ماڈرن جنگوں کی ایک اہم بات اپنے کاؤنٹر ہتھیاروں سے بڑے شکار کو مارنا جیسے کہ ایک 70 ہزار ڈالر کے میزائل سے 40 یا 50 ملین کا جنگی طیارہ مار گرانا ۔ ایک 5000 ڈالر کے راکٹ سے 10 ملین ڈالر کا ہیلی کاپٹر مار گرانا اسی طرح نیوی میں کوسٹ افیکٹیو ہتھیار میزائل ہیں جو 1 سے 2 لاکھ ڈالر فی میزائل ایک 250 ملین دالر کی فریگیت یا 500 ملین ڈالر کے تباہ کن بحری جہاز تک کو غرق کر سکتے ہیں ۔ اس کے لئے پلیٹ فارم بھی کوسٹ افیکٹیو بنائے گئے ہیں ۔ پہلے پہل میزائل بوٹس تھیں جنہیں اب ان سے بڑے جہاز فاسٹ اٹیک کرافٹس میں بدل دیا گیا ہے ۔
ایف اے سی ایک طرح سے فریگیٹ اور میزائل بوٹ کے درمیان کی چیز ہے ۔ایف اے سی کو آفینسیو ہتھیار کہا جاتا ہے یا جارہانہ ہتھیار یہ اپنی چھوٹی راڈار کراس سیکشن کا فائدہ اٹھا کر دشمن کے نزدیک ہوتے ہیں اور اب تو سیمی سٹیلتھ بن رہے ہیں اور ملٹی پل میزائل اٹیک لانچ کر دیتے ہیں اسی طرح پھرتی سے پل بیک کر جاتے ہیں یعنی کے دشمن کی رینج سے نکل جاتے ہیں ان کی سپیڈ تیز ہوتی ہے اور وزن کم ہوتا ہے جس سے ان کی موومنٹ آسان رہتی ہے ۔یہ ایک طرح سے دشمن کے اندر گھس کر مارنے والا ہتھیار ہے ۔ میزائل بوٹ چھوٹی ہوتی تھی ان کو کور کی ضرورت پڑتی تھی اور ان پر بڑے راڈار نصب نہیں ہوتے تھے پر ایف اے سی میں یہ سب کچھ ممکن ہے اور یہ میڈیم شپ جنگ کے دوران نہایت ہی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے پہلے سے ہی اس نئے ٹرینڈ کو بھانپ لیا تھا اور جب میزائل بوٹ بنانے پر پلاننگ ہوئی تو نیوی نے میزائل بوٹ کی بجائے ایف اے سی بنانے کی تجویز دی ۔ اس طرح پاکستان نے پی این ایس جرات اور پی این ایس قوت ملک میں بنائے ۔ اب کی بار پاکستان نیوی نے بڑے ایف اے سی کا سودا کیا جو کہ 560 ٹن سے بھی زیادہ ہوں ۔ چائنا کے ساتھ اس سودے میں ایک چائنا ایک پاکستان میں ایف اے سی بنانے کا اتفاق ہوا۔ جو کہ سیمی سٹیلتھ ہو اور اس کی ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو پاکستان میں ان کو عظمت کلاس ایف اے سی بھی کہتے ہیں۔
پہلی ایف اے سی 2011 میں بنا کر پاکستان نیوی کے حوالے کی گئی اور دوسری پی این ایس دہشت پر کراچی میں پاکستان نیوی ڈاک پر بنائی گئی ۔206 فٹ لمبی ان ایف اے سی کو 14 آدمی آپریٹ کرتے ہیں ان کا مین ہتھیار 180 کلو میٹر تک مار کرنے والے سی 802 میزائل ہیں اس کی مین گن 76 ملم کی ہے ان پر دو 25ملی کی گن بھی نصب ہیں اور دو 12 ملی کی پرائمری گنز نصب ہیں ان پر فلئیر لانچرز اور میزائلوں سے بچاؤ کا نظام بھی نصب ہے اور ایک ایف اے سی کو بنانے میں 50 ملین ڈالر لاگت آئی ہے ۔
پاکستان نے حال ہی میں اسی طرح کی سٹیلتھ شپس کے معاہدے ترکی کے ساتھ بھی کر لیے اس طرح پاکستان کے پاس نہ صرف چینی ساختہ جدید ہتھیار موجود ہوں گے بلکہ مغرب کی ٹیکنالوجی کے حامل ہتھیار بھی پاکستان کے دفاع کا حصہ بن سکیں گے۔ یہ سب معاہدے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی بنیاد پر کیے گئے ہیں#PakSoldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment