پر یہودی لیڈروں کا قبضہ ہے۔ وہ اب بھی ان حالات میں افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کو پاکستان اور ایران سے لڑانے کے جواز پیدا کر رہے ہیں اور عراق کی کٹھ پتلی امریکی حکومت کو شام پر حملے کے جواز پیدا کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گویا پوری امت مسلمہ یہودی سازشوں کے نرغے میں ہے ان حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ جانے یا انجانے میں پاکستان یا دیگر اسلامی ممالک نے اگر اسرائیل کو ان حالات میں تسلیم کرلیا تو اسرائیلی یہودیوں کو ان ممالک میں سفارت خانے کھولنے سمیت دیگر سفارتی معاملات میں دخل اندازی کی بنا پر یہودیوں کو اپنے عالمی صیہونی حکومت کے قیام میں آسانیاں ہو جائیں گی اور ان کے اس منصوبے کی تکمیل میں اسرائیل کا تسلیم کیا جانا سنگ میل کی حیثیت اختیار کرلے گا لہٰذا امت مسلمہ کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے باز رہے اور پاکستان،، چین، روس جیسے تمام ممالک کے ساتھ غیر جانبداریت کی بنیاد پر برابری کے اصولوں پر یکساں تعلقات قائم کرے۔ یہودیت کی طرف سے امہ کے خلاف گھناؤنے منصوبے دراصل امت مسلمہ کے لئے موجودہ زوال کو دائمی بنانے اور رہی سہی غیرت و حمیت بھی ہمیشہ کیلئے ختم کردینے کی گہری سازشیں ہیں ان حالات میں ہر فرد ہے ملت کا ستارا۔ وہ اپنی جدوجہد عالمگیر سطح پر غلبہ اسلام کی بحالی کی عظیم جدوجہد میں بدل دے کیونکہ ہم نے ذلت و رسوائی اور غلامی کے بجائے عزت و تمکنت اور غلبہ کے راستے کا انتخاب کر کے جینا ہے۔
#Pak Soldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment