Monday, September 11, 2017

ایک خوفناک تجربے کی کہانی ، جس سے ھمیشہ انکار کیا جاتا رہا ھے۔۔

آج میں ایک اور امریکی تجربے کا بتانے جا رہا ھوں جس کی ھمیشہ پردہ داری کی گئی ہے اسے چھپانے کی سرتوڑ کوشش کی جاتی رہی ھے۔ لیکن وہ کسی نہ کسی طرح منظرعام پر آ ہی گیا۔ گوکہ اس تجربے میں استعمال ھونے والے اپنی قوم کے انسانوں کی ھڈیوں تک کو راکھ بنا کر دنیا سے غائب کر دیا گیا تھا۔

میری نفرت کا سبب ایسے ہی انسانیت سوز تجربات ہیں جن میں انسانوں کو بے زبان جانوروں کی طرح استعمال کیا گیا۔ ایک ایسا ہی تجربہ میں جس میں ایندھن کے طور پر امریکی فوج کے سپاہیوں افسروں کو استعمال کیا گیا تھا۔

یہ سنہ 1943 کے جون کی اٹھائیس تاریخ کا واقعہ ہے۔ اس روز امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یوایس ایس ایلڈرگ ڈی ای (ڈسٹرایر اسکارٹ) 173پر ٹنوں وزنی تجرباتی برقی آلات نصب کیے گئے۔ یہ ایک انتہائی خوفناک تجربے کی تیاریاں تھیں۔ اس بھیانک تجربے کا مقصد امریکی بحری جہازوں کو دشمنوں کی نظروں سے اوجھل کرنا تھا۔اس تجربے کی بنیاد مشہور سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن کی ایک تھیوری پر رکھی گئی تھی۔ ٹھیک چوبیس دن بعد بائیس جولائی سنہ 1943 کی صبح نو بجے جہاز پر نصب پاور جنریٹرز کو آن کردیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک وسیع مقناطیسی میدان بننا شروع ہوا۔ چند ہی لمحوں میں گاڑھی سبزمائل دھند جہاز کے اطراف میں پھیلنا شروع ہوگئی اور کچھ ہی دیر میں یہ دھند جہاز سمیت غائب ہوگئی اور اس جگہ جہاں کچھ دیر قبل جنگی جہازایلڈررگ لنگرانداز تھا وہاں پُرسکون پانی اور سبز دُھند کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ بہ ظاہر اس ابتدائی تجربے کی کام یابی نے ساحل پر موجود امریکی بحریہ کے اعلیٰ افسران اور سائنس دانوں کو خوشی سے نہال کردیا۔جہاز نہ صرف انسانی آنکھ بل کہ عملے سمیت راڈار کی نظروں سے بھی اوجھل تھا۔ پندرہ منٹ بعد عملے کو جنریٹرز بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ جنریٹرز بند ہوتے ہی مقناطیسی میدان ختم اور سبز سبز دھند چھَٹنے لگی، ایلڈررِگ سطح آب پر نمودار ہونا شروع ہوا۔ ساحل پر بیٹھ کر تماشا دیکھنے والوں کے لیے تو بہ ظاہر تو یہ ایک کام یاب تجربہ تھا لیکن ایلڈر رگ پر موجود عملے کے لیے یہ تجربہ کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ اس بھیانک تجربے میں جہا ز پر موجود انسانوں پر کیا گزری یہ بتانے کے لیے کوئی فرد موجود نہ تھا۔جہاز کے عرشے پر موجود عملے کے کچھ ارکان کے جسم پگھل کر دھاتی فرش سے چپک گئے تھے، اور جہاز کے نچلے حصے میں موجود عملے کی دماغی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ امریکی بحریہ نے ابتدائی تجربے کی بھینٹ چڑھنے والے عملے کا فوری تبادلہ کرکے ایلڈر رگ پر نیا عملہ تعینات کردیا۔
گو کہ جہاز سطح آب اور راڈار کی نظروں سے تو غائب ہوگیا تھا، لیکن اس تجربے کے انسانوں پر مرتب ہونے والے خوف ناک اثرات نے سائنس دانوں اور بحریہ کے اعلی حکام کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا۔ طویل مشاورت کے بعد اس تجربے کو تھوڑی ترمیم کے بعد دوبارہ دہرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکام نے اس تجربے میں تھوڑی تبدیلی کرتے ہوئے پورے جہاز کو اوجھل کرنے کے بجائے اسے صرف راڈار کے لیے غیر مرئی بنانے کا فیصلہ کیا۔

ایک بار پھر ٹھیک تین مہینے بعد 28اکتوبر1943کی شام سوا پانچ بجے ایلڈررِِگ پر حتمی تجربہ کیا گیا۔اس زمانے میں میڈیا زیادہ ایکٹو نہ ہونے اور عملے کے نیم پاگل ہوجانے کے بعد دنیا کو اس بھیانک تجربے کے بارے میں بتانے والا کوئی نہیں تھا ، لیکن کُھلے سمندر میں موجود امریکی مرچنٹ جہازایس ایس اینڈریو فیوروسیتھ پر موجود ایک افسر کارل ایم ایلین نے تجربے کے آنکھوں دیکھے حالات منظرعام پر لائے ۔تجربے کے وقت ایس ایس اینڈریو جہاز کے عرشے پر موجود کارل ایم کا دعویٰ تھا کہ اس نے فلاڈیلفیا کے تجربے کا حصہ بننے والے جہاز یو ایس ایس ایلڈررگ کو خود اپنی آنکھوں سے غائب اور تجربے کے مقام سے ساڑھے تین سو کلومیٹر دور نورفوک ورجینیا کے سمندر میں ٹیلی پورٹ ہوتے دیکھا۔ اس بھیانک تجربے کے نتیجے میں جہاز پر موجود عملے پر کیا بیتی اس پر بھی متضاد کہانیاں موجود ہیں۔ اس بات کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس ہول ناک تجربے کو خفیہ رکھنے کے جہاز کے عملے کی برین واشنگ کی گئی تھی۔ تاہم امریکی بحریہ کی جانب سے اس تجربے کی خبروں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ہمیشہ تردید کی جاتی رہی ہے۔1963میں امریکی مصنف ونسینٹ گیڈیز نے ’’انویزیبل ہوریزنز: ٹُرو مِسٹری آف دی سی‘‘ کے نام سے ایک کتاب شایع کی، جس میں انہوں نے فلاڈیلفیا اور اس جیسے ناکام تجربات کو تفصیل سے بیان کیا۔ 1979 میں امریکی ماہر لسانیات چارلس برلٹز اور یو ایف او لوجسٹ (اُڑن طشتریوں پر تحقیق کے ماہر) ولیم ایل مور نے فلاڈیلفیا کے تجربے پر ایک مفصل کتاب ’’دی ٖفلاڈیلفیا ایکسپیری مینٹ : پروجیکٹ انویزی بلیٹی‘‘ کے نام سے شایع کی۔ اس کتاب میں ولیم نے دعویٰ کیا،’’البرٹ آئن اسٹائن نے ’یونی فائیڈ فیلڈ تھیوری‘ کو مکمل کرنے کے بعد اپنی موت سے قبل تباہ کردیا تھا۔‘‘ مور نے یہ دعویٰ کارل ایلین (امریکی مرچنٹ میرین ایس ایس اینڈریوفروسیتھ پر تعینات ملاح جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر فلاڈیلفیا تجربے کی متنازعہ فرضی کہانی کو عوام میں مشہور کیا) کے مشہور ماہرفلکیات اور اُڑن طشتریوں پر کئی کتابوں کے مصنف مورس کے جیسپ کو لکھے گئے خطوط کی بنیاد پر کیا۔ اس بارے میں دو نظریات پیش کیے جاتے ہیں پہلے نظریے کے مطابق یہ تجربہ مبینہ طور پر آئن اسٹائن کی وضح کردہ طبیعات کی ’’یونی فائیڈ فیلڈ تھیوری‘‘ کی بنیاد پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن (برقی مقناطیسی تاب کاری) اور کشش ثقل کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے مقناطیسی میدان اور کشش ثقل کو ایک جگہ پر مرتکز کرکے کسی ٹھوس شے کو غیرمرئی بنانا تھا۔اس تجربے کے بارے میں بہت سے نظریات پیش کیے جاتے رہے ہیں ایک نظریے کے مطابق اس تجربے میں شامل ریسرچرز کا خیال تھا کہ بڑے الیکٹریکل جنریٹرز استعمال کرتے ہوئے اگر روشنی کو کسی شے پر انعطاف (شعاعوں کو منتشر کرنا) کے ذریعے ایک مخصوص زاویے سے جھکاتے ہوئے ڈالا جائے تو وہ شے غیرمرئی ہوجائے گی۔ جہازوں کے غیرمرئی ہونے کے خیال نے امریکی بحریہ کو اس تجربے پر اکسایا اور انہوں نے اس تجربے کے لیے مالی وسائل مہیا کیے۔

اس کے متعلق دوسرا نظریہ یہ  ہے کہ محققین آئن اسٹائن کی کشش ثقل کو سمجھنے کی کوشش کے طور پر سمندر کی تہہ میں کسی بے ترتیبی کی تلاش کے لیے مقناطیسی اور تجاذب (کشش ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والا کھنچاؤ) کی پیمائش کر رہے تھے۔ اور اس کے لیے امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس ایلڈرگ کو منتخب کیا گیا اور فلاڈیلفیا شپ یارڈ پر اس جہاز میں ضروری آلات نصب کیے گئے۔ اس تجربے کی شروعات 1943کے موسم بہار میں کی گئی۔ محدود پیمانے پر کیے گئے آزمائشی تجربے کو کام یاب قرار دیا گیا۔
موقع پر موجود کچھ لوگوں  کے مطابق’’اس تجربے میں ایلڈررگ تقریباً نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا اور اس کی جگہ گہرے سبز رنگ کی دھند نظر آرہی تھی۔ کچھ قیاس آرائیاں یہ بھی ہیں کہ اس ٹیسٹ کے بعد جہاز پر سوار عملے کے کچھ افراد نے متلی کی شکایت کی تھی۔ غائب ہونے کے بعد جہاز جب منظر عام پر آیا تو کچھ ملاح جہاز کے عرشے پر دھاتی ڈھانچے سے چپکے ہوئے تھے، جب کہ کچھ ملاح مکمل طور پر ہوش و حواس سے بے گانہ ہوچکے تھے۔ یہ نتائج دیکھ کر بحریہ نے اس تجربے میں کچھ ترمیم کی درخواست کرتے ہوئے یو ایس ایس ایلڈر رگ کو راڈار سے اوجھل کرنے کی درخواست کی گئی۔
ابتدائی تجربے کی ناکامی پر یہ تاویل پیش کی گئی کہ آلات کو صحیح طریقے سے ری کیلیبریٹ نہیں کیا گیا تھا اور اس تجربے کو 28اکتوبر1943کو دوبارہ دہرایا گیا۔ اس مبینہ تجربے میں جہاز کے گرد ایک انتہائی شدید نوعیت کا مقناطیسی میدان تخلیق کیا گیا جس نے راڈار کی لہروں کا رُخ تبدیل کردیا۔ اس مقصد کے لیے ایلڈررگ کے عرشے پر موجود چار مقناطیسی کوائلز کو پاور فراہم کر نے کے لیے 75 کلو واٹ کے دو بڑے جنریٹرز، تین ریڈیو فریکوئنسی ٹرانسمیٹرز (ہر ٹرانسمیٹر 2سو میگاواٹ کا تھا)، تین ہزار 6L6 پاور ایمپلی فائر ٹیوبز، خصوصی طور پر تیار کردہ سنکرنائزنگ اور ماڈیولیشن سرکٹس اور وسیع برقی مقناطیسی میدان بنانے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے آلات نصب کیے گئے۔ جنہیں ایک مخصوص ترتیب سے استعمال کرنے کی صورت میں یہ مقناطیسی میدان جہاز کے اطراف موجود روشنی اور صوتی لہروں کا رُخ موڑ کر جہاز کو دشمن کی نظروں سے اوجھل کردیتا۔
اس تجربے کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک کامیاب تجربہ تھا ماسوائے اس کے کہ جہاز طبعی طور پر نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد واپس آگیا تھا ۔ وہ (سائنس داں) جہاز کو آنکھوں سے اوجھل کرنا چاہتے تھے لیکن اس کے بجائے وہ ٹیلی پورٹ (ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا) ہوگیا تھا۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ فلاڈیلفیا کا تجربہ اس تحقیق کا حصہ تھا کہ کس طرح آئن اسٹائن کے نظریے ’’یونی فائیڈ فیلڈ تھیوری فار گریویٹیشن اینڈ الیکٹریسٹی‘‘ کو سمندر میں جہازوں کو برقی کیموفلاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔آئن اسٹائن کی یہ تھیوری جرمنی کے پروشین سائنٹیفک جنرل میں 1925تا1927کے درمیانی عرصے میں شایع ہوئی تھی۔ تاہم اسے بعد میں نامکمل ہونے کی وجہ سے واپس لے لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کا مقصد بحری جہاز کو دشمنوں کے راڈار اور تارپیڈوز سے بچانے کے لیے شدید ترین برقی مقناطیسی میدان کی مدد سے ماسک (نظروں سے اوجھل کرنا) چڑھانا تھا۔ اس تحقیق کو بعد میں برقی مقناطیسی میدان کو پانی کے بجائے ہوا میں راڈار سے اوجھل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

فائنل تجربے میں اسی طریقۂ کار کو دہرایا گیا اور جنریٹرز کے آن ہوتے ہی نیلی روشنی کے جھماکوں میں جہاز پانی سے غائب ہو گیا اور چند منٹ بعد ہی ریاست ورجینیا کے ساحلی علاقے نورفوک پر کچھ دیر دکھائی دینے کے بعد دوبارہ فلاڈیلفیا نیول یارڈ پر نمودار ہوگیا۔ اس بار بھی کریو کے کچھ ارکان زخمی ہوئے، کچھ ایسے غائب ہوئے کہ پھر کبھی اُن کا سراغ نہ ملا، کچھ پاگل ہوگئے، جب کہ پانچ ارکان کا جسم پگھل کر جہاز کے دھاتی ڈھانچے سے چپک گیا تھا۔ اس بار بھی جہاز کے سارے عملے کو دماغی طور پر ان فٹ قرار دے کر فوج سے فارغ کردیا گیا۔

میں ذاتی طور پر اسے ٹائم ٹریول یعنی وقت میں پہلی بار سفر بھی کہتا ہوں ۔

یہ تجربہ بھی امریکی تاریخ کے بے رحم تجربات کا سلسلہ ھے جس میں امریکہ کی اپنی ہی فوج کے لوگ استعمال کئے گئے مگر ھمیشہ اس کی حقیقت کے بارے نفی کی گئی۔۔

#PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment