Monday, September 11, 2017

جوہیمن ابن محمد بن سیف الاوطیبی" نامی شخص نے اپنے سینکڑوں دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر قبٖضہ کر لیا اور اعلان کیا

20 نومبر 1979ء میں "جوہیمن ابن محمد بن سیف الاوطیبی" نامی شخص نے اپنے سینکڑوں دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر قبٖضہ کر لیا اور اعلان کیا
کہ "اسکا کزن محمد بن عبد اللہ القحطانی (نعوذ باللہ) امام مہدی ہے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو اس کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہئے۔۔۔!" اور خانہ کعبہ میں موجود سینکڑوں حاجیوں کو یرغمال بنا لیا۔
یہ شخص نجد کے امیر ترین خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا دادا شیخ عبدالعزیز کا دست راس بھی رہا تھا۔ اوطیبی اور قحطانی کی ملاقات جیل میں ہوئی تھی۔ اوطیبی، قحطانی کی شخصیت سے متاثر ہوا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اور بہت سے متبعین کو اپنے ساتھ ملا لیا۔
قحطانی کے ماننے والے صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ کویت اور مصر میں بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ چونکہ اوطیبی کے پاس کافی دولت اور طاقت موجود تھی، اور یہ سعودی شیوخ کا امریکہ اور یورپ کے ساتھ اتحاد کا سخت مخالف تھا۔ کہتے ہیں یہ بڑا زبردست مبلغ اور تعلیم یافتہ شخص تھا۔ اس کا کہنا تھا "چونکہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے اس لئے تمام مسلمانوں کو امام مہدی کی بیعت کر کے امریکہ اور یورپ کے خلاف متحدہ جدوجہد کرنی چاہیئے۔۔۔!"، اس لئے اس نے کعبہ میں موجود لوگوں کو قحطانی کی زبردستی بیعت کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا۔
جوہیمن اوطیبی کے اس عمل سے پوری دنیا کے مسلمان سناٹے میں آگئے اور فوری طور پر دنیا بھر کے علماء نے اس کے خلاف فتویٰ دیا اور خانہ کعبہ کے اندر کاروائی کرنے کی بھی اجازت دی۔ وہاں سعودی آرمی اور فرنچ آرمی موجود تھی۔ دہشت گردوں کے پاس سنائپرز اور شارپ شوٹرز تھے جنہوں نے مسجدالحرام میں جگہ جگہ پوزیشینیں سنبھال لیں تھیں۔ دو دن تک مقابلہ ہوا لیکن سعودی اور فرنچ آرمی ہلاکتوں کے باوجود ذرا بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی زبردست بے چینی تھی اور جنرل ضیاء الحق نے بھی ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ ترتیب دیا تھا اور وہ مسلسل سعودی عرب سے رابطے میں تھے کہ انہیں آپریشن کرنے کا موقع دیا جائے۔
بالآخر دو دن بعد پاک فوج کو کاروائی کرنے کے لیے بلایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ پاک فوج کے اس دستے کی قیادت جو کپتان کر رہے تھے۔ اس نے آپریشن سے پہلے کعبے کی حرمت کے لیے جوانوں کو جان دینے پر آمادہ کیا۔ نہایت کم وقت میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی۔ پاکستانی کمانڈوز نے دہشت گردوں کے سنائپرز سے نمٹنے کے لیے ایک عجیب ترکیب استعمال کی اور پورے مسجدالحرام میں پانی چھوڑا گیا۔ پھر اس دستے کے کمانڈر نے سعودی حکومت سے فرمائش کی کہ "اسکے جوانوں کو ہیلی کاپٹرز کی مدد سے مسجد میں جگہ جگہ ڈراپ کیا جائے۔۔۔!" سعودی حکومت نے اس جان لیوا خطرناک عمل میں اپنے شدید خطرے کا اظہار کیا لیکن پاک آرمی کے اصرار پر انہیں یہ کام کرنا پڑا اور پاک فوج کے جوانوں کو ہیلی کاپٹرز سے مسجد میں اُتارا جانے لگا۔
پاک فوج کے جوانوں کو مسجد میں اُتارے جانے سے چند منٹ پہلے پوری مسجد کی گیلی زمین میں کرنٹ چھوڑا گیا دہشت گردوں کے شارپ شوٹرز اور سنائپرز اِس ہنگامی صورتحال کیلئے بالکل بھی تیار نہ تھے، چانچہ وہ اپنے اوزار اور ہتھیار وغیرہ چھوڑ کے کچھ دیر کے لیے غیر مؤثر ہوگئے۔ عین اُسی وقت پاک فوج نے غیر معمولی سرعت سے تمام دہشت گردوں پر قابو پا لیا اور بغیر کسی جانی نقصان کے سب کو فوری طور پر گرفتار کر کے تمام یرغمال حاجیوں کو رہائی دلائی گئی۔
آج پوری دنیا میں پاکستان آرمی کا سکہ بولتا ہے تو اِس کی وجہ صرف و صرف یہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے پاک اور مقدس گھر کی حرمت کو پائمال ہونے سے بچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ اور پاک فوج کے حاسدوں کو نیست و نابود کرے۔۔۔

No comments:

Post a Comment