Friday, August 25, 2017
افغانستان میں بھارتی قونصل خانے، ”را” کے مراکز
2013 بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” بلوچستان میں پورے زور و شور سے خفیہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور بعض نوجوانوں کو ملک کے خلاف بغاوت اور غداری کے لئے نہ صرف اکسا رہی تہے بلکہ ان کو ہر طرح کا مواد اور اسلحہ بھی فراہم کیا جارہا تھا ۔افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے اور قونصل خانے ”را” کا گڑھ بنے ہوئے ہیں اور یہ قونصل خانے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالات خراب کرنے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یہ حقیقت ہے کہ صوبہ بلوچستان میں را کافی متحرک ہے اور افغانستان کو بیس کیمپ بنا کر اس کے ایجنٹ براہِ راست بد امنی پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں۔ پاک افغان سرحد کے ساتھ بھارت کے متعدد قونصل خانے صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یہاں 121 فراری کیمپ کام کررہے ہیں۔بلوچستان کیخلاف 30 کیمپ افغانستان میں کام کررہے ہیں جبکہ یہاں 20 ممالک کی ایجنسیاں سرگرم عمل ہیں۔ انکے بقول گڑبڑ پھیلانے والوں کو اسلحہ اور ڈالر باہر سے مل رہے ہیں۔صوبہ بلوچستان میں عالمی مداخلت ویسے تو بہت عرصے سے جاری ہے مگراس میں شدت اس وقت آئی جب 2003ء میں حکومت کی طرف سے وہاں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
حکومت کی کوشش تھی کہ وہاں کے پسماندہ علاقوں کی معاشرتی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے براہِ راست اقدامات کئے جائیں اور اس سلسلے میں کسی علاقے کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔ یہ منصوبے ہندو پالیسی سازوں کی آنکھ کااس لئے کانٹا ہیں کیونکہ وہ پاکستان کو اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بنتا دیکھ نہیں سکتے لہٰذانہوں نے بلوچ قوم پرستوں کے ذہنوں میں زہر گھولنا شروع کیا کہ وفاقی حکومت بلوچوں کے وسائل پر قبضہ کرلینا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ لاپتہ افراد، سیاسی انتقام،بے گھر ہونے والے افراد کی مشکلات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا خوب پراپیگنڈہ کیا گیا۔ گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ وہاں پنجابی افراد کی تعداد بڑھنے سے بلوچی اقلیت میں چلے جائیں گے۔صوبے میں بدامنی پھیلانے اور علیحدگی پسند تحریک کے لئے را کے ایجنٹ افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کے علاوہ میڈیکل یا تعمیراتی مشن کے روپ میں موجود ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
جو شدت پسند عناصر کو اپنے ہاں بلا کر تخریب کاری کی تربیت اور ہدایات دیتے ہیں۔بھارت کی اس مداخلت کے بہت سے ثبوت خفیہ ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں۔ ان حقائق و شواہد کے مطابق بھارتی ایجنسی ”را” افغانستان میں موجود درجن بھر بھارتی قونصل خانوں کی وساطت سے افغانستان میں اپنے دہشت گردوں کو تربیت دلا کر انہیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد سمیت پاک افغان سرحد کے راستے پاکستان میں داخل کرتی رہی ہے’ جنہوں نے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد وارداتیں کیں۔ بھارتی اور نیٹو فورسز کے زیر استعمال دوسرا غیرملکی اسلحہ کراچی میں سمگل ہو کر آنے اوراستعمال ہونے کی نشاندہی کرتے رہے ہیں جبکہ کراچی کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ایک سیاسی جماعت کے آفس سے بھارتی اسلحہ برآمد بھی ہو چکا ہے۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یہ درست ہے کہ ہمارا پڑوسی بھارت ہمارا کبھی خیرخواہ نہیں رہا چنانچہ وہ پاکستان کی سالمیت کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہمارے قریبی پڑوسیوں بھارت اور افغانستان میں سے کوئی بھی ہمارے ساتھ مخلص نہیں۔ افغانستان کو تو برادر پڑوسی اسلامی ملک ہونے کے ناتے علاقائی مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان کے ساتھ یکجہت ہونا چاہیے تھا مگر ظاہر شاہ کے دور سے اب تک ہمیں افغانستان کی جانب سے کبھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا بلکہ کابل انتظامیہ ہمیشہ ہماری سالمیت کیخلاف سازشوں میں شریک ہی پائی گئی ہے۔ موجودہ افغان صدر حامد کرزئی تو اکثر اوقات امریکی لب و لہجے میں ہمیں دھمکیاں دیتے اور ڈکٹیٹ کراتے بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سابق افغان صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کی ایک بم دھماکہ میں ہلاکت کی براہ راست ذمہ داری پاکستان پر عائد کی جس کے بعد افغانستان سے مسلح گروپوں کے پاکستان میں داخل ہو کر پاکستان کی سکیورٹی چیک پوسٹوں اور سول آبادیوں تک پر حملہ آور ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ #PakSoldier HAFEEZ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment