ابو بکر البغدادی کی انتہا پسند اولادیں۔۔۔ یہ سمجھتی ہیں جب سعودیہ، ایران، روس چائنہ اور ترکی سمیت پوری دنیا۔۔۔ ا ف غ ا ن۔۔ ط ا ل ب ا ن ۔۔۔۔کے خلاف کھڑی تھی تب ہمیں امریکا کو للکار دینا چاہیے تھا کہ آؤ ہم۔۔۔ ا ف غ ا ن۔۔ ط ا ل ب ا ن ۔۔۔کے ساتھ ہیں آ کے ہم سے بھی جنگ کرو اور پاکستان کو ملیا میٹ کرو۔
کونڈا لیزرا رائس۔۔۔ اور بش کے نا جائز دیسی سیکولر بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر پیسہ لے لے کر امریکہ کو کنگال کر دیا۔۔۔۔ پر ا ف غ ا ن۔۔ ط ا ل ب ا ن کے خلاف کاروائی نہیں کی۔
کیا ہمیں پاگل کتے نے کاٹا تھا۔۔۔ جو امریکہ کے کہنے پر امریکہ کے دشمن سے لڑتے؟
آج او آئی سی اور اسلامک الائینس سمیت 56 اسلامی ریاستیں موجود ہیں جو روہنگیا کہ معاملے پر آنگ سانگ سوچی کا ایک بال تک نہیں اکھاڑ سکی ہیں۔
آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان ا ف غ ا ن۔۔ ط ا ل ب ا ن کا ساتھ دیتا اور امریکا پاکستان پہ حملہ کر دیتا تو یہ اسلامی ریاستیں امریکا سے پاکستان کےلیے ٹکر لیتیں؟
سبحان اللہ ۔۔۔داد دینی پڑے گی ایسا سوچنے والوں کی عقل کو۔
نسیم حجازی کے ناولوں میں زندہ رہنے والے خیال پرستوں کی اطلاع کےلیے عرض ہے کہ قرون وسطی کا دور گزر چکا تھا تب۔ یہ 2001 تھا جب مسلمان مسلمان کے پیچھے نماز ادا کرنا بھی گناہ سمجھنے لگا تھا، حتی کہ آج بھی ایسا ہی ہے۔ جب ہمارا اتحاد قائم تھا یہ اس وقت کی بات ہے کہ چند مسلمان خواتین کےلیے محمد بن قاسم نے پورا سندھ آزاد کروا لیا تھا۔
آج وہ اتحاد کہاں ہے؟ سوائے فرقہ ورانہ اور جغرافیائی مفادات کے اور کہیں پہ کچھ بھی سانجھا نہیں ہمارے مسلمان ملکوں درمیان اگر کچھ ہے تو بتائیں۔
وہ اتحادہ پارہ پارہ ہو چکا ہے جس کی رو سے "چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے" والا اصول صادق ہوتا ہے۔ بلکہ آج کل تو کابل کے ایوانوں والے خود بھارت کے ہاتھوں میں کھیل کر ہماری پشت میں کانٹے چھبوتے، چھرے گھونپتے پھر رہے ہیں۔
اگر پاکستان کو یقین ہوتا کہ افغانستان پہ حملے کی صورت میں عرب او ایران پاکستان کی پشت پہ موجود رہیں گے تو پاکستان ایک مختلف پالیسی اپناتا۔ مگر اس وقت عرب کا یہ حال تھا کہ #اسامہ وہاں بھی حکومت کو اتنا ہی مطلوب تھا جتنا امریکہ کو۔
ایران بھی اسے اپنا دشمن سمجھتا تھا تو کیا پاکستان یہ اعلان کر دیتا کہ ہم اس بندے کو سینے سے لگاتے ہیں جو اس وقت دنیا کا مطلوب ترین مجرم بن چکا ہے؟ وہ مجرم تھا یا نہیں یہ الگ بحث ہے لیکن اس سے کسی کو انکار نہیں کہ وہ مطلوب ترین مجرم قرار دیا جا چکا تھا۔
اب ہم آ جاتے ہیں.... کہ پاکستان نے پھر کیا کیا کے جواب پر۔
امریکا پاکستان کی دوستی کو سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر نے ایک مثال سے کچھ اس طرح بیان کیا تھا۔
"امریکا اور پاکستان کی دوستی کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک بوتل میں بند دو بچھو، جن میں سے ہر ایک کا جب بس چلے وہ دوسرے کو ڈنگ مار دے" مشرف کو بزدل کہا جاتا ہے اور طعنہ دیا جاتا ہے کہ ایک فون کال پہ ڈھیڑ ہو گیا تھا۔
مشرف جیسا دلیر لیڈر اگر پوری اسلامی دنیا میں کہیں ملتا ہے ہے تو ڈھونڈ کر لاؤ۔ اس وقت جب پوری دنیا امریکا کا غصہ دیکھ کر دو قدم پیچھے ہٹ چکی تھی یہ مشرف ہی تھا جس نے "#سب_سے_پہلے_پاکستان" کا نعرہ لگایا تھا۔
وہ دن اور آج کا دن امریکہ افغانستان میں کھربوں ڈالر جھونک چکا ہے اور ٹھیک اسی جگہ پہ کھڑا ہے جہاں نائن الیون کے بعد کھڑا تھا۔
تو کیا واقعی مشرف بزدل تھا؟ امریکا کی ہمارے ساتھ دوستی مفادات کی ساجھے داری کا نام ہے۔ پینسٹھ کی جنگ میں جب روس بھارت کی پشت پر کھڑا تھا اس وقت امریکہ پیچھے ہٹ گیا اور پاکستان کو تنہا چھوڑا۔
افغانستان کی جنگ میں جب روس ٹوٹ گیا تھا تب بھی اس علاقے کو جہنم بنانے کےلیے امریکہ یک دم پیچھے ہٹ گیا تھا۔ امریکہ نے ہر موقع پر اپنی طرف سے دو نمبری کا مظاہرہ کیا۔ اس کے باوجود امریکہ کے ساتھ بنا کر رکھنا مجبوری تھی کیوں کہ دوسری طرف بھارت روس کی ساتھ کھڑا رہا، روس ایران کے ساتھ کھڑا تھا۔ ایران کی سعودیہ سے کشیدگی اور بھارت کی ہم سے دشمنی۔
ہمیں امریکی اور روسی بلاک میں سے ایک کا حصہ بننا ہی تھا۔ لہٰذا ہم نے امریکہ سے بظاہر ہاتھ ملا لیا۔ امریکہ نے دو موقعوں پر ہمارے ساتھ ماضی میں ہاتھ کیا تھا۔ ایک پینسٹھ کی جنگ میں دوسرا سوویت روس ٹوٹنے کے بعد۔ نائن الیون موقع کے بعد ہم نے ہاتھ کر لیا۔ یعنی ہاتھ ملا کر انگوٹھی اور گھڑی ہتھیا لی۔ امریکہ کو ایک طرف کھربوں روپے کا جھٹکا لگا دوسری طرف آج بھی ا ف غ ا ن۔۔ ط ا ل ب ا ن وہیں کے وہیں ہیں۔
یاد رکھیں ہر ریاست کا اپنا ایک بیانیہ ہوتا ہے۔ ہمارا ریاستی بیانیہ امن کا فروغ ہے۔ لیکن ہم امریکہ یا دنیا کے کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں دے سکتے کہ وہ امن اور دھشت گردی کی تعریف خود متعین کرے اور ہم سے اس پر عمل کروائے۔ ہم آج بھی ہر طرح کی دھشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ قربانیاں دھشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری ہیں، جنہیں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے سوائے امریکہ اور بھارت کے۔
باقی ہم نے ہمیشہ اپنے ریاستی مفاد کو مقدم رکھا اور آئندہ بھی رکھیں گے، ریاست کےلیے ہمیں جو بہتر لگا ہم نے کیا جو بہتر لگا ریاست آئندہ بھی کرے گی۔ #PakSoldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment