Friday, August 25, 2017

پاکستان نیوی کے پاس پی تہری اورین تیاری نیوی میں کردار؟ خصوصیات

پی تھری اورین ایک سروینلنس جہاز ہے جو ساحلوں پر اور سطح سمندر پر نظر رکھتا ہے ۔ یہ جہاز ایل-188 مسافر طیارے کی کاپی ہے جسے فوجی استعمال میں نئے نام سے لایا گیا ۔1960 کی دھائی مین پہلا پی-3 اے امریکہ کی نیوی کو ملا اس کے بعد 2012 تک ایسے 734 جہاز بنائے جا چکے ہیں جو مختلف بحری افواج استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے اندر میزائل اور تورپیڈو لگائے جاتے ہیں اور اس کے پروں پر بھی10 ہارڈ پوائینٹ ہوتے ہیں جن پر میزائیل نصب کیے جاتے ہیں ۔

پی تھری کی ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ 16 گھنٹے تک ہوا میں رہ سکتا ہے اور اس کی رینج 9 ہزار کلو میٹر تک ہے ۔ اس کی سپیڈ 740 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے ۔ اور یہ 28 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے ۔ یہ 9 ٹن تک ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کے اندر 8 تورپیڈو نصب کیے جاتے ہیں ۔ یہ جار ٹربو پراپ انجنوں سے چلتا ہے جو اس کی زیادہ دیر ہوا میں رہے سکنے کی وجہ ہے ۔یہ 116 فٹ لمبا ہے ۔اس پر بھی بہت سارے ہتھیار نصب کیے جا سکتے ہیں جیسا کہ ہارپون میزائیل مافریک میزائیل ۔ ڈیپتھ چارجرز کلسٹر بم اور ایم سریز کے بموں کے علاوہ ستیڈ آف بم جیسے سلام وغیرہ بھی اس پر بڑے مارک 46 اور مارک 50 قسم کے تورپیڈو نصب کیے جاتے ہیں جو بڑے سے بڑے بحری جہاز کو تباہ کر دیتے ہیں ۔ اسے 11 آدمی آپریٹ کرتے ہیں

اس کی سب سے اہم بات اس کا سرویلنس سسٹم ہے جو سمندروں پر کڑی نظر رکھتا ہے ۔ اسے ایک طرح سے سمندری اویکس کہا جا سکتا ہے ، اس کے اندر ریتھیوں کمپنی کا جدید ترین راڈار اے پی ایس 137 نصب ہے ۔ اس کا جدید ترین رسیونگ سسٹم اے آر آر 78 ہے ۔ اس کے اندر اے کیو اے ڈائریکشن اور فریکونسی ڈیٹکٹر ہے ۔اور بھی بہت سارے حساس نظام اس میں نصب ہیں یہ سب میرینز کو کھوجنے اور نشانہ بنانے میں کام آتا ہے ۔ اور اس سے بحری بارودی سرنگیں بھی نصب کی جاتی ہیں بھارت نے جب ٹیپولیو بئیر جہاز خریدے تو پاکستان کو مجبورا ایک سمندری نگرانی کے جہاز کی ضرورت پڑی ۔1988 میں پاکستان نے 3 پی تھری سی امریکہ سے خریدے ۔ پاکستانی کریو کی ٹریننگ شروع ہو گئی اور امریکی کمپنی نے جہاز بنا کر یو ایس نیوی کے حوالے کر دیے ٹیسٹ کے لیے ۔ اسی دوران 1991 میں پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئیں اور پاکستان کو ملنے والے یہ تین پی تھری سی بھی روک دیے گئے ۔

جہازوں کو یو ایس نیوی سے لے کر امراک کے سٹور سنٹر پر لایا گیا جو کہ ڈیوس مانتھون ائیر بیس امریکہ کے ساتھ ہے۔ کانگریس نے پاکستان کے ساتھ تمام دفاعی سودے روک دیے ۔ ایک ایسا جہاز جو بن چکا تھا اور جس کے پیسے دیے جا چکے تھے اسے پاکستان کو حوالے نہیں کیا جا رہا تھا بالاخر طویل مزاکرات کے بعد 1996 میں امریکی کانگریس سے محدود پیمانے کے سودوں والے بل کے بعد دسمبر 1996 کو یہ جہاز پاکستان کو ملے جنہیں فورا سکواڈرن 28 میں شامل کر کے آپریشنل کر دیا گیا ۔

29 اکتوبر 1999 کی صبح پاکستان نیوی کا ایک پی تھری سی ٹیک آف کے فورا بعد کریش ہو گیا ۔ جس کے بعد باقی 2 جہازوں کو گراؤنڈ کر دیا گیا ادھر ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہی دوبارہ شدید پابندیوں کی وجہ سے سپورٹ پارٹس اور ہتھیاروں کی ضرورت تھی جو کہ امریکہ سے نا مل سکے ۔2001 کے بعد جب حالات بدلے تو پاکستان نے مزید پی تھری سی اور سٹور کیے ہوئے پی تھری سی کو دوبارہ استعمال کا فیصلہ کیا پرتگال کی کمپنی کو لوکھیڈ مارٹن نے سب کونٹریکٹ دیا جنہوں نے مہران ائیر بیس پر پاکستان کے سٹور کیے ہوئے دونوں جہازوں کو اڑنے کے قابل بنا کر امریکہ روانہ کیا ۔ اور ان کو لوکھیڈ میں اپگریڈ کیا گیا انجنز کی اوور ہائلنگ کی گئی سینسرز اور جدید سسٹم لگائے گئے اور پاکستان کو مطلوبہ ہتھیار بھی فراہم کر دیے گئے ۔    #PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment