Sunday, September 17, 2017

جنرل ضیاءالحق کے بارے میں کہا جاتا ہے

کہ انہوں نے 1970 ءمیں اردن میں فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دیگر الزامات کی طرح یہ بھی ایک فحش جھوٹ اور من گھڑت تہمت ہے۔ آئیں اس کی تفصیل آپ کو بتاتے ہیں۔

1967 ءمیں اسرائیل نے بیت المقدس شریف پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس چھ دن کی جنگ میں تمام عرب ممالک کو شرمناک شکست ہوئی اور پاک فوج اور فضائیہ کو عرب ممالک کے دفاع کیلئے بھی بھیجا گیا تھا۔ جنگ کے بعد ایک اور عسکری تربیتی دستہ بھی اردن بھیجا گیا کہ جس میں اس وقت کے بریگیڈیئر ضیاءالحق شامل تھے۔ پاک فوج کے اس دستے کا مقصد صرف اردن کی فوج کو جنگی تربیت دینا تھا۔

1967 ءکی عرب اسرائیل جنگ کے بعد، کہ جب بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا، تو ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مہاجر اور ان کے ساتھ پی ایل او (فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن) کہ جس کی قیادت یاسر عرفات کرتے تھے وہ بھی اردن میں آکر آباد ہوگئے۔ نظریاتی طور پر یاسر عرفات اور پی ایل او سیکولر، سوشلسٹ اور لادین قسم کے نظریات رکھتے تھے اور ان کی تمام تر ہمدریاں روس نواز کمیونسٹ بلاک کے ساتھ تھیں۔ہزاروں کی تعداد میں یہی سوشلسٹ اور سیکولر پی ایل او کے جنگجو اردن میں آکر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہوگئے کہ جن کا کسی بھی طرح فلسطینی کی تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ یہ صاف صاف دہشت گردی کے زمرے میں آتی تھیں، مثلاً جہازوں کو اغواءکرنا، اولپمکس پر حملے کرنا، اردن کے قانون کی دھجیاں اڑا کر اردن کی حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آج پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے، لیکن اگر یہ افغان مسلح گروہ بنا کر اسلام آباد پر حملہ کردیں تو پھر پاک فوج کا کیا جواب ہونا چاہیے؟

یاسر عرفات کو اپنے سوشلسٹ بلاک میں سے روس اور شام کی پوری طرح مدد حاصل تھی اور انہی کی ایما پر پی ایل او کے جنگجوﺅں نے ستمبر 1970 ءمیں براہ راست اردن کی حکومت پر حملہ کردیا اور نتیجتاً اردن کی فوج اور پی ایل او کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ ساتھ ہی ساتھ شام نے بھی اپنے دو سو ٹینک اردن میں داخل کردیئے۔ اردن چونکہ امریکہ کا حلیف تھا، لہذا اس کے دفاع میں امریکہ نے اپنی فوجوں کو حرکت دے دی اور اسرائیل بھی اس جنگ میں کودنے کیلئے آمادہ ہوگیا۔اردن میں ہونیوالی اس سخت لڑائی میں کئی ہزار لوگ مارے گئے کہ جن میں اردن کی فوج بھی تھی، پی ایل او کے جنگجو بھی اور اردن کے شہری اور فلسطینی مہاجر بھی۔ کئی روز کی لڑائی کے بعد بالآخر اردن کی فوج نے پی ایل او کے جنگجوﺅں کو پیچھے ہٹا دیا اور شاہ حسین کا تختہ الٹنے سے بچ گیا۔ عالمی طاقتیں بیچ میں کود پڑیں اور یاسر عرفات اور ان کے گروہ کو اردن سے نکال کر لبنان منتقل کردیا گیا۔

اردن میں ہونیوالی اس ساری جنگ میں کوئی پاکستانی افسر شریک نہیں ہوا۔ بریگیڈیئر ضیاءکے علاوہ وہاں ایک درجن سے زائد فضائیہ اور فوج کے افسر موجود تھے، مگر کسی کو بھی نہ تو اس خانہ جنگی میں شرکت کا حکم تھا اور نہ ہی کوئی اس میں شریک ہوا۔ اردن فوج کے ٹینک دستے کا ایک کمانڈر جب میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گیا تو اردن کے بادشاہ نے پاکستان سے درخواست کی کہ بریگیڈیئر ضیاءکو اس ٹینک بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کردیا جائے۔ پاکستان سے اجازت آنے کے بعد بریگیڈیئر ضیاءنے اردن کی ٹینک دستے کی کمانڈ سنبھالی کہ جو شام سے آنے والے ٹینکوں کے مقابلے پر کھڑی تھی۔مگر جنگ سے پہلے ہی سیز فائر کا اعلان ہوگیا اور عملی طور پر بریگیڈیئر ضیاءکو کسی قسم کی جنگ میں حصہ نہیں لینا پڑا۔

تو یہ تھی بریگیڈیئر ضیاءکی کل شرکت اس عرب خانہ جنگی میں کہ جس میں نہ تو پاکستان کا کوئی کردار تھا اور نہ ہی پاکستانیوں کے ہاتھوں کسی فلسطینی کا خون بہا۔
1970 ءمیں اردن میں ہونیوالی اس خانہ جنگی کو ”سیاہ ستمبر“ Black September کا نام دیا جاتا ہے۔ تمام مغربی مورخ اور عرب تاریخ دان اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ اس جنگ میں پاکستان یا کسی پاکستانی افسر کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جنرل ضیاءکے صدر بننے کے بعد کم از کم تین مرتبہ یاسر عرفات پاکستان آئے، اور درجنوں مرتبہ جنرل ضیاءکی ان سے عالمی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں۔ دونوں میں انتہائی محبت ، تعلق اور پیار تھا اور کبھی بھی کسی فلسطینی نے پاکستان پر یا جنرل ضیاءپر فلسطینیوں کے قتل عام کا کوئی الزام نہیں لگایا۔

No comments:

Post a Comment