Sunday, September 17, 2017

سمندر میں تباہی پھیلا دینے والے میزائل کی باری میں جانئی

فرانسی زبان میں اڑتی ہوئی مچھلی اور جنگ میں تباہی کا نشان ایکزوسیٹ میزائیل فرانس کی کمپنی ایم بی ڈی اے نے بنایا ہے ۔ 15 فٹ لمبے اس میزائیل کو ہر فن مولا کہا جائے تو غلط نا ہو گا یہ ہر قسم کے پلیٹ فارم سے اڑ جاتا ہے مطلب لانچ ہو سکتا ہے ہیلی کاپٹر سے لے کر سب میریین تک اور جہازوں سے لے کر بحری جہازوں تک حتی کہ زمین سے بھی ۔اس کی رینج 180 کلو میٹر ہے اور یہ ایک طرح سے دشمن کے بحری جہازوں پر رعب ہے ۔ یہ جیٹ انجن سے چلتا ہے اور خاموشی سے ہدف کو جا لیتا ہے اس کی سپیڈ 315 میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے ۔ اس کے بھی ہارپون کی طرح مختلف ماڈل اور مختلف نام ہیں.جیسے کہ
ایم ایم-39 ایکزوسیٹ زمین سے فائر کیا جانے وال
اے ایم -39 ہوا سے فائر کیا جانے والا
ایس ایم-39 سب میرین سے زیر سمندر سے فائر کیا جانے والا
ایم ایم -40 اس کا بلوک -3 ہے جو 2007میں مارکیٹ میں آیا ۔ اس نے بہت ساری جنگوں میں حصہ لیا اور جہازوں کی غرقابی کی وجہ بنا ۔ اس کا سب سے مشہور نشانہ برطانوی نیوی کا ڈسٹرائیر ایچ ایم ایس شیفلڈ بنا تھاجسے ارجنٹائن ائیر فورس کے آتلانٹک جہاز نے ایکزوسیٹ سے تباہ کیا تھا ۔ عراق ایرن جنگ میں ایکزوسیٹ میزائیل کا نشانہ عراقی پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے امریکی اولیور فریگیٹ یو ایس ایس سٹارک بنی تھی ۔ پاکستان اس کے پہلے تین ماڈل استعمال کرتا ہے ۔ یہ ایک بھر پور میزائیل طاقت بن کر پاکستان نیوی میں انڈکٹ ہوا تھا اور اب تک ہے ۔ نیوی کی ہر سب میرین میں یہ موجود ہے اور پاکستان نیول ایوی ایشن کے بیڑے میں یہ سیی کنگ ہیلی کاپٹرز اور اٹلانٹک جہازوں پر نصب ہوتا ہے ۔ تو نیول رول کے لئے مخصوص میراج جہازوں کے سکواڈرن نمبر 8 حیدرز کے پاس بھی ہے جو بحر ہند اور بحیرہ عرب کے اوپر ایکزوسیٹ سے لیس پٹرولنگ کرتے ہیں

No comments:

Post a Comment