Tuesday, October 24, 2017

کیا پاکستان اپنے نئے بین البرِآعظمی مزائل کے لئے نیا سیٹلائٹ لانچ کرنے جا رہا ہے؟

11 اگست 2011 میں پاکستان کا کمیونیکیشن سیٹلائٹ لانچ ہوا۔ PakSat-1R نامی یہ سیٹلائٹ چین میں تیار کیا گیا اور اس کی تیاری کے تمام مراحل میں پاکستانی ماہرین چینی انجینئرز کے شانہ بشانہ شریک تھے۔ یہ سیٹلائٹ دُنیا کے جدید ترین سیٹلائٹس میں سے ایک ہے اور پاکستانی اور چینی ماہرین کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سیٹلائٹ کو چین کے خلائی اسٹیشن سے خلا میں بھیجا گیا اور اسے کم از کم پندرہ سال کی مدت کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پاکستان کے اس سیٹلائٹ کو صرف ٹیلی کمیونیکیشن کے مقاصد کے لئے استمعال کیا جاتا ہے۔پاکستان اپنا نیا سیٹلائٹ مارچ 2018 میں لانچ کرنے والا ہے جو کہ ایک آپٹیکل سیٹلائٹ ہے۔ مطلب اس سیٹلائٹ پر دوربینیں اور کیمرے نصب ہونگے۔ بظاہر اس سیٹلائٹ کو پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور براجکٹس کے سلسلے میں نگرانی کے لئے استعمال کیا جانا ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق اس نئے سیٹلائٹ کو سویلین استعمال کے ساتھ ساتھ دفاعی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا۔ممکنہ طور پر پاکستان کے اُس نئے سیٹلائٹ کو پاکستان کی مستقبل قریب میں مزائل ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ پاک فضائیہ کے طیاروں میں جدید نظام کی تنصیب اور خلائی نگرانی اور دشمن ممالک کی جاسوسی کے سلسلے میں ڈیزائن اور استعمال کیا جائے گا۔ اس سیٹلائٹ کی کامیابی پر پاکستان کے Intercontinental Ballistic Missile -ICBM میں جدتّ آئے گی اور پاکستان کے دیگر کروز مزائلز (جن میں پاکستان کا راعد کروز مزائل اور بابر کروز مزائل شامل ہیں) کو اپنے ٹارگٹ تک پہنچانے کے سلسلے میں نئی اور جدید ٹیکنالوجی کا نیا طریقہ متعارف ہوگا۔ صرف یہی نہیں، یہ سیٹلائٹ سینکڑوں دیگر فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہوگا اور پاک فوج اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کو صفِ اوّل کے ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کرے گی۔

No comments:

Post a Comment