جنرل راحیل شریف نے ایک میٹنگ میں باقاعدہ ثبوت پیش کئے تھے ....جن سے ثابت ہوتا تھا کہ اس وقت پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے تھے۔
وہ خطرات کیا تھے، ان کی نوعیت کیا تھی، اس بارے میں مزید گفتگو کرنے سے انکار کردیا کیونکہ معاملہ حساس نوعیت کا تھا۔
جس میٹنگ کا حوالہ دیا وہ 2015 کے اوائل میں منعقد ہوئی جس میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی شریک ہوئے۔
معاملہ اتنا حساس تھا کہ وزیردفاع کو بھی اس میٹنگ سے باہر رکھا گیا اور وجہ اس کا بڑبولا ہونا تھا۔
راحیل شریف نے شرکا کے سامنے چند آڈیو ٹیپس، کچھ ویڈیو کلپس اور کچھ دستاویز رکھیں جن کے مطابق 2015 کے وسط یا اواخر تک، ایران، انڈیا اور افغانستان کی فوجیں مل کر پاکستان میں سرجیکل سٹرائیکس کا پروگرام بنا رہی تھیں۔ جونہی یہ سٹرائیکس شروع ہوتے، پاک فوج کی توجہ ان پر مبذول ہوجاتی اور پھر ملک کے اندر موجود ہشتگردوں کی مدد سے ملک کے طول و عرض میں سانحہ پشاور کے طرز کے واقعات شروع کروا دیئے جاتے۔
یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہونا تھا کہ ہمیں سنبھلنے کی مہلت نہ ملتی اور پھر جنرل اسمبلی کے زریعے ایک قرارداد منظور کروا کر پاکستان کے نیوکلئیراثاثوں کی حفاظت کے نام پر انٹرنیشنل محافظوں کا دستہ تعینات کروا دیا جاتا۔
اس دستے کی سربراہی امریکہ یا برطانیہ کی بجائے کسی مسلمان ملک کے جنرل کے ہاتھ میں دی جانی تھی، یہ ملک مصر یا اردن تھا لیکن وہ جنرل بالواسطہ طور پر تمام ہدایات براہ راست امریکہ سے ہی لیتا۔
انڈیا، ایران کی طرف سے ہونے والے سرجیکل سٹرائکس کو ڈیل کرنے کیلئے پاک فوج کو ہی آگے کیا جانا تھا جبکہ انٹرنیشنل دستے کی ڈپلائمنٹ ہمارے حساس مقامات پر ہونا تھی اور قواعد کی رو سے ہمیں اپنی تمام تنصبات کے نقشے ان کے حوالےکرنا پڑتے۔
یہ تھا وہ پلان جس کی بنیاد پر کہا کہ پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق تھے اور ابھی بھی ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ ایران نے اپنی اس دھمکی کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے علاقوں میں کاروائی کرسکتا ہے، انہی الفاظ میں انڈیا اور افغانستان بھی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
راحیل شریف جانتا تھا کہ وہ انڈیا، ایران اور افغانستان کے سرجیکل سٹرائکس کا بخوبی مقابلہ کرسکتا ہے، اسے اصل فکر دہشتگردوں کی تھی جن کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اپنے حفاظتی دستے پاکستان ڈپلائے کرنا تھے۔
چنانچہ راحیل شریف نے اپنا سارا فوکس ان دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں صرف کیا اور اللہ کی مہربانی سے یہ خوفناک پلان ناکام بنا دیا۔
اب آپ ڈان لیکس کو ایک مرتبہ پھر سٹڈی کریں جس کے زریعے پاک فوج کو دہشتگردوں کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ پلان ایک مرتبہ پھر وہی تھا کہ پاکستان کے خلاف بین الاقوامی قرارداد منظور کروائی جائے۔
نئے آرمی چیف جنرل باجوہ کی تقرری پر ساجد میر کے زریعے ان کے قادیانی ہونے کا شوشہ بھی اسی گیم پلان کا حصہ تھا کہ آرمی کے خلاف عوام میں نفرت پھیلائی جائے تاکہ انارکی کی صورتحال پیدا ہوسکے۔
اگر نوازشریف صرف کرپٹ ہوتا تو ہم پھر بھی برداشت کرلیتے، وہ تو اپنے اقتدار بچانے کیلئے بین الاقوامی طاقتوں کا آلہ کار تک بننے کو تیار تھا، اور صرف نوازشریف ہی نہیں، آدھی سے زیادہ ن لیگ کی موجودہ قیادت بھی اس کی ہمنوا ہے۔
اپنی صفوں میں موجود بھیڑیئے پہچانیں..
قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے!!!

No comments:
Post a Comment