Wednesday, October 25, 2017

جنگیں اور پاکستان دنیا کی تاریخ جنگوں سے عبارت ہے

ہر وقت کسی نہ کسی جگہ، بلکہ جگہ جگہ جنگیں چلتی رہی ہیں، لیکن ان جنگوں میں مختلف مذاہب، ممالک اور عناصر باہم مقابل رہے ہیں۔

 آج کا دور جس طرح گزر رہا ہے اور دنیا بھر میں جہاں خوفناک خونریزی اور جنگیں ہورہی ہیں۔ ان میں اگر بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو ہر جگہ ایک فریق مسلمان ہے اور یہ وہ فریق ہے جس کے لیے شکست لکھی ہوئی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب اور مختلف نظریات رکھنے والی طاقتیں مسلمانوں ہی سے لڑرہی ہیں۔
اس وقت خطۂ عرب میں جنگوں کی آگ کے شعلے انتہائی بلندیوں پر ہیں۔ عراق، یمن، شام، فلسطین اور افریقا میں لیبیا، سوڈان، وسطی افریقا، جنوبی ایشیا میں بھارت، برما اور مشرق بعید میں انڈونیشیا وغیرہ میں مسلمان قتل عام کا سامنا کررہے ہیں۔

یعنی ساری دنیا اپنے تمام ہتھیاروں سے مسلمان آبادیو ںپر حملہ آور ہے۔ مسلمانوں کے پاس دفاعی قوت اور سیاسی سمجھ بوجھ انتہائی کمزور ہے۔کئی جگہ ان حملہ آور دشمنوں نے حملہ کرکے جنگ بھڑکادی، پھر وہاں کی مسلم آبادی کو دو حصوں میں یا کئی حصوں میں تقسیم کر کے اس آگ کا ایندھن بننے پر لگا دیا اور خود دور بیٹھ کر تماشا کرنے لگے۔

نتیجہ یہ کہ اس وقت پاکستان کے علاوہ کوئی مسلم ملک ایسا نہیں ہےجسے عسکری طور پر عالمی طاقتوں کی فہرست میں لایا جاسکے، چنانچہ روز مسلمانوں پر بمباری ہوتی ہے، درجنوں مسلمان ممالک سے آگ اور بارود کا دھواں اُٹھ رہا ہے۔ غیرمسلم ممالک میں مسلمان پے درپے قتل ہورہے ہیں۔ ان کا گھر بار، عزت و آبرو اور جان و مال ایک متاعِ بے بہا ہے۔
جس کو ہاتھ لگے وہیاس کا مالک و مختار سمجھا جاتا ہے۔بھارت کے 30 کروڑ سے زائد مسلمان وہاں کے جنونی شدت پسندوں کے نرغے میں ہیں، برما میں شہر کے شہر اجاڑ دیے جاتے ہیں اور سینکڑوں ہزاروں لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔

 زندہ انسانوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے مختلف طبقات دہائیاں دیتےہیں، فریاد کرتے ہیں کہ کوئی دادرَسی کرنے والا ہو، کوئی مدد کے لیے آنے والا ہو، یہ بھی معلوم ہے کہ دنیا میں دو ہی فریق ہیں، ایک مسلمان جو مار کھارہا ہے۔ وہ اپنی مدد کیا کرے؟
 دوسرا فریق حملہ آور ہے، وہ مدد نہیں، مسلمانوں کو ختم کرنے کا خواہاں ہے۔ اس سے مدد کیتوقع کیا ہوسکتی ہے؟ تیسرا کوئی ہے نہیں جسے مدد کے لیے پکارا جائے۔ رہے عالمی ادارے جو عالمی امن کے قیام کے دعوے کرتے ہیں تو وہ خود اسی حملہآور بلاک میں درپردہ شامل ہیں، انہی کے سامنے، انہی کی مرضی سے سب کچھ ہورہا ہے۔

 برما اور فلسطین میں عراق و افغانستان میں، شام و سوڈان میں یہی لوگ بربادیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔ظاہری دنیا میں تمام مسلم دنیا کے لیے اُمید کی ایک ہی کرن رہ گئی ہے۔ وہ ہے پاکستان، جس کے پاس عالمی معیار کیعسکری طاقت ہے جو اگر اندر سے مستحکم ہو تو کسی بھی طاقت کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جس کے اپنے اندرونی مسائل اس کے پائوں کی زنجیر نہ ہوں تو وہ دنیا بھرمیں مسلمانوں کے حقوق کے لیے مؤثر آواز اُٹھا سکتا ہے اور بہت سی وجوہ کی بنا پر بڑے ممالک اور عالمی اداروں کو مسلمانوں کے قتل عام رکوانے پر آمادہ کرسکتا ہے۔پاکستان کے پائوں میں بیڑیاں اندرونی ہیں، بیرونی نہیں۔ یہاں باصلاحیت قیادتکا خلا ہے۔
 بدنظمی اور خودغرضی کی وبا ہے۔ دور اندیشی اور بامقصد منصوبہ بندی کا قحط ہے، اس لیے ایٹمی طاقت، ماہر ترافواج، کامیاب عسکری ٹیکنالوجی، رعب دار میزائل سسٹم کے باوجود یہ ملک اقوام عالم میں اپنی وہ حیثیت اب تک صحیح طور پر نہیں منوا سکا ہے جو اس کی حقیقت ہے۔ یہاں کی سیاسی جماعتوں کی کم فہمی، خودغرضی اور بے بصیرت قیادتوں نے ملک کی سیاست کو ایک ناکام اور فرسودہ انداز دیاہے جس کا اثر ملکی وقار اور ساکھ پر بُرے نتائج مرتب کررہا ہے۔

 مسلم دنیا کیواحد اُمید اور واقعاتی طور پر ایک مسلمہ بین الاقوامی طاقت پاکستان کو ایک متحد قوم، کامیاب سیاست اور صالح قیادت کی ضرورت ہے۔ یہی قوم کی آرزو، نوجوانوں کا خواب اور بزرگوں کی اُمید ہے۔اگر ہم تمام عالم کے مسلمانوں کے بارے میں دل میں ایک درد رکھتے ہیں۔ ان پر ہونے والے مظالم ہمارے دلوں کو زخمی کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان کی کسی طرح مدد کریں تو اپنے آپ کو مدد کے قابل بنانا ضروری ہے۔
دوسرے مسلمانوں کی مدد کو ہم اس وقت پہنچ سکتے ہیں جب ہم آپس میں ایک ہوں، ہماری قوت منتشر نہ ہو، ہمارا ملک داخلی طور پر مستحکم ہو، ہمارے داخلی انتشار اور تفرقوں سے ہمیں نجات ملے تو ہم کسی کی مدد بھی کرسکتے ہیں۔

عالمی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے لیے پاکستان کا عظیم سے عظیم تر ہونا ضروری ہے، جس طرح امریکا، روس، یورپاور بھارت عالمی فیصلوں میں ایک وزن دار حیثیت رکھتے ہیں وہ حیثیت حاصل کرنے کے لیے اپنی سیاست کو لسانیت، علاقائیت، فرقہ واریت اور خودغرضی کے منحوس گرداب سے نکالنا ہوگا۔
وہ سیاسی عناصر جو قومی منصوبوں میں بلاوجہ رکاوٹیں ڈالتے ہیں، جو بدعنوانی کے دھبوں سے داغدار ہیں، جنہیں حقیر ذاتی مفادات عزیز ہیں، جو سنجیدہ اور باوقار انداز سیاست کو جانتے ہی نہیں۔ ایسے عناصر کو قوم بالکل مسترد کردے اور اگر قومی سلامتی کے ادارے ایسے عناصر سے ملک و قوم کی جان چھڑاسکتے ہیں تو یہ ان کا فرض ہے کہ وہ کام فوری طور پر کریں۔

اُمت مسلمہ کو ایک طاقت کی ضرورت ہے۔ ایک امید کی ضرورت ہے جسے ممکنہ طورپر پاکستان فراہم کرسکتا ہے۔
 پاکستان جیسی بڑی عسکری طاقت سے دوسرے مسلم ممالک اور ان میں رہنے والے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہ ہو تو یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔

اس طاقت کی قدر کریں، اس کو مضبوط سے مضبوط بنانے میں ہر فرد، ادارہ اور جماعت اپنا کردار ادا کرے۔
یہ نہ صرف ہمارے مستقبلاور آیندہ نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے.... بلکہ پورے عالم اسلام کی بقا کا مسئلہ ہے۔

No comments:

Post a Comment